اے دل نادان — رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

0
297

احسن صاحب کی شادی ھوئی تو خاندان والوں نے خوب خوشیاں منائیں شادی کہ چھ سات ماہ تک گھر میں شادی کا سا سماں رہا تمام رشتہ دار فارغ ھو کر احسن کے گھر میں جمع ھو جاتے اور پھر احسن کی والدہ روز شام کو ھلکی پھلکی دعوت کا اہتمام کرتیں مٹھائی چائے کا انتظام کیا جاتا یہ خوشی اس لئے تھی کہ احسن اکلوتا بیٹا تھا اور تین بہنوں کا اکلوتا بھائی پھر والد کی وفات کے بعد سے اب تک گھر میں کوئی خوشی کی تقریب منقعد نھیں کی گئی تھی یوں کافی عرصہ بعد اس گھر میں خوشیاں لوٹ آئی تھیں ۔ ایسے ھی ھنسی خوشی میں دن گزرتے رھے اور شادی کے ایک سال بعد مقد س پیدا ھوئی گھر میں نئے مہمان کی آمد کا بھر پور استقبال کیا گیا – جس طرح سے عام طور پر صرف لڑکے کی پیدائش پر ھی خوشیاں منائی جاتیں ھیں اور بیٹی کی پیدائش پر بس خاموشی اختیار کی جاتی ھے بعض گھرانوں میں تو باقاعاعدہ سوگ کی سی کیفیت طاری ھو جاتی ھے کہ بیٹا ھونا تھا بیٹی کیوں پیدا ھو گئی ، لیکن مقدس کے معاملے میں ایسا بالکل نھیں تھا اس کے گھر والوں کو اس کے پیدا ھونے کی بہت خوشی تھی اور سب کی لاڈ لی تھی ہر ایک دعائیں دے رہا تھا اور ہر طرف سے تحفے تحائف مل رھے تھے ۔ یوں مقدس لاڈ پیار میں پلنے لگی جب پانچ برس کی ھوئی اچھے سکول مین داخل کروایا گیا اس کی ماں سعد یہ بہت خوش تھیں اور بڑے پیار سے رات ھی سے اس کے سکول کی تیاری کر رکھتی تھیں –

خوشی خوشی دن گزر رھے تھے کی تقد یر نے اپنا رنگ دکھایا مقدس کی ماں کو چھاتی میں درد محسوس ھوا ڈاکٹر کو دکھانے پر پتا چلا کہ بریسٹ کینسر ھے اور کینسر کی بھی آخری سٹیج ھے کہ آپریشن بھی ممکن نھیں اگر آپریشن کیا بھی گیا تو زندگی بچنے کی چانسز بہت کم ھیں یوں سعدیہ کو ھسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں اتنا ھوا کہ ان کی تکلیف کچھ کم ھوگئی اور درد کی حالت میں ڈاکٹرز ان کی دیکھ بھال کر لیتے ورنہ اور تو کوئی علاج ایسا نا تھا جس سے اس کی بیماری کو ختم کیا جا سکتا ھو – آخر دو ماہ ھسپتال میں گزارنے کے بعد وہ اللہ کو پیاری ھوگئیں اور مقدس بغیر ماں کے اکیلی ھو گئی ماں کا سایہ چھت کی مانند ھوتا ھے یو مقدس کی چھت اس سے بے رحم تقدیر نے چھین لی ، چند دن تو سب مہمان گھر میں رھے گھر میں کچھ رونق رھی لیکن ایک ماہ بعد جب سب اپنے اپنے گھروں کو واپس ھولئے تو گھر میں اداسی چی چھا گئی

