اسے مت بولنا کہ میں ایسے بول رہا تھا… ممکن ہے انہیں برا لگے شاید… انکے دامن میں وہ موتی نہیں کہ جو میری جھولی میں ڈال سکیں… احساس اور اہناییت…. نایاب ہوتے ہین…. محبت ہو تب بھی اکثر دینے سے الجھتے ہین… شاید گنہگار ہونے کا ڈر ہوتا ہوگا….
بہرحال کوئی بات نہیں… ہر تم تو اپنے ہو نا تمہیں تو جو جی میں ائے بول سکتا ہوں….
اچھا دل نہ برا کرنا تم…. نہ دے وہ مجھے کیا فرق پڑتا ہے بھلا…..
پر پتہ ہے جب مانگ کے… احساس دلا کے بھی کچھ نہ ملے…. تو پھر ایک وقت اتا ہے کہ جب بنا مانگے بہت کچھ بھی مل جائے تو ویسا ستور اور خوشی نہیں رہتی….
محبت تھوڑی نہ مرتی ہے جاناں ….
بس اسکی چاہت کے ظرف سے گرنے والے احساس، اپناییت، عزت اور چاہت کے وہ موتی…. ان سب کو لینے کی چاہ مر جاتی ہے… جسے پھر زندہ نہیں کیا جا سکتا….
وہ بہت اجنبی ہے میرے لیے….
ایسے لگتا ہے کسی پرائے انسان کی پرایویسی میں مداخلت کر رہا ہوں اور اسکا بس چلے تو قتل ہی کر ڈالے میرا اس مداخلت پہ….
سنو….
مھبت بھی بہت پیارا احساس ہوتا ہے کہ بیک وقت مسکراہٹ اور انسو… باطن اور ظاہر پہ نمودار ہوتے ہیں… اور سمجھ یہ نہیں آتا کہ درد زیادہ ہے… کہ سرور کی کیفیت بلند…. شاید تمہیں پتہ ہو… کہ تم منطق سے سوچتے ہو….
میرے پاس تو احساس ہیں جنکو منطقی پیرائے سے سوچ پانا دقیق عمل ہے…
پر لگ رہا ہے مجھے بھی کہ….
احساس بھی غیر منطقی نہیں ہوتے بھلے اسکے دلائل سمجھ پا رہے ہوں کہ نہیں….
وہ بھی منطق رکھتے ہیں….
میں تو اس محبت کی جستجو میں ہوں نہ کہ جو تم سمیت کہیں سے نہیں ملنے والی….
اور تم یہ چاہتے ہو کہ تھک کے نامراد ہو کر لوٹ جاوں…
تم سے تمہاری مھبت اپنے لیے نہیں مانگوں بلکہ رب سے اسکا قرب چاہوں….
پر رب کی محبت ہو کہ انسان کی ایک نقطہ دونوں میں مشترک ہے یا شاید اور بہت سے ہوں….
وہ یہ کہ
محبت انسان کو مادیت اور دنیا سے کاٹ دیتی ہے….
یعنی اسکے وجود کا مکمل تعلق بس اس ایک تعلق سے جڑ جاتا ہے کہ جسے محبوب کہتے ہیں….
پھر وجود کو کسی اور لزت، کسی اور تعلق، کسی اور تفریح سے زندگی کا احساس ملتا محسوس نہیں ہوتا…
اب یہ فوکس یا توجہ خود بخود سی ہوتی ہے… یعنی نہیں چاہتا کہ تم سے بات کروں پر بے اختیار تمہاری جانب قدم اٹھنے لگتے ہیں… نہین چاہتا کہ تمہارے دھیان کی سر گوشیاں میرے وجود میں قوت گویائی پائیں پر ان کو روک پانے میں بے بس سا ہو جاتا ہوں میں….
ممکن ہے یاد کرنے کے اختیار پہ انتخاب کا حق استعمال کرنے میں بڑی ہی نقاہت محسوس ہوتی ہے…. شاید یہ نقاہت اپنے ارادے کی کمزوری کے باعثِ ہوتی یے….یا جزباتیت کے بگیرے بادلوں کے باعثِ کے جو یا تو آگے بڑھ جاتے ہیں… یا پھر خوب برستے ہیں…
یعنی گر چاہوں تو خود سے کاٹ کے اس احساس کو الگ کر سکتا ہوں میں پر کر پانے کی’ ہمت’ جتا نہیں پاتا کہ میں ایسا کرنا نہیں چاہتا….
