ماحول عجیب سا ھے مگر اعتماد میں کمی نہیں ہے صرف پاکستان مخالفوں کا خوف ہے ۔جو اندر بھی ہیں اور باہر بھی ۔بہت کچھ شاید وہ ہی ہو رہا ہے جو ہم سوچ رہے تھے ۔کیونکہ جب مفادات پر ضرب پڑنے کی نوید ہوتی ہے تو سارے مفاد پرست ایک چھتری تلے جمع ہوجاتے ہیں ۔عوام نے اپنا فیصلہ دیا لیکن عوام سے محبت کرنے والے انہیں پینتیس سال سے ہر قسم کا عیش و عشرت دینے والے انکی زندگیوں کو آسانیاں فراہم کرنے والے ہر شعبے میں ایمانداری کی مثالیں قائم کرنے والے ملک کوقرضے کی دلدل سے نکالنے والے ۔اور ترقی کی سیڑھیاں چڑھانے والے ایک جگہ ہو گئے ہیں ۔بہت خوشی کی بات ہے کہ اس مرحلے پر کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے ہمدرد ملک سے محبت رکھنے والے کُھل کر سامنے آرہے ہیں یہ تڑی لگا کر کہ اپوزیشن اتنی تگڑی ہوگی کہ تم دیکھو گے ؟؟؟؟
آپ کہتے ہیں کہ تم دیکھوگے؟؟؟ اور ہم عوام کہتے ہیں کہ انشاء اللہ ہم دیکھینگے ۔جب ملک سنوارا جائیگا ۔جب قوم اُبھاری جائیگی اور جب ہم سب متحد ہو کر ایک ہو کر اپنے ملک اور اپنے عوام کے لئے کام کرینگے انشا ء اللہ ۔۔ ہم کسی بھی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے مگر پاکستان ہماری پارٹی ہے ہم ہر اس پارٹی اور جماعت کی کھل کر طرفداری کرتے ہیں جو پاکستان کی بات کرتی ہے اس کے غریبوں کی بات کرتی اور ان کے حل کی طرف جاتی نظر آتی ہے کہ پچھلی دھائیوں میں ہم نے پاکستان کو صرف اور صرف مسائل سے بھرتے دیکھا ہے نکلتے نہیں دیکھا ۔ہمارے سامنے جو لوگ آرہے ہیں وہ پاکستان کے لوگوں کی محبت کا دَم بھر رہے ہیں ۔یہ نہیں کہہ رہے کہ ہر بات میں ہمارا ساتھ دو بلکہ کہہ رہے ہیں کہ ہم پر نظر رکھنا ہمیں تمہاری تنقید کی ضرورت ہے ۔ہم سے پوچھنا ہم کیا کر رہے ہیں وہ کچھ بھی فی الحال پردے کے پیچھے کرنے کے خواہشمند نہیں ہیں ۔
سندھ کی پارٹیوں نے سالوں حکومت کی لیکن کچرے کے انبار نظر آئے نہ غلاظتوں کے ڈھیر ۔گندے پانی اور صاف پانی کی لائینیں ملتی نظر آئیں نہ اسکولوں کے تالے دیکھے لیکن ان تمام چیزوں کے سامنے ہوتے ہوئے بھی جس دھڑلے سے حکومتی ارکان اپنی ترقی بیان کرتے رہے ہم اُس پر بھی عش عش کرتے ہیں کہ ایسے جھوٹے شاید ہی کہیں ملیں ۔جو سامنے بیٹھ کر معہ جوتوں کے آنکھوں میں داخل ہو جائیں ۔ لیکن نہ اینکر پوچھے کیا کہہ رہے ہو نہ تجزیہ نگار جتائے کہ کیَا کیِا ہے قصور ہمارا بھی ہے بات انصاف کی کرنی چاہئے ہم نے بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند رکھیں اور صرف اور صرف بحثوں تک قید رہے کبھی کسی میڈیا نے کسی اینکر نے حکومت میں موجود شخص کواس جگہ لے جاکر کھڑا نہیں کیا جہاں بد بو کے مارے سانس لینا بھی محال ہوتا ہے ۔اور نھنھے مّعصوم پھول وہاں کھیلتے نظر آتے ہیں ۔