مقدس کا والد احسن اتنا دل برداشتا ھوا کہ ملک چھوڑنے کی تیاری پکڑ لی یہی بات جب گھر والوں کو بتائی تو انھوں نے منع کیا لیکن وہ صرف اتنی بات مانا کہ وہ مقدس کو ساتھ نھیں لے جاتا مقدس کو اپنی بڑی بہن کے گھر چھوڑ کر جائے گا جو مقدس سے بے انتہا پیار بھی کرتیں ھیں اور مقدس مانوس بھی بہت ھے لہزا ان کے ساتھ رھے گی یوں احسن کے بیرون ملک روانہ ھوتے ھی مقدس اپنی بڑی پھو پھو نائلہ کے گھر آگئی شروع مین چند دن اس کو سیٹ ھونے میں لگے لیکن پھر گھر میں نائلہ کے دو بچوں ، خاوند اور خود نائلہ نے بہت سمجھداری اور محبت کے ساتھ مقدس کی اسقدر دل جوئی کی کہ وہ بہت جلد نئے گھر اور نئے ماحول میں ڈھل گئی سب نے اسے بے حد پیار دیا نائلہ کا شوہر بھی بہت مھربان اور اعلی اخلاق کا مالک تھا پھر وہ مقدس کے والد کا ناصرف دوست تھا بلکہ کزن بھی تھا یوں اس گھر میں کوئی بھی ایسا نا تھا جو اس کو پیار نا دیتا ھو پھر نائلہ کی اپنی کوئی بیٹی بھی نا تھی وہ گھر میں لاڈلی بیٹی بن کر رھ رھی تھی ۔ ادھر مقدس کا والد احسن بھی خیر خبر رکھتا تھا یوں دن گزرتے رھے اس دوران احسن نے باہر کسی یورپین لڑکی سے شادی بھی کر لی اور اس کے دو بچے بھی ھوئے لیکن اب بھی وہ مقدس کو باہر بلانے کا کہتا تھا لیکن نائلہ اس کو منع کر دیتی کہتی بھیا یہ ھمارے گھر کی رونق ھے ھم نھیں بھیج سکتے خود مقدس سے بھی جب پوچھا جاتا تو وہ بھی اداس ھو جاتی کہتی پھوپھو میں آپ کے بغیر کیسے رہ سکوں گی ۔

پھر احسن نے کہا بہن آپ کب تک مقدس کو رکھیں گی آخر اس کی شادی بھی تو کرنا ھے لیکن نائلہ نے کہا بھائی میں اپنے بڑے بیٹے احرام سے اس کی شادی کرونگی یوں احسن نے بخوشی رضامندی ظاہر کر دی پھر تو سارے خاندان میں یہ بات مشہور ھوگئی کہ مقدس کا رشتہ نائلہ پھوپھو کے بیٹے شیان سے طے ھوا ھے ۔ یوں دن گزرتے رھے شیان نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور مقدس نے بھی آرٹ کالج میں فیشن ڈیزائنر ڈپلومہ کے لئے داخلہ لے لیا شیان اکثر مقدس کو ساتھ لے کر جاتا اور راستہ میں اس کو کالج چھوڑتا اور واپسی پر بھی ایسا ھی ھوتا کبھی کبھار شیان اس کو ریستوران میں بھی لے جاتا – یوں دونوں میں بہت انسیت محسوس کی جاسکتی تھی نائلہ دیکھ کر خوش ھوتی کہ دونوں میں اچھی انڈر سٹینڈ نگ ھے اچھی بات ھے خوب اچھی زندگی گزرے گی ، مقدس کو اپنے کالج جاتے چار سال ھوگئے تھے یہ اس کا آخری سال تھا اور شیان بھی تقریبا اپنی تعلیم مکمل ھی کرنے والا تھا ایک دن شیان نے اپنی امی نائلہ سے کہا اماں مجھے آپ سے ضروری بات کرنا ھے شیان نے کہا اماں میں مہرین سے شادی کرنا چاھتا ھوں نائلہ ایک دم دم بخود رہ گئی پھر کہا وہ کون ھے اور بیٹا تمھیں اچھی طرح پتا ھے تمھاری بات مقدس سے طے ھے پھر جب ھم نے بات طے کی اس میں تمھاری مرضی بھی شامل تھی میں ااحسن بھائی کو کیا جواب دونگی لیکن شیان نے ماں کی ایک نا سنی نا صرف ماں کی بلکہ جب اس کے والد نے بھی بات کی تو شیان نے مھرین سے ھی شادی کرنی کی ضد کی بصورت دیگر گھر چھؤرنے یا جان دینے کی دھمکی بھی دی جس کی وجہ سے نائلہ کا شوہر شیان کا والد شفیع نے بیٹے کی بات ماننے کی حامی بھر لی اور نائلہ کو بھی سمجھایا جوان بیٹا ھے زبردستی نھیں کر سکتے نائلہ نے کہا کہ احسن بھائی کو کیا کھیں گے شفیع نے کہا میں خود اس سے بات کرونگا جب احسن سے بات کی تو اس نے سب سے پہلے مقدس کے بارے میں پوچھا کہ وہ کیا کھتی ھے نائلہ نے کہا ھم نے اس سے بات کی ھے وہ چپ ھے کچھ نھیں بولی نا کچھ غم غصہ کیا ھے