مگر اگر میں چاہوں تو اپنے ارادے، انتخاب اور قوت اظہار کی مدد سے اس سب احساسات کو کاٹ کر الگ کر سکتا ہوں تاکہ اپنے وجود کی ہتک سے…. اپنی عزت نفس پر ہڑتے تمہاری بیگانگی، بے پرواہی اور نفرت کے پے در پے طمانچوں سے بچ سکوں….
پر پتہ نہیں… ان طمانچوں کی چوٹ بڑی دردناک ہونے کی باوجود سہ جاتا ہوں اور پھر سے تمہاری چوکھٹ پھلانگ کے تمہارے سامنے اکھڑا ہوتا ہوں..
آخر کیوں…..؟
کیا یہ میری چاہت کی بے بسی یے… ؟
کہ میں تمہارے احساس کی معمولی سی تھپکی کو بھی اپنے لیے مقدس و محترم اور بہترین جانتا ہوں….. جیسے کی اس کے دامن سے اٹھتے اپناییت کے وہ پل…. مجھے آب حیات جیسے محسوس ہوتے ہیں….
کیوں ایسا ہے….
کیا میں جان بوجھکر ایسا سوچنا چایتا ہوں کیونکہ میرے وجود مین موجود چاہت کی طلب اتنی گہری اور شدید ہے کہ میرے احساس کی رگیں جیسے پھٹ جانے کو تیار ہوں اور اگر احساس پھٹ جائیں اور اپنے مقررکردہ راستوں سے ابھر کر بایر نکل آئیں تو کیا ہو گا….؟
یہ تو میں بھی کبھی نہیں سوچ سکا کیا یہ دیوانگی کا عالم ہو گا یا کہ جہالت کا یا گمشدگی کی حالت و کیفیت…. تم تو بہتر سمجھتے ہو تم ہی بتاو نہ کے کیا ہو گا پھر……؟
ممکن ہے میری سانسیں رک جائیں…
بہت ممکن ہے روح اس درد کو سہ نہ پائے…؟
ممکن ہے قلب کی ناتوانی اسے کام کرنے ہی سے روک دے…..
ممکن ہے کہ کچھ بھی نہ ہو…..
مگر شاید میں تمہیں نہیں چاہتا کیونکہ تم چاہت پہ یقین رکھتے نہیں اور مجھے بھی پتہ ہے کہ چاہت، مھبت، عشق سب فلمی، رسمی، ڈرامائی، غیر منطقی و غیر حقیقی، افسانوی باتیں ہیں جن کی وسعت اظہار کی جگہ یا تو شاعروں کے کلام میں ہے…. یا تخیلات کی سلطنت پہ وہ حکمران ہوا کرتی ہیں..
یا پھر…. انسان کے افسانوی لاشعور میں…. اس سب کی حقیقت درحقیقت بڑی ہی بے لطف کرنے والی، بڑی ہی دردناک اور بڑی ہی جفا کشی پہ مبنی ہے….
کوئی بھلا کیسے فدا یو سکتا ہے کسی پر بھی…. چلو مان لیتے ہیں ہو ہی جاتا ہے تو یہ کون سا بڑی بات ہے یہ تو وطن پہ بھی ہوتے ہیں انسان، غیروں پہ بھی یوتے ہین… یعنی جس میں بھی انسانییت ابھی زندہ ہو تو فداکاری تو پھر اس میں ہوتی یے….
تو میں اس سب میں کیا خاص کر سکتا ہوں…..
تو یعنی جو سب بھی سوچ سکتا ہوں کہ وہ کر سکتا ہوں….
تو جو سب بھی کر سکتا ہوں یا کر بھی دوں تو ایسا کیا منفرد ہے کہ جو دوسرے عاشقوں نے نہ کیا ہو….؟
صرف میں نے کیا ہو…..؟
تو کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہیں تمہارے ہی واسطے چھوڑ کر کہیں دور نکل جاوں کہ جہاں پہ تم میرے وجود کی معمولی سی مہک تک نہ پا سکو….. تو تم یہ چاہتے ہو….
تو چلو یہی صحیح….
محبت تو نہ میں کرتا ہوں نہ تم…. بس یہ دعوی ہمارے بیچ ایک امتحان بن کے کھڑا ہے… کہ جسکی سچائی اور حقیقت میں حقیقت کیا یے یہ معلوم کرنا ہے….
