ہم سب مسلمانوں کی زندگی ازان سے شروع ہوتی ہے بچے کے پیدا ہوتے ہی سب سے پہلے اُس کے کان میں ازان دی جاتی ہے کہ بس اللہ ہی سب کچھ ہے وہ ہی بڑا ہے اور محمد (ص) اُس کے رسول ہیں ۔اور مرنے پر نمازَ جنازہ اور زندگی کا اختتام ۔ازان سے نماز تک عرصہ سب کے لئے مختلف ۔جس کی جتنی مہلت اتنا اُسے دنیا میں وقت گزارنا ۔اب اُس پر منحصر کہ وہ یہ وقت کیسے گزارے گا ۔کیونکہ پورا ایک ضابظئہ زندگی پاک کتاب کے زریعے دے دیا گیا کہ اس پر عمل کرو اور عمل کرنے کا راستہ سنت کے زریعے دکھا دیا گیا ۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دنیا سے اچھے اعمال اور اچھائیاں سمیٹ کر جاتے پیں بد قسمت ہیں وہ جنہیں اللہ سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ سب کچھ بس دنیا ہی میں چھوڑ جاتے ہیں ساتھ کچھ نہیں جاتا ۔لیکن عقل اور سمجھ سب کو دی گئی اور ساتھ ساتھ یہ تقاضہ بھی کیا گیا کہ تم سوچتے سمجھتے کیوں نہیں ۔لیکن ہم نے دنیا کو سامنے رکھا اور عاقبت کی طرف دھیان نہیں کیا شاید اسی لئے ہمارے سامنے بہت سی مثالیں ہیں کہ ہمیں سبق سکھاتی ہیں کہ دنیا کی ساری چیزیں یہیں رہ جانی ہیں ساتھ جانا ہے تو وہ سب کچھ جو آخرت کے لئے کمایا ۔
کلثوم نواز دنیا سے چلی گئیں ۔بیماری سال بھر چلی اور آخر کا کچھ وقت شاید وہ ہوش میں بھی نہیں تھیں ۔وقت اُن کے پاس اتنا ہی تھا ۔ اللہ اُن کی مغفرت فرمائے اور شریف فیملی کو صبر عطا فرمائے ۔آمین یہ بہت اچھی بات ہے کہ میاں صاحب ،اُنکی بیٹی اور داماد کو اتوار کی رات تک پے رول پر چھوڑ دیا گیا ۔تاکہ وہ انکی رسومات کو ادا کر سکیں بہت اچھی بات ہے کہ انسانی ہمدردی کا تقاضہ یہ ہی تھا ۔ہمیں اُمید ہے کہ باقی سزا بُھگتنے والوں کے لئے بھی ایسا نرم گوشہ رکھا جائے گا کیونکہ ماں ،باپ کی وفات ایک المیہ ہوتی ہے جس میں شریک نہ ہونے کا دُکھ ساری زندگی رہتا ہے اس لئے ہماری خواہش ہے کہ قانون پر عمل درآمد سب کے لئے کیا جائے ۔انصاف سب کے لئے برابر ہونا چاہئے ۔
چیف جسٹس صاحب نے عوام کے لئے بہت کچھ اچھے اور ٹھوس فیصلے کئے جن میں ایک ڈیم بنانے کا فیصلہ بھی ہے جس پر آج کل کچھ سیاست دان اور ہرکارے ہر طرح کی تنقید کر رہے ہیں ۔کوئی کہتا ہے خیرات سے ڈیم نہیں بنتے ،کوئی کہتا ہے کہ یہ کیا کہ ڈیم کے لئے ہاتھ پھیلا رہے ہو ،کوئی کہتا ہے یہ تو آج تک ہوا ہی نہیں کہ چندے سے ڈیم بنے ۔۔بالکل ٹھیک جب آپ جیسے لوگوں کی عقل میں بات آتی ہی نہیں تو اعتراض کرنا تو آسان بات ہے آپ نے کبھی ان بنیادی باتوں پر توجہ ہی نہیں دی اس لئے اب جو لوگ عوام کے مفاد کی بات کرتے ہیں تو آپ کو اس میں ستر عیب اور خامیاں نظر آتی ہیں ۔ہم پوچھتے ہیں کہ آپ نے کیوں اپنے اپنے اقتدار کے وقت میں نہیں سوچا کہ یہ پانی کا مسئلہ کتنا بڑا ہو جائے گا آپ نے نہیں بنایا تو سب آپ کو برا بھلا کہہ رہے ہیں کہ کاش یہ باتیں پچھلی حکومتوں کے ایجنڈے میں شامل ہوتی ہیں لیکن جو اس بات کو عملی جامہ پہنانے کی بات کر رہے ہیں اُن پر آپ تنقید کے تیر برسا رہے ہیں اس لئے کہ آپ کو سُبکی ہوگی اگر یہ ڈیم بن گئے ۔آپ نے تو کبھی عوام کے مسائل کو چھیڑا ہی نہیں ۔اپنے لوگوں سے مدد مانگ رہے ہیں اور الحمدُ للہ لوگ اس کارِ خیر میں اپنی اپنی بساط کے مطابق اپنا حصہ بھی ڈال رہے ہیں ۔کیونکہ اُنہیں مدد مانگنے والوں پر اعتنماد ہے اور وہ جانتے ہیں کہ جو کہہ رہے ہیں انشاءاللہ کرینگے بھی ،وزیرِ اعظم نے بھی اپیل کردی جو سونے پر سہاگہ ہوگئی ۔اور ہر شعبئہ زندگی سے تعلق رکھنے والا شخص اپنی اپنی جگہ اس کارِ خیر میں شامل ہو رہا ہے کیونکہ قومیں اپنی مدد آپ کرتی ہیں تو سُر خرو ہوجاتی ہیں ۔ہمارے اسلاف بھی کنواں کھودنے پر زور دیتے تھے اور صدقئہ جاریہ کے لئے بھی کنواں کھودنے اور لوگوں کو پانی پہنچانے کی ترغیب دی جاتی تھی جو سُنتِ رسول(ص) بھی ہے ۔لیکن ہم کچھ سوچتے ہیں نا اچھے کرنے کی حمایت کرتے ہیں ۔ہمارے پچھلے حکمرانوں نے اپنی حکومتوں میں نہ خود کچھ کیا نہ کرنے دینا چاہتے ہیں ۔