احسن نے کہا مجھے اس کی خوشی چاھئے جو وہ کہے گی میں راضی ھوں نائلہ نے مقدس کو بٹھا کر کافی لمبی تفصیل کے ساتھ بات کی اور اپنی مجبوری کا بھی زکر کیا ار رونے لگی مقدس کو نائلہ اپنی ماں کی طرح پیاری تھی اس نے اپنے دکھ اور مرضی کی پرواہ نا کرتے ھوئے اپنی پھوپھو کو رونے سے چپ کرایا بلکہ حوصلہ بھی دیا کہ آپ میری وجہ سے دکھی نا ھوں میں ہر حال میں خوش ھوں مجھے صرف آپ سے پیار ھے اس گھر سے پیار ھے اس گھر کی خاطر اور کسی بھی انھونی کو روکنے کی خاطر میں آپ کا ساتھ دونگی میں دکھی نھیں ھوں آپ شیان کی شادی جہاں وہ چاھتے ھیں کر دیجیے ۔ یوں شیان کی مرضی سب نے ھی مان لی مقدس دکھی تو تھی لیکن دکھ کو اپنے دل میں ھی رکھا نائلہ نے بھی قسم کھائی میں مقدس کی زندگی میں ہر طرح سے خوشی لاؑونگی چاھے جو بھی ھو وہ بہت اچھی جگہ اس کا رشتہ طے کرے گی ایسے لڑکے سے جو سر سے پاؤں تک خوبیوں کا مالک ھو گا ۔ مقدس نے شیان کی شادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کسی بھی دن محسوس نھیں ھونے دیا کہ شیان نے اس کے ساتھ زیادتی کر کے اپنا الگ جہان بسایا ھے ولیمہ کی تقریب کسی ھوٹل میں کرنے کی بجائے ان کے گھر پر ھی تھی کیونکہ ان کا گھر کافی بڑا تھا خوبصورت بھی تھا ولیمہ والے دن مقد س نے ھلکے آسمانی کلر کا جوڑا جس پر ھلکے پہلے رنگ کی کناری کا کام تھا جیسا کہ آسمان پر ستارے نظر آتے ھیں بہت خوبصورت جوڑا تھا اور مقدس بھی کسی حور سے کم نھیں لگ رھی تھی لڑکی والوں کی طرف سے آئے ھوئے سب مہمان بار بار مقد س کا ھی پوچھ رھے تھے اور نائلہ فخر اور محبت بھرے انداز میں تعارف کراتی تھیں یہ میرٰ ی لاڈ لی بیٹی ھے مقدس میری جان – دلہن کے والدین جب ولیمہ میں ائے تو ان کے ساتھ ایک خوبصورت سا نوجوان بھی تھا جس کا تعارف انھوں نے شیان کی امی سے بھی کرایا جسے دیکھتے ھی نائلہ سوچ میں پڑ گئی کتنا خوبصورت لڑکا ھے کاش میری مقدس کا دولہا بھی ایسا ھی ھو وہ یہ سوچ رھی تھیں کہ گزرتے ھوئے ویٹر نے کوک سے بھری ڈش گرا دی جو اسی لڑکے پر گری جسے نائلہ غور سے دیکھ رھی تھیں اس کے کپڑے خراب ھوگئے

نائلہ نے فورا نوکر کو آواز دی افضل تم جلدی سے صاحب کو واش روم دکھاؤ یہ اپنے ڈریس صحیح کر لیں اور ھاتھ منہ بھی دھو لیں نوکر لے کر اندر آیا تو دیکھا نیچے کے بیڈ روم لاک ھیں وہ اوپر جانے لگا کہ کسی نے اس کے نام سے بلایا وہ واپس ھوا اور اس نے کہا صاحب آپ خود اوپر چلے جائیں سامنے والے روم میں جائیے باتھ روم ھے لہذا خرم اوپر آگیا جیسے ھی وہ اوپر آیا اس نے کمرے کا دروازہ کھولا اور سامنے بیڈ پر بیٹھ گیا اور اپنے شرٹ اتار دی اور واش روم جانے لگا ایک دم سے چونک گیا اس کو لڑکی کی ٹانگیں نظر آئیں وہ جھک کر دیکھنے لگا کہ کون ھے ایک دم سے وہ باہر نکل آئی وہ مقدس تھی اس کے کانوں کا جھمکا نیچے گر گیا تھا اسے اٹھانے نیچے گھسی تھی باہر نکلتے ھی اس کے منہ سے ھلکی سی چیخ نکلی پھوپھو۔ خرم نے منع کیا محترمہ چلائیے نھیں میں شریف آدمی ھوں آپ کو کوئی تکلیف نھیں دے رہا مجھ پر کولڈ ڈرنک گرا دیا ھے تو میں منہ ہاتھ دھونے آیا تھا نیچے تمام رومز لاک تھے میں اوپر آگیا وہ بھی آپ کے ملازم نے بھیجا ھے -اس پر مقدس نے ڈرے ھوئے کہا لیکن آپ کی شرٹ ۔ شرٹ کا لفظ سنتے ھی خرم شرمندہ سا ھو کر اپنی شرٹ بیڈ سے اٹھا کر سامنے سینے پر رکھ کر بولا سوری سوری میں بھول گیا میں نے شرٹ اتاری تھی ، کوئی بات نھیں میں جاتی ھوں یہ کہہ کر مقدس باہر آگئی اور باہر آکر بیٹھ گئی لیکن خرم کو اب چین نھیں رہا تھا وہ مقدس کے بارے میں ھی سوچنے لگا کہ اتنی پیاری لڑکی اتنی معصوم –

نیچے آکر بھی اس نے اپنی آنٹی جو دلہن مہرین کی امی ٹھیں ، سے پوچھا آنٹی یہ لڑکی کون ھے تو انھوں نے پورا تعارف ھی کرا دیا یہ شیان کی بہن ھی سمجھو ویسے ھے اس کی کزن بچپن میں ماں کا انتقال ھا گیا تھا تو شیان کی ماں نے پالا ھے اسی گھر میں پلی بڑھی ھے اس کا اپنا والد انگلینڈ رہتا ھے اس کا نام مقدس ھے ۔خرم نے نام سنتے ھی دل میں کہا نام کی طرح مقدس اور پاکیزہ ھے پھر بس گھر جا کر بھی اسی کی بات کرتا رہا اور اپنے گھر فون کیا کہ پاپا میں نے اددھر پاکستان میں لڑکی دیکھ لی ھے مجھے اسی لڑکی سے شادی کرنی ھے اس کا نام مقدس ھے وہ بہت پیاری ھے ، اس کے پاپا نے بھی فورا حامی بھر لی اور کہا وہ مھرین کی امی سے بات کرے گا یوں رشتہ کی بات کی گئی تھوڑی تحقیق کی گئی لڑکے والوں کی رشتہ پکا کر دیا گیا شادی اگلے سال تک موخر کی گئی ، خرم کو ابھی اپنی تعلیم مکمل کرنا تھی اور ادھر مقدس کے بھی ابھی امتحان ھونا تھے ۔ یوں خرم واپس امریکہ چلا گیا لیکن دونوں کا فون پر رابطہ تھا آنٹرنیٹ پر بھی دونوں ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے مقدس خرم کو اچھی سمجھ چکی تھی وہ بہت حلیم طبیعت اور نفیس انسان تھا وہ اکیلے بیٹھے اکثر سوچتی تھی کہ اللہ نے میرے پر بہت مہربانی کی ھے اگر مجھے شیان نے ٹھکرا دیا تھا تہ شیان سے کھیں بھتر اچھے انسان سے ملا دیا ھے ، اللہ تو بھت بڑا ھے – خرم عا د ت کا اتنا اچھا تھا کہ وہ ہر بات اس سے کرنے لگی تھی اس نے یہ تک اس کو بتا دیا کہ شیان سے اس کا رشتہ ھوا تھا لیکن اس نے انکار کر دیا خرم اتنے بڑے دل کا اور کھلے زہن کا تھا وہ اس کی ہر بات کو سنتا تھا اور سمجھ کر جواب دیتا تھا جب شیان سے رشتہ کی بات مقدس نے خرم کو بتائی تو اس نے کہا اوہ مجھے تو شیان کا شکر گزار رہنا چاھئے اس نے احسان کیا تم سے شادی نھیں کی اور اتنی پیاری لڑکی مجھے مل گئی ۔

