پولنگ کے دن شام چھ بجے سے تا حال میری ہنسی ہے کہ روکے نہیں رک رہی ۔ دوسری طرف کا حال یہ ہے کہ دوڑیں اور پریشانیاں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں ۔ اب یہ ہے تو سراسر غلط بات کہ کسی کی پریشانی پہ آپ ہنسنا شروع کر دیں مگر معاملہ ہی ایسا ہے کہ اس پر ہنسا ہی جا سکتا ہے ۔ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سے نااہلی کی سند پانے اور پارلیمانی سیاست سے آوٹ ہونے والے جہانگیر ترین، نیب کے مسلسل نشانے پر موجود علیم خان اور برطانیہ کی پارلیمان سے ہوتے ہوئے گورنری کے مزے لینے کے بعد پاکستان تحریک انصاف کو پیارے ہونے والے چودھری سرور پورے ملک میں بھاگ بھاگ کے عالمی ریکارڈ قائم کرنے پر تلے ہوئے ہیں مگر دوڑ ہے کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی بے چارے کبھی سڑکوں پر بھاگتے ہیں تو کبھی فضاوں میں پرواز کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا کی واضح مثال آج کل پاکستان تحریک انصاف نظر آتی ہے ۔ یہ اینٹیں اور روڑے اکٹھے کرنے میں جہاں پاکستان تحریک انصاف کے باقی رہنما مصروف ہیں وہاں مذکورہ بالا تینوں شخصیات کچھ زیادہ ہی نمایاں ہیں ادھر ادھر سے گھیر گھار کے قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد پوری کرتے ہیں تو صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تعداد کم ہو جاتی ہے پھر جہاز لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں صوبائی اسمبلی کے آزاد منتخب ہونے والے ممبران کی منت سماجت کر کے انہیں اپنے چئیرمین کے حضور پیش کرتے ہیں اور ابھی دم بھی نہیں لینے پاتے کہ معلوم ہوتا ہے قومی اسمبلی کے ممبران کی تعداد کم ہو گئی ہے یوں تینوں بے چاروں کو پھر نئے سرے سے بھاگنا پڑ جاتا ہے ۔
طارق بٹ ۔۔ دو اور دو پانچ
اس کالم کے شائع ہونے تک امید ہے صورتحال واضح ہو چکی ہو گی مگر وقت موجود میں جہانگیر ترین کی کارگردگی قابل ستائش اور حیرت انگیز ہے اس لئے کہ ایک ایسا شخص جو خود تو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا ہے مگر وہ خود کو سب سے زیادہ اہل ثابت کر رہا ہے کہ اب تک جتنے بھی ممبران قومی اور صوبائی اسمبلی کو وہ اپنی جماعت میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے وہ سارے اہل ہیں اور اتنے سارے اہل بغیر کسی اہلیت کے اپنے ساتھ ملانا ممکن نہیں یوں اس وقت سب سے زیادہ اہل جہانگیر ترین دکھائی دیتے ہیں ۔الزام لگانے والے اس شخص پر آزاد اور منہ زور گھوڑوں کی خریداری کا الزام بھی لگاتے ہیں مگر اس کے لئے وہ کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرتے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ جہانگیر ترین کی زبان میں ایسی تاثیر ہو جس سے وہ ان ممبران کو قائل کر کے اپنا ہمنوا اور ہم خیال بنانے میں کامیاب ہوئے ہوں اس لئے خواہ مخواہ کے الزامات سے گریز کیا جائے تو بہتر ہو گا ۔
اعتراضات اور الزامات کا ایک لامتناہی سلسلہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان پر بھی جاری ہے خصوصا الیکٹرانک میڈیا بار بار ان کے پرانے کلپس چلا رہا ہے جن میں انہوں نے آزاد امیدواروں کے انتخابات میں حصہ لینے کو جیت کے بعدصرف اور صرف اپنا مول لگانے اور پیسہ اور مفاد حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا تھا مگر آج انہی آزاد امیدواروں کے گلے میں ہنس ہنس کر پٹے ڈال رہے ہیں ایسے کلپس اور تبصرے کرنے والے دوستوں سے التماس ہے کہ کم از کم اس بات کا ضرور خیال رکھیں کہ تب عمران خان اقتدار کے ایوانوں تک نہیں پہنچے تھے بحثیت اپوزیشن لیڈر بات کرتے ہوئے گو کے ان پر ایک ذمہ داری تو عائد ہوتی تھی مگر جتنی ذمہ داری بحثیت حکمران عائد ہوتی ہے اس سے بہت کم ۔ ویسے بھی سیاست اتنا آسان کھیل نہیں کہ بندہ پل بھر میں سیکھ جائے اس کے لئے طویل جہد کی ضرورت پڑتی ہے ۔
جہد کی بات آئی تو دھیان ایک بار پھر جہانگیر ترین کی طرف چلا گیا کہ داد دیجئے اس شخص کو جسے بہت اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ اپنی تاحیات نااہلی کی بنا پر اپنی آنے والی حکومت میں کوئی بھی عہدہ حاصل نہیں کر پائے گا مگر اس کے باوجود اپنے قائد اور دوست عمران خان کی وزارت عظمی کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے لئے اپنا دن رات ایک کئے ہوئے ہے۔ جہانگیر ترین ایک کاروباری شخص ہیں اور تجربہ یہ بتاتا یے کہ کوئی بھی کاروباری گھاٹے کا سودا نہیں کرتا پھر موجودہ حالات میں موصوف جو سوداگری فرما رہے ہیں اس کے پیچھے مفاد کیا ہے کیا صرف اپنے دوست کی کامیابی اور مخالفین کو ناکامی سے دوچار کرنا۔ یقین کریں تو کیسے کہ یہ بات ناقابل فہم دکھائی دیتی ہے ۔ کروڑوں روپے کا ایندھن اور اپنے دن رات کا چین صرف اور صرف دوستی کی خاطر شائید ایسی مثال ملک ریاض کی جناب زرداری کے ساتھ دوستی کے بعد دوسری ہو میرے علم میں تو اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ۔ ہاں اگر آپ شامل کرنا چاہیں تو میاں منشا کی نواز شریف کے ساتھ دوستی اور تعلقات کو بھی شامل کر سکتے ہیں ۔
کاروباری لوگ دو اور دو چار کے ماہر ہوتے ہیں اور اس دو اور دو چار کے پھیر سے بہت کم باہر نکلتے ہیں ایسا تبھی ہوتا ہے جب ان کا واسطہ انکم ٹیکس یا پھر کسی مخالف وکیل سے پڑتا ہے۔ ہنسی اس لئے بھی آتی ہے کہ یہاں فواد چودھری کے روپ میں وکیل بھی اپنا ہے اور اسی جماعت سے تعلق رکھتا ہے جس سے جناب جہانگیر ترین مگر جہانگیر ترین کے دو اور دو چار کو ماہر وکیل فواد چودھری دو اور دو پانچ بنا کے پیش کر رہے ہیں ایک سارا سارا دن اڑانیں بھر کر بندے اکٹھے کرنے میں مصروف ہے تو دوسرا گھر بیٹھے ان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کے پیش کر کے مخالفین کے چھکے چھڑانے پر تلا بیٹھا ہے اصل حقائق کیا ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر فی الحال میری طرح آپ بھی یقین کر لیں کہ مرکز اور پنجاب میں حکومت پاکستان تحریک انصاف ہی بنائے گی ۔ اس لئے کہ فواد چودھری کو دو اور دو پانچ بنانے پر مکمل دسترس حاصل ہے ۔۔