کہ کیا واقعی اس سرزمین پہ انسانی وجود میں کمال محبت ہے…. اور جمال مھبت ہے….
اور اگر ہے تو اسکی حقیقی شکل کیا ہے….؟؟؟؟
تو کہتے ہیں… محبت جفا کا نام یے… تو جہاں جفا نہ ہو محبت نہیں ہوتی…. تو اب یہ جفا کیا ہوتی ہے….
مجھے نہیں معلوم کہ محبت میں جفا کسے کہتے ہیں اور اسکے ہونے سے کیا ہوتا ہے….
محبت رخصت ہو جاتی ہے کہ بندہ ہی منتقل منجانب منزل ہو جاتا ہے….؟
‘…. مجھے محسوس ہوتا ہے… کہ جیسے.. محبت انسان کو سب دنیا و مافیا اور اپنی زات تک سے بے نیاز کر دینے والا وہ جزبہ ہے جو انسان کے وجود کو اس ایک نقطہ پہ مرکوز کر دیتی ہے کہ جو دوسرے انسان کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہوتا ہے….یعنی خود کی میں سے مکمل نکالکر دوسرے کے تو میں ڈھل جانا اپنے آپ خود بخود….. .’
بالکل ایسے ہی رب کی محبت کا مطلب بھی یہی ہو جاتا ہے کہ انسان ہر تعلق، ربط، ناطے، رشتے، خوشی ،عم کے ہوتے ہوئے ہر شے سے مکمل بے نیاز اس رب کے عشق میں غرق و گرفتار وجود بن جاتا ہے کہ جس کی زندگی کا ھدف بس اس رب کی اطاوت و بندگی اور عشق کے تقاضوں، لطافتوں، ادب کے قرینوں کے سائے میں پورا کرنا ہے… یعنی انسان کی زاتی یستی، نیست و نابود ہو جاتی ہے اور وہ اہنے آپ میں کسی زرہ بے نشان جیسا رہ جاتا ہے….
اور جان جاتا ہے کہ یہ تو بندہ خاکی ہے اور اس زمین کی مٹی کا رزق ہے اسکی اوقات ہی کچھ نہیں…. تو جب یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے تو درد، ازیت، شرمندگی اور بے حیثیتی کے اس ادراک کے بعد بندہ خدا…. شرمساری، و انکساری کے باعثِ سر تک اٹھا نہیں پاتا زمین میں دھنستا ہی چلا جاتا ہے اور….
…. یہ احساس شرمندگی کے اس نے اپنی جہالت میں کب کیا کیا خود کو سمجھ مان نہیں لیا وہ اس احساس شرمندگی و انکساری کے سر اٹھا نہیں پاتا ہھر اسکے وجود پہ بس رب کی حکومت رہ جاتی ہے اور وہ مجلوق خدا کا مددگار و غمگسار بن جاتا یے…..
اپنے وجود کی معنوی معرفت کا حقیقی احساس اسی پل ہوپاتا ہے جب انسان اہنی زات کو ظاہرا رسوا ہوتا دیکھتا ہے…. کبھی دنیا، کبھی رشتوں کی نگاہ میں…. پر جتنا وہ دنیا سے بے لزتی محسوس کرنے لگتا ہے اتنا ہی اسکی رغبت اپنے نفس کی گہرائیوں سے پیدا یونے لگتی ہے…..
ممکن ہے کہ میں غلط سوچ رہا ہوں کہ تم مکمل اختلاف رائے کا حق رکھتے ہو…. مگر عشق مجازی کی چوٹیں… انکے ان سلے، خون رستےزخم…. اس نور کی سبیل بنتے ہیں جو وجود کی رگوں سے….. رب تک پہنچنے کو بیتاب ہوتا یے ہر بیچ میں نا آشنائی کے گہرے پردے دراصل…. ہمارے رب کو نہ پکارنے اور اسکے قرب کی چاہ نہ رکھنے کے باعثِ ہوتے ہیں….
ہر زخم و ازیت کی ٹیس رب سے ملاتی ہے کہ اسے تم برا نہ شمار کرو ایسے ہی تمہاری دی ہوئی ہر ٹیس میں ایک گہرا سکون ہے جو مجھے رب تک لیجاتا ہے……..
اسی لیے میں کہتا ہوں کی محبت ایک خزانہ ہے اور میں خود غرض ہوں…. تمہیں تھوڑی نہ چاہتا ہوں بس اس چاہ کے احساس کی ہرورش چایتا ہوں جو…. واحد تمہارے زریعے ممکن ہے کہ میرے وجود میں سوایے تمہارے کسی اور کے لیے ایسی رغبت، چاہ، اپناییت کا احساس ہے ہی نہیں یہ بات بظاہر میرے اختیار میں ہو کر بھی میرے قوت اظہار سے بہت پرے ہے…. میں اسکی ازیت جھیل پانے کی صلاحیت نہیں رکھتا یقینا ریاضت درکا ہے اسکے لیے……
جبھی وجود کے کالے دامن سے وہ سب میل دھل پایے گا…. کہ جب ازیت، کرب، درد کی تھپیڑے اسکو ریزہ ریزہ کر دینگے جب میں درد کے خون میں نہاونگا……
اور جب آگ کے کارخانے میں بار بار جلونگا…. اتنا جلونگا… اتنا جلونگا… اتنا جلونگا… کہ سب ناخالصیت مجھ سے الگ ہو جائے گی…..
اور وجود کے اس نئے پن کیساتھ میں….. حق عبدیت ادا کرنے لایق ہو پاونگا…. مجھے تمہاری ضرورت ہے… کہ میں بڑا خود غرض ہوں…. آو کے تم مجھے قتل کرو…
میرا خون کرو….
میرے وجود کو تباہ کردو….
کہ یہ تباہی مجھے آباد کریگی….
کہ یہ تباہی میرے سب عیب دھوئے گی….
اور جب میں دیکھونگا کہ اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے….
اس کے دامن سے حسن کی منزل ملتی ہے….
یا کہ ہمیشگی کی تباہی کا سرا ملتا ہے…..
مجھے اس میدان محبت کو اس جستجو کےسائے میں تسخیر کرنے دو….. کہ میں حالت جنگ میں ہوں… اور دوسروں کیساتھ جنگ اور محبت کے اصول ہوتے ہیں…
پر نہیں معلوم کے کیا یہی اصول… اپنی زات کیساتھ بھی جڑے ہوتے ہیں…
ظاہرا تو لگتا ہے کہ اصول تو ہر جگی کے لیے یکساں ہوتے ہیں….پر معلوم نہیں….
تم ہی رائے دے دو اگر مناسب سمجھو تو…
پر خیر… تم تو چوٹ دو گے… بیگانگی… نفرت… حقارت کی چوٹ….
احساس کی سرمایاکاری کا گر ہر ایک کے پاس کہاں ہوتا ہے…. پر تم ماہر ہو نقصان، فایدے، میدان اور کب کیا کیسے کیونکر چننا ہے جانتے ہو….. اور میں جلد باز، اناڑی، سامنے کے وقتی فائدے کو فایدہ سمجھکر خوش ہوجانیوالا… جیسے بچے کھلونا دیکھکر خوش ہونے لگتے ہیں… ویسے ہی میں بھی معمولی سی بات ہہ خوش ہونے لگتا ہوں کی یہ بڑی کمزوری کی بات ہے…. جب تک کمزوریوں سے جکڑا رہے انسان…. ان میں الجھا رہے….ھدف تک پہنچنا دور کی بات ہے…
راستے تک نہیں پہنچ پاتا کہ یہ بڑی ناکامی کا سفر ہے…..
اور میں نے توکامیابی ناکامی کو سوچا ہی نہیں بس یہ سوچا کہ تم تک پہنچنا ہے اورپھر رب تک پہنچنا ہے…
کیوں، کب کیسے…. یہ سب نہیں معلوم…
یہ سب جزباتی باتیں ہینں کہ جزبات اوندھا گرا دیتے ہیں اصل شے…. حقیقت پسندی سے منزل کی جانب متوجہ رہنا ہے کہ اس سے ہہلے پلک تک جھپکنا خلاف قانون عشق ہے…..
کہ عشق کے راہی اور ہوتے ہیں…. اور حماقتوں کے راہی اور….