پھوپھو نائلہ مقدس کو دیکھ کر بہت خوش تھیں اور بار بار اللہ کا شکر ادا کرتی تھیں ۔ ایک دن ایسا واقعہ ھوا جس نے گھر میں سب کو ہلا کر رکھ دیا شیان اپنی بیوی کو لے کر مارکیٹ گیا ابھی پارکینگ پر گاڑی روکی ھی تھی کہ قریب ٹھری موٹر سایئکل مین بم انتھائی زور زار آواز سے پھٹ گیا جس سے مہرین نے موقع پر ھی جان دے دی اور شیان کو زخمی حالت میں ھسپتال لے گئے جہاں اس کا علاج کیا گیا مگر اس کی ایک ٹانگ نکارہ ھو گئی اور وہ اپاہج ھو گیا ، ایک ماہ ھسپتال رہا پھر گھر میں آیا وہ بہت مایوس اور دل برداشتہ ھو چکا تھا بات بات پر بچوں کی طرح رونے لگتا مقدس ھسپتال میں بھی اس کی دیکھ بھال کرنے روزانہ نائلہ پھوپھو کے ساتھ جاتی رھتی تھی اور گھر آنے پر تو بہت ہمت بدھاتی تھی اتنی توجہ اور خلوص کے ساتھ اس کا خیال رکھا کہ وہ اپنا درد بھولنے لگا اسی مصروفیت میں خرم کو بھی زیادہ وقت نھیں دے پارھی تھی ۔ یوں آتھ نو ماہ ھوگئے اس کی تیمارداری میں ، خرم بہت اچھا انسان تھا وہ جانتا تھا کہ مقدس بہت پر احساس طبیعت کی مالک ھے اگر وہ شیان کی دلجوئی یا خدمت کر رھی ھے تو یہ اس کا انسانی اخلاقی فریضہ ھے ۔ یوں دن گزر گئے اب خرم کے امتحان ھوئے وہ اچھے نمبروں میں پاس ھوا اور اب پاکستان آنا چاھتا تھا تاکہ اپنی امانت اپنی محبت مقدس کا اپنے ساتھ لے جائے اس کے والد نے بھی مقدس کے والد اور پھر پھوپھو سے بات کی ھم پاکستان آرھے ھیں ھمیں ھماری امانت دے دیجئے ھم اپنی بیٹی مقدس کو لینے آرھے ھیں جب سے شیان نے یہ سنا تھا کہ مقدس اب جانے والی ھے اس کی زندگی پھر سے بے مزہ بے رنگ ھو جائے گی

وہ بہت دکھی تھا اپنے اس دکھ کا متعدد بار مقدس سے بھی زکر کر چکا تھا مقدس اس وقت کو یاد کرتی تھی جب شیان نے مقدس کے ساتھ اپنے کئے گئے رشتہ کو رد کیا تھا اسے زرا بھی احساس نا ھوا تھا جب کہ مقدس بہت اپ سیٹ ھوئی تھی کوئی بھی بات کرتی تھی تو آنکھ سے آنسو چھلک جاتے تھے یہ کیفیت کئ ماہ رھی تھی جسے صرف اس کی پھو پھو ھی سمجھ پائیں تھیں کیونکہ وہ ماں والا احساس رکھتی تھیں – مقدس نے محسوس کر لیا تھا کی شیان اس کو بہت مس کرے گا- آخر وہ دن آگیا جب مقدس کی شادی تھی شیان نے خود کو کمرے میں بند رکھا اور یہ کہا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نھیں وہ کسی سے بات نھیں کرے گا یہ دل بھی کتنا پاگل ھوتا ھے صرف اپنی پسند ھی کے بارے میں سوچتا ھے اور وھی کرتا ھے لیکن کیا مقدس جیسے لوگوں کے پاس دل نھیں ھوتا ؟ یقینا ھوتا ھے لیکن اگر سب انسان ایک جیسے حساس اور محبت کرنے والے ھو جائیں تو پھر دنیا میں کسی دکھ کا جواز نا رھے

رافیعہ گیلانی۔ راجن پور

SHARE

LEAVE A REPLY