لیکن اب ہمیں یہ سب ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ اب ہمیں ایک ایسی پارٹی ملی ہے جس کا آنا صرف اور صرف عوام کے لئے فائدے مند ہے جو عوام اور ملک کی بات کر رہے ہیں اس لئے ہم سب مخالف مل کران کا کام کرنا محال کر دینگے کیونکہ ہم نے خود کچھ نہیں کیا سوائے کرپشن اور بینک بھرنے کے ۔ ہم نے بڑے بڑے منصوبوں میں اپنی تختیاں لگائیں اور سڑکیں بنائیں جن کافائدہ بھی شاید ہم نے خود ہی اُٹھایا ہم انہیں ہر وقت تنقید کی چھری پر رکھینگے تاکہ ان کے حوصلے پست ہوجائیں اور وہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کر نہ سکیں ۔واہ واہ ہم کیسے پاکستانی ہیں کہ جو ہمارے لئے کچھ نہ کریں انہیں ہم کُھل کھیلنے کا پورا پورا راستہ دیتے ہیں لیکن جو ہمارے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہے اُسے ہم ان لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں جو سوائے مخالفت کے اور طعنہ زنی کے کچھ نہیں کرتے ۔جو نا امیدی کے سوا کچھ نہیں دیتے ۔
جناب حسن نثار کے کالم ہمیں بہت پسند بھی ہیں اور ہم ان سے کہیں کہیں اختلاف کی ہمت بھی رکھتے ہیں ۔جناب حسن نثار اکثر کہتے ہیں کہ وہ مائیں نہیں رہیں جو عمران جیسے بچے جنم دیں بالکل ٹھیک عمران جیسا ہونا اللہ کی نعمت ہے لیکن حسن صاحب وہ مائیں ہیں اور عمران جیسے بچے بھی ہیں جو اسی کی صف میں اسکے ساتھ کھڑے ہیں ۔۔ مُجرم ہم ہیں جنہوں نے وہ ماحول ختم کردیا اپنے مفادات کے لئے جس میں عمران اور ہم جیسے اسی کی عمر کے لوگ پروان چڑھے ۔ہم نے ملک کی جڑیں کاٹنے والوں کو چھوٹ دی اپنی تن آسانی کے لئے ۔ہم نے خاموشی اختیار کہ ہر اُس بات پر جس پر خاموش رہنا ظلم تھا تعلیم کمزور کی گئی ہم خاموش رہے ۔اسکولوں میں جانور باندھے ہم نے کچھ نہیں کہا ۔اسپتال سے علاج نہ ملا ہم چُپ رہے ادروں نے کام نہیں کیا ہم نے سانس روک لی رشوت نے زور پکڑا ہم نے رشوت دی جھوٹ کو فروغ ملا ہم نے سچ کہنا مناسب نہ سمجھا ۔ہم نے کسی بھی طرح ان باتوں کے لئے ملک گیر کوشش نہیں کی ۔ہم تو وہ مُجرم ہیں جنہوں نے اپنے ملک کی تمام کارروائیوں کو بھی اپنی زبان میں لکھنے اور پڑھنے کی طرف توجہ نہ دی ۔آج اردو لکھنے اور پڑھنے والا نہ اپنے بِل پرھ سکتا ہے نہ کوئی عدالتی کار روائی سمجھ سکتا ہے کیونکہ ہم زہنی غلام ہیں جو اپنی شناخت کے خاتمے پر بھی منہ پر تالے لگا لیتے ہیں ۔