اور چناو انسان کا ہے… قدم انسان کے…. وجود بھی انسان کا اور تفکر بھی انسان کا…. کہ وہ کیا منتخب کرتا ہے اور کیوں…….؟؟؟
…. یعنی میں کچھ بھی چن لیتا ہوں تو میں کیوں چن رہا ہوں….؟؟؟
میں کیوں ہوں…؟؟
میں کیا چاہتا ہوں…؟؟
میں جو چاہتا ہوں آخر کیوں چاہتا ہوں….؟؟؟
میں جو سمجھ رہا ہوں وہ کیا سمجھ رہا ہوں اور کیوں سمجھ رہا ہوں یعنی میں…. کیوں کیا چاہتا ہوں…..؟؟؟
کہ دراصل اس ایک ‘کیوں’….
میں ہی حقیقت حال چھپا یے….
‘کیوں’…
میں ہی میرا وجود…
میری حقیقت میری ناکامی
یا میرا کمال چھپا ہے…
پر ہم دوسروں کے کیوں کو تو مکمل سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں…. پر میں اور میرے اہنے کیوں کو پڑھ پانا……
بڑا دشوار مرحلہ ہے…..
کبھی احساس جہالت….
کبھی احساس شرمندگی….
تو کبھی احساس بے بسی…
تو کبھی احساس بے خودی….
اس کیوں کے پیچھے چھہے سبھی راز مجھے ……
میری ہولناکیوں اور تاریکیوں سے واقفیت دلاتے ہیں……
جیسے کے میں یہ جب سوچوں کے کیوں چاہتا ہوں…..؟؟؟
تو سادہ جواب ملتا ہے محبت انسانی فطرت ہے….
پر اکیوں اس فطرت کے اظہار کا اظہار اہم ہے….
کیونکہ جب تم سے ملتا ہوں تو ایسے لگتاہے کہ میرا اہنا ہی وجود سامنے کھڑا ہو…..بہت ممکن ہے یہ تخیل اور جھوٹ ہو…. افسانہ ہو پر جیسے کچھ ہے گہرائیوں میں جو ہمیں کسی ایک نقطے پر….. بالکل ایک سا کر دیتا ہے….
بالکل ایسے ہی جیسے سورج کی کرنیں….
منعکس ہوتی ہیں بارش سے تو قوس قزح جنم لیتی ہے……
پر اس قس قزح کیطرح بھلے ہم دونوں یکسر مختلف ہوں بہت سارے رنگوں میں…. مگر اس ایک رنگ میں….
کہ جو بنیادی رنگ ہے….. وہ مجھے ایک لگتا یے……
پر کیا فائدہ اس ایک ہونے کا….. کیوں محبت کو سنبھال رکھوں میں…… تو لگتا ہے کہ…. رب نے ہر شے وجہ سے بنائ ہے…. میرے وجود میں تمہارا احساس بے وجہ نہیں…..
کہ اسکی نورانیت میں اپنے وجود پہ پڑھ سکتا ہوں…
تو تم کیا کرو گے اس سب کا….. تو میں انتظار کی انچ پہ رکھوں گا… صبر کی گود میں اس احساس کی پرورش کروگا….. اسکی سب الجھنیں سلجھاونگا… اور اس کے نوک پلک سنوارو نگا…. میں یہ دیکھوں گا کہ احساس کے اس بیج سے کیسا شجر جنم لیتا ہے…..؟ یا کہ دفن ہونے کے بعد یہ فنا ہو جاتا ہے…..؟ یا کہ ہمیشگی کی تاثیر لیے…. وجود میں ابد تک رہتا ہے……؟
یا کہ بیچ رستے اس کی مہک، گونج، آواز سب مر جاتے ہیں…. اور آخر کو جو بھی ہے….
میرے وجود کی سلطنت کے ماحول پہ تمہارے احساس کے اس اعزاز کو انتہائی ادب، عزت، محبت، اخلاص ، طہارت اور معتبرانہ تقدس کے احساس کیساتھ رکھنے سے…..
یہ دیکھنا چاہتا ہوں کے اسکی تاثیر کیا رنگ لائگی…… کیا یہ تباہ کن ہے….. یا یہ کمال کا سفر……
مجھے کھوجنا ہے ہر اس کیوں کو…. جو تمہاری زات سے…. ہے میری زات کا سفر….. اور میری زات سے رب کی زات تک پہنچنے کی سبیل……
یہ کیوں میں کیا کیا ہے…. میں اسکی کھوج لگاونگا….. میں اس احساس کی تشنگی بڑھاونگا….. میں رک نہیں سکتا…. مجھے آگے بڑھنا ہے……
کہ یہ میں سے کیوں کا سفر ابھی جاری ہے……..!!!!
فائزہ عباس













