للہ ظالم اور مظلوم کی پہچان کیجئے۔۔۔ شمس جیلانی

0
1345

یہ اس لیئے کہ اسلام مظلوم کی حمایت کا حکم دیتا ہے لیکن ہم عمل کرتے ہوئے اس کا کبھی خیال نہیں رکھتے؟ جبکہ یہ ا ہم مضمون ہے، جبکہ اسلام نے کسی شعبہ کو بغیر ہدا یت کے نہیں چھوڑا لہذا اس سلسلے میں اگر ہم تلاش کریں تو بہت سی مثالیں بھی مل جاتی ہیں۔ مثلا ً قرآن میں ہے “لعنت اللہ علیٰ الظا لمین “(یعنی ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت) ہم اسے بھول کرظالموں کی تعریف کرتے ہیں جیسے آجکل سابق آمر کی تعریف ہورہی ہے جس نے مسجد پر بمباری کی عدلیہ کو قید کیا بعد میں جب خود پھنساتو عدالتوں کو دوڑا دوڑا کر تھکا دیا اور اس موصوف فر ماتے یہ ہیں کہ میں نے کچھ نہیں کیا؟ قر آن کہتا ہے. لعنت اللہ علیٰ الکا ذبین (جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت) ہم اس کا الٹ کرتے ہیں لہذا ہم جھوٹوں کی بھی وکالت اورعزت کرتے ہیں۔ نہ جانے ہم ایسی ہدایات کہا ں سے لیتے ہیں۔ اور ان کے قصیدے لکھنے کی گنجا ئش نکال ہی لیتے ہیں؟
جبکہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ جو کسی کے منہ پر تعریف کرے اس کے منہ میں (بطور سزا) خاک بھر دو تاکہ اسے دوبارہ تعریف کرنے کی جرأت نہ ہو؟اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ “ تیرا دوست وہ ہے جو تیرے عیبوں پر تجھے ٹوکے، یعنی تیرے عیب تیرے منہ پر بیان کرے اور دشمن وہ ہے جو تیرے منہ پر تیری تعریف کرے “ان تمام ارشادات سے جو بات ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اچھے کام کی تعریف کرنا منع نہیں ہے مگر عدم موجودگی میں؟اسی طرح اپنے بھائی کی ہر اچھے فعل میں مدد کرنا مستحسن فعل ہے مگر ظلم میں نہیں۔ جبکہ اسی طرح ظلم یہ بھی ہے کہ جو اچھا کام کر رہا ہو اس کی تعریف نہ کی جا ئے کہ بڑے گھرانے سے نہیں ہے۔ وہ ضرورہونا چاہیئے لیکن اس کی عدم موجود گی میں؟اس کاثبوت یہ ہے کہ قرآنی میں ما شا ء اللہ، سبحانہ اللہ اور جزا ک ا للہ وغیرہ جیسے الفاظ موجود ہیں اور صحابہ کرام ؓاور بزرگان عزام عام طور پر انہیں استعمال کرتے تھے اور وہ ان کے روز مرہ میں شامل تھے، ان میں سے خصو صاً صحابہ کرامؓ کہ ان کےتمام عمل اس لیئے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں کہ انہیں حضور ﷺ کی اس ہدا یت روشنی میں بہت اہمیت حاصل تھی، ہے اور قیامت تک رہے گی کہ حضور ﷺ نے فرما یا کہ “ وہ جو میرے نقشِ قدم پر یا میرے ان صحابہ کے نقش ِ قدم پر چلے گا فلاح پا جا ئے گا جو آج میرے نقش ِ قدم پر ہیں۔ یہاں شرط کیا ہے کہ “ جو آج میرے نقش قدم پر ہیں “ یعنی اس میں وہ شامل نہیں ہیں جو حضور ﷺ کے نقش ِقدم پر نہیں تھے یا اسلام لانے کے بعد انہوں نے حضور ﷺ کو کسی طرح سے دکھ پہنچایا ہو؟اب میں اس پر عملی ثبوت دیکر بات آگے بڑھاتا ہو ں کہ حضرت خالد بن ولید کوؓ کو ن نہیں جانتا ہے کہ ان کی اسلام کے لیئے کتنی خدمات تھیں مگر حضرت عمر ؓ نے انہیں اس لیئے معزول کردیا کہ انہوں نے ایک شاعر کو اپنی تعریف کرنے پردس ہزار درہم بطور انعام عطا فرما ئے؟ ان کو جو خط حضرت عمر (رض) نےتحریر فرما یا اس میں یہ الزام تھا کہ تم نے دس ہزار درہم جو شاعر کو دیئے اگر اپنی جیب سے دیئے تو یہ اصراف بیجا کیا اوراگر بیت المال سے دیئے تو خیانت کی، اس لیئے تمہیں تمہارے عہدے سے معزول کیا جا تا ہے؟ اس میں جو سبق ہمارے لیئے ہے وہ یہ ہے کہ جو کام کرو اللہ کے قوانین سامنے رکھ کر کرو؟ مگر ہم کیا کرتے آئے ہیں اور ابھی تک کر رہے ہیں کہ مسلمان با دشاہوں نے اپنے یہاں اپنی تعریف اور قصید ے لکھنے کے لیئے با قاعدہ در باری شاعر ملازم رکھ لیئے تھے۔ کیا یہ اتبا عِ رسول ﷺ ہے کہ جھوٹ کو سچ بنا نے کے لیئے مصاحب رکھ لیئے جائیں۔یہاں بہت سے لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ حضور ﷺکے بھی درباری شاعر تھے؟ بے شک تھے مگر وہ ذاتی قصیدہ گوئی کے لیئے نہیں تھے۔ نہ انہوں ﷺنے انہیں حکم دیا کہ میرا قصیدہ کہو نہ ہی قصیدہ لکھنے پر انہوں ﷺ نے بطور انعام شاعروں کو اس پر سند یا ستارہ امتیاز وغیرہ عطافرما یا۔البتہ تہمت لگا نے پر سزا ضرور دی؟ جو ہم سب آج کل روز لگا تے ہیں اور شرماتے نہیں ہیں کہ حضور ﷺ نے حج الوداع کے موقع پر اپنے آخری خطبہ میں ارشاد فرمایا تھا کہ“ جس طرح آج کا دن حرام ہے اسی طرح تم پر تمہارے بھا ئی کی عزت،مال اورجان سب حرام ہے “لیکن ہم ایک دوسرے کی پگڑی روز اچھا لتے رہتے ہیں جبکہ یہ گناہ حقوق العباد میں داخل ہے جس کے لیئے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اگر تم احد کے پہاڑ کے برابر بھی گناہ لے کر آؤگے تو میں توبہ کرنے پر معاف کردونگا۔ مگر حقوق العباد میں نہیں وہی معاف کریگا جس کو تم نے نقصان پہنچا یا ہوگا۔ حضورﷺ کے زمانے میں اول تو شاعر بیت المال سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے؟ دوسرے انہیں دربارِ رسالت مآب میں اس لیئے اہمیت حاصل تھی کہ اسوقت کے معاشرے میں شاعری بھی ایک ہتھیار تھی جو زمانہ جہالیہ میں دشمن ہتھیار کے طور پر ایک دوسرے کے خلاف عام استعمال کرتے تھے لہذا ان کا جواب دینے کے لیے ان سے بہتر شاعر چا ہیئے تھے۔ اس لیئے تشہیر اور غلط باتوں کی تردیدکا اس زمانے میں کوئی اور ذریعہ ہی نہیں تھا۔ لہذا حضور ﷺ کو دین کی تشہیر کے لیئے شاعروں کی ضرورت تھی جو وہ استعمال فرما تے اور شاعروں کواپنی طرف سے جواب دینے کی ہدا یت بھی دیتے تھی۔ جبکہ ان کیﷺ تشہیر کے لئے تو کفار ہی کافی تھے۔ کہ جنہیں نہیں بھی پتہ تھا ان تک بھی اسلام کا پیغام دور دور تک کفار نے خودپہنچا یا، جیسے کہ آجکل یہ ہی کام تمام دنیا کر رہی ہے۔ رہی انﷺ کی ذاتی تعریف تو وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ خود دنیا کی شروعات سے پہلے سے فرمارہا ہے اسی لیئے ان کی آمد کی سب کو خبر تھی اوران کو تعریف کی حاجت ہی نہ تھی جن کے اوصاف ِ حمیدہ کے معترف اپنے کیا غیر بھی تھے۔؟ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنا قبلہ درست کرنے توفیق عطا فر ما ئے۔(آمین) آخر میں اس مضمون کو میں اپنے اس قطعہ پر ختم کرتا ہوں جو کہ اسی دور کا ہے۔
جو آیا تخت پر دستور اس نے پھاڑ ڈالا
روایت اپنی یہ بڑھ کر گلے میں ہار ڈالا
ہلاکت یا شہادت کیا کہوں اے اکبرِ بگٹی
ہے قصہ مختصر ظالم نے ظالم مار ڈالا

SHARE

LEAVE A REPLY