ٹیریئن عمران خان کی بیٹی ہے ، اس کے کئی ثبوت موجود ہیں: رانا ثنا اللہ

0
1007

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ٹیریئن عمران خان کی بیٹی ہے جس کے کئی ثبوت موجود ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عمران خان نے خود بھی کبھی اس کا انکار نہیں کیا، مبینہ بیٹی ٹیریئن کو کاغذاتِ نامزدگی میں ظاہر نہ کرنے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان سے جواب طلب کر لیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے تحریری حکم میں عدالت نے قرار دیا کہ پٹیشنر کے مطابق عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں دو کا ذکر کیا، ایک کی معلومات چھپائیں، دراصل عمران خان کے 3 بچے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ عام انتخابات میں کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت غلط معلومات دی گئیں۔

دوسری جانب پٹیشنر کے وکیل نے عدالتی نظیر پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ یہ معاملہ دیکھ سکتی ہے، عدالت نے عمران خان اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو دو ہفتوں کے لیے پری ایڈمیشن نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین کے وکلا سے آئندہ سماعت پر دلائل طلب کر لیے ہیں۔

,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,,

اسلام آباد ہائی کورٹ نے مبینہ بیٹی ٹیریان کی معلومات چھپانے پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف نااہلی درخواست پر تحریری حکم جاری کر دیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق نے شہری کی درخواست پر سماعت کے بعد تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے کے مطابق پٹیشن میں میانوالی سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی عمران خان کی نااہلی کی استدعا کی گئی تھی، پٹیشنر کے مطابق عام انتخابات میں کاغذاتِ نامزدگی جمع کرواتے وقت غلط معلومات دی گئیں۔

تحریری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ پٹیشنر کے مطابق عمران خان نے بچوں کی تفصیل میں 2 بیٹوں کا ذکر کیا، ایک بیٹی کی معلومات چھپائیں، پٹیشنر نے دستاویزات سے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ دراصل عمران خان کے 3 بچے ہیں، عدالت نے پٹیشنر کے وکیل سے درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل طلب کیے۔

تحریری حکم نامے کے مطابق پوچھا گیا کہ آرٹیکل 199 کے تحت ہائی کورٹ سماعت کر سکتی ہے یا الیکشن کمیشن جانا چاہیے، جس پر پٹیشنر کے وکیل نے عدالتی نظیر پیش کرتے ہوئے کہا کہ عدالت یہ معاملہ دیکھ سکتی ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ وکیل نے کہا کہ حقائق پر مبنی معاملے پر عدالت کا دائرہ اختیار ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے۔

عدالت کی جانب سے جاری کیے گئے حکم نامے میں عمران خان اور الیکشن کمیشن سمیت تمام فریقین کو 2 ہفتوں کے لیے پری ایڈمیشن نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے۔

حکم نامے کے مطابق فریقین کے وکلا آئندہ سماعت پر درخواست کے قابلِ سماعت ہونے پر عدالت کی معاونت کریں گے۔

SHARE

LEAVE A REPLY