کون سا ملک ہے جہاں اپنی زبان میں تعلیم نہیں دی جاتی ،ہم نے انگریزی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ۔۔ کیا ہم نے کبھی توجہ دی ۔شاید کبھی نہیں دوسری زبانیں لازمی آنی چاہئیں انہیں ہمارے نصاب کا لازمی حصہ بھی ہونا چاہئے لیکن اپنی زبان کی قربانی پر نہیں کیونکہ یہ ہمارے بچوں میں دوہرا معیار پیدا کرتا ہے جبکہ ایک غریب بچہ بعض اوقات ایک امیر کے بچے سے کہیں زیادہ زہین اور عقل مند ہوتا ہے ۔لیکن آگے نہیں آسکتا ۔ہم نے کبھی ان باتوں پر سوچا ہی نہیں جنہوں نے سوچا وہ اپنی سوچ کو آگے پھیلا نہ سکے کیونکہ مفاد پرست طاقتور تھے ۔
اپنی زبان اپنی شناخت کی حفاظت ہم سب کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ۔ہم نے تو عربی بھی اپنے اسکول میں پڑھی تھی کہ پہلا پیریڈ قران کلاس تھی ۔اپنی زبان میں آپ اپنی بات کا اظہار جس قدر آسانی اور سہولت سے کر سکتے ہیں دوسری زبان میں نہیں کر سکتے ۔کوئی فارم ہو کوئی ۔رسید ہو ۔کوئی سند ہو ،کوئی دستاویز ہو کوئی فیصلہ ہو سب انگریزی میں ۔کیوں ؟؟؟؟؟کیا عوام کا حق نہیں کہ فیصلہ اپنی زبان میں پڑھے ؟؟؟
لیکن مایوسی اب بھی نہیں ہے اب بھی اگر ہم کھڑے ہوجائیں حق کے ساتھ سچ اور انصاف کے ساتھ تو عمران جیسے لیڈر بہت سے پیدا ہونگے اور اپنے ملک کا دایاں بازو بنینگے ۔اس ملک کو صرف ا ور صرف کچھ سَر پھروں کی ضرورت ہے جو سیدھے رستے پر چلیں بھی اور دوسروں کو چلائیں بھی ۔اگر ہم سب برائی کے خلاف ایک عزم لے کر چلیں تو ہماری اُمید ہے کہ ملک میں برائی آٹے میں نمک کے برابر ہو جائیگی ۔کیونکہ نمک بھی ضروری ہے اُ سکے بغیر زائقہ نہیں آتا ۔۔۔۔
دولت مند ہونا یا دولت کمانا نہ برائی ہے نہ کوئی خرابی صرف اور صرف حق اور حلال کمائی لازمی ہے اور اس میں برکت بھی ہوتی ہے کیونکہ دولت مند لوگ بھی بہت ضروری ہیں جو اپنے پیسے سے غریبوں کی مدد بھی کرتے ہیں اور اپنا حصہ ملک کے کاموں میں ڈالتے بھی ہیں ۔یہ تقسیم اللہ مالکِ کُل کی جانب سے ہے فرمان ہے جس کا مفہوم ہے کہ “ہم کسی کا رزق تنگ کر دیتے ہیں کسی کا وسیع ‘ اس لئے ہر پیسے والا یا امیر بے ایمان نہیں ہوسکتا کرپٹ نہیں ہوسکتا ایماندار وہ ہے جو دولت کے بارے میں بتانے پر کوئی جھجک محسوس نہیں کرتا ۔بتاتا ہے کہ کیسے کما رہا ہے ۔کیا کاروبار ہے ؟؟ بلا وجہ امیروں کو نشانہ بنانا ہمیں جائز نہیں لگتا ۔
ہماری دعا ہے کہ اب ہم سب ہی شر اور فساد سے محفوظ رہیں اور ہر قسم کی بے اعتدالیوں سے بچے رہیں اللہ کی مدد اور رحمت کے ساتھ ۔انشاء اللہ

SHARE

LEAVE A REPLY