کہتے ہیں حکومت نے جو کچھ کہا تھا ابھی تک کیا نہیں ہمیں بڑی حیرت ہے کہ وہ لوگ جو پندرہ ،پندرہ ،دس ،دس سال گزار گئے وہ ایک ماہ کی حکومت سے کیا چاہتے ہیں ۔ہمارا تو خیال تھا کہ اب سب ہی اتنے بڑے دھکے کے بعدکہ پارٹیاں تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ، سنبھل جائینگے اور اپنے ملک اور قوم کے مفادات کی خاظر مل جُل کر کام کرینگے ۔کیونکہ یہ سارے کام پاکستان کے لئے ہو رہے ہیں ۔ہم سب کو ہی اپنی اپنی زمے داریوں پر نظر رکھنی چاہئے ہر کام حکومت کا نہیں ہوتا ۔ہمیں خود بھی قانون پر عمل کرنا چاہئے ۔گلی محلوں میں صفائی کا خیال رکھنا چاہئے بہت سارے کام اپنی مدد آپ کے تحت ہو سکتے ہیں ۔ہمیں لگتا ہے جب حکومت ہمارے لئے سوچ رہی ہے تو ہمیں بھی اپنے ملک کے لئے سوچنا چاہئے ۔سب سے پہلے اگر دیانتداری کو اپنا لیں تو ہر جگہ رحمت برسے گی ۔چاہے وہ آفس ہوں یا دوکانیں ۔ڈاکٹر ہوں یا انجینئیر ۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی جب مجھے ایک ڈینٹسٹ کے پاس جانا پڑا کیونکہ میرے شوہر کے دانتوں میں تکلیف تھی لیکن کیونکہ اُن کا بائی پاس ہوا تھا اسلئے فیملی ڈینٹسٹ نے ایک سرجن کے پاس بھیج دیا ۔اُس نے اچھا خاصہ بِل بنایا اور پہلے ہی ادا کرنے کے لئے کہا خیر ہم نے وہ بِل دے دیا اُس نے اُن کے دانت پر کام کیا ۔ہم واپس آنے لگے تو ڈاکٹر نے روکا کہ ٹہر جائیں ۔ہم انتظار کرنے لگے کہ شاید مزید رقم چاہئے لیکن ہم حٰران رہ گئے جب اُس نے ڈالر واپس کئے کہ“ جتنا وقت میں سمجھ رہا تھا اور جتنے وقت کے پیسے میں نے چارج کئے تھے اُس سے کم وقت لگا اس لئے یہ بیلنس واپس ‘ ‘ وہ تو چلا گیا مگر ہمیں حیرت میں ڈال گیا ہم نے سوچا کہ یہ تو وہ کردار ہیں جو ہمارے تھے ۔لیکن ہم ان باتوں سے کوسوں دور ہوگئے ہیں ہم تو اپنے وقت سے بھی زیادہ کا چارج کر لیتے ہیں نہ کہ کسی کو رقم واپس کی جائے دل سے دعا نکلی کاش میرے ملک میں بھی ایسے ہی لوگ نظر آنے لگیں ۔
مجھے لگا کچھ مشکل بھی نہیں اگر ہم سب اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں اور دیکھیں کہ ہم کہاں غلط ہیں تو شاید ہمیں بہت سے راستے نظر آئینگے خوشحالی اور ترقی کے ۔
ملک میں بہت کچھ اچھا ہورہا ہے ہمیں امید ہے کہ یہ حکومت کچھ کر دکھائے گی لیکن افواہیں بھی اتنی ہی تیزی سے پھیل رہی ہیں ۔یا پھیلائی جا رہی ہیں ، اب بھی لوگ ہر اچھا کام کرنے والے کو بلا وجہ ہی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ہمارا خیال ہے کہ ایسی باتوں پر توجہ نہیں دینی چاہئے اور جو کام کرنا چاہتے ہیں بغیر کسی دباؤ کے کریں کیونکہ تنقید کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہوں نے خود کچھ نہیں کیا اسی لئے وہ کوئی کام ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے ۔اب یہ بھی پتہ چل رہا ہے کہ کون کتنا مُخلص ہے عوام سے ۔
اللہ میرے ملک کا محافظ ہو آمین
ایک نظر خود پر بھی .. عالم آرا
954
0












