شمالی افغانستان میں واقع ایک فوجی اڈے پر سرکشوں کی جانب سے علی الصبح ہونے والے ایک حملے میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 40 اہلکار ہلاک ہوئے۔ شورش پسندوں کی جانب سے ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والے حملوں کے سلسلے کا یہ تازہ ترین واقع ہے، جس دوران سرکاری افواج کا شدید جانی نقصان ہوا۔

صوبہٴ بغلان میں، جہاں یہ حملہ ہوا، ایک سکیورٹی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ’افغان نیشنل آرمی‘ کے 31 فوجی اور نو پولیس والے شامل ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ حملہ علاقے کے دو فوجی اڈوں پر کیا گیا، جن میں 70 افغان فوجی ہلاک ہوئے، حالانکہ میدان جنگ میں مقابلے میں باغیوں کے دعوے عمومی طور پر مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتے ہیں۔

یہ حملہ ایسے میں سامنے آیا ہے جب طالبان نے ہمسایہ صوبہٴ فریاب میں افغان نیشنل آرمی کے ایک کلیدی اڈے پر حملہ کیا، جس دوران درجنوں فوجیوں کو ہلاک کیا گیا یا یرغمال بنایا گیا۔

حکام نے منگل کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا ہے کہ اڈے پر تعینات 70 میں سے 40 فوجیوں نے طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالے۔

اُنھوں نے بتایا کہ باقی فوجی یا تو ہلاک ہوئے یا پھر قریبی پہاڑیوں کی جانب بھاگ نکلے، جس سے قبل دو روز تک گھمسان کی جھڑپیں جاری رہیں۔

غزنی میں صورت حال میں بہتری

دریں اثنا، اقوام متحدہ نے بدھ کے روز متنبہ کیا ہے کہ جنگ کے شکار غزنی کے جنوب مشرقی شہر میں ہونے والی لڑائی کے نتیجے میں شہری آبادی کو ’’شدید جانی نقصان‘‘ پہنچا ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY