محمد جلال الدین رومی 1207ء میں ایران میں پیدا ہوئے اور تقریباً 66 سال کی عمر میں سن 1273ء بمطابق 672ھ میں انتقال کر گئے اور انکا مزار ترکی میں قونیہ شہر میں واقع ہے ۔ حضرت مولانا رومی فرماتے ہیں کہ قونیہ شہر کو ہم نے مدينة الاولياء کا لقب دے دیا ہے اس شہر میں ولی پیدا ھوتے رھیں گے

حضرت مولانا روم کے مزار مبارک کے ایک حصہ میں شیشے کی ایک الماری میں حضرت مولانا روم کے تبرکات محفوظ ہیں جن میں حضرت مولانا روم کا لباس مبارک، حضرت مولانا کی جائے نماز، کندھے پر ڈالنے والا رومال، مولانا کی تین ٹوپیاں اور دو عدد جبے سرفہرست ہیں۔

اردو زبان کی پہلی مثنوی جسے فخرالدین نظامی نے 1425ء سے 1439ء کے وسطی زمانے میں تحریر کیا۔ کدم راؤ پدم راؤ اردو ادب کی قدیم ترین دریافت شدہ مثنوی ہے جسے دکنی اُردو کی دستیاب شدہ قدیم ترین منظوم ادب سمجھا جاتا ہے۔

جلال الدین رومی ؒ نے 3500 غزلیں 2000 رباعیات اور رزمیہ نظمیں لکھیں

مولانا رومی کی مثنوی معنوی کو وجد آفرین کلام کہا جتا ہے، یہ علم و حکمت کا ایک منفرد سمندر ہے، ندرتِ خیال کی ایک سحر خیز وادی ہے، تخلیقی ادب کا کوہ گراں ہے، اشارات، تشبیحات اور استعاروں کا وسیع و عریض جہاں ہے، آفاقی حقائق کا موجزن چشمہ، باطنی علوم کی آبشار اور لطافت کی سلسبیل ہے

مثنوی معنوی کو ”ہست قرآن در زبان پہلوی ” کہا جاتا ھے، یہ تشریح ایک ایسی شمع فروزاں ہے جس کی لو پر اہل دل پتنگوں کی طرح ٹوٹ پڑتے ہیں، بیش بہا لوگوں نے اپنے گریباں چاک کئے، قیمتی اور منقش قبائیں اتار کے پھینک دیں، سونے کے نوالے اپنے اوپر حرام کر دیئے اور مولانا روم کے گرد رقص کناں ہو رہے، ایک زندہ اور آفاقی کلام کی یہی خاصیت ہے کہ وہ ہر دور میں زندہ رہتا ہے، وجد کا یہ سلسلہ آج بھی رکا نہیں، مثنوی کا وجد آج بھی ویسا ہی طاری ہوتا ہے جیسا ان کے سامنے ہوتا تھا

وجد ایک ایسی قبا ھے جو انسان کا اپنے اوپر سے اپنا اختیار چھین لیتی ھے، یہ قبا لاکھ کوشش کے باوجود انسان خود نہیں اوڑھ سکتا، یہ بیٹھے بٹھائے انسان کو ایک اڑتی ھوئی چادر کی طرح آکے نہیں ڈھانپتا بلکہ یہ من کے چشمے میں کوئی کنکر گرنے سے اندر سے اٹھتا ھے، اس کی مقدار متوازن ہو تو بندہ جھوم کے رہ جاتا ھے اور اگر یہ من کے اوپر حاوی ہو جائے تو بندہ محو رقص ہو جاتا ھے

مولانا رومی نے پچیس سال کے عرصے میں 70،000 اشعار کہے ہیں جن میں سے 26،666 اشعار مثنوی میں ہیں اور باقی سب دیوان شمس تبریز میں ہیں، مثنوی میں چھ دفاتر ہیں جو تین جلدوں میں تقریباً ساڑھے تیرہ سو صفحات پر مشتمل ہیں

رومی کہتے ہیں کہ یہ مادی دنیا ایک جیل کی طرح ہے۔ اگر کوئی انسان سچ تک پہنچنا چاہتا ہے یا روح کی حقیقت جاننا چاہتا ہے، تو اسے اس جیل سے باہر نکلنا ہوگا۔ رومی کہتے ہیں ایک جیل یہ دنیا ہے اور ایک جیل انسان کے اندر ہے، انسانوں کو سچ تک پہنچنے کے لئے ان دونوں جیلوں سے باہر نکلنا ہو گا۔

رومی کہتا ہے انسان کو ایسی جھیل، ندی کی طرح ہونا چاہیے جس کا مقدر سمندر ہے۔ رومی کے مطابق جنت و دوزخ کچھ نہیں، حقیقت میں ایک دنیا ہے جہاں سے روشنی آ رہی ہے اور وہی روشنی ہے جہاں سب کچھ ہوتا ہے، ہوتا تھا اور ہوتا رہے گا اور وہی روشنی ہی حقیقی سچ ہے۔ اس سچ تک پہنچنے کے لئے دنیا کے تمام قوانین کو چھوڑنا پڑے گا۔ نیکی، بدی، حلال اور حرام، جھوٹ اور سچ کی دنیا کے آگے ہی حقیقی دنیا ہے جہاں جہان بن اور مٹ رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وجودِ آدمی از عشق می رَسَد بہ کمال
گر ایں کمال نَداری، کمال نقصان است

آدمی کا وجود عشق سے ہی کمال تک پہنچتا ہے، اور اگر تو یہ کمال نہیں رکھتا تو کمال (حد سے زیادہ) نقصان ہے۔
——–

مردہ بُدم زندہ شُدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم

میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔

رومی کا کہنا ہے کہ انسان کو موت سے نہیں گھبرانا چاہیے کیونکہ موت زندگی کا ناگزیر حصہ ہے، اس کائنات میں ہر چیز موت و زندگی کا شکار ہوتی ہے، پھر وہ کسی اور شکل میں زندگی کو اختیار کر لیتی ہے۔ رومی کے مطابق انسان کی مادی خصوصیات ختم نہیں ہوتی، انسان کی مادی خصوصیات اس کائنات میں اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہے۔ رومی کہتے ہیں کہ کل کسی اور شکل میں وہ ایک معدنی ذرہ تھے اور جب ان کی موت ہوئی تو وہ ایک پودا بن گئے، جب ان کی پودے کی حیثیت سے موت ہوئی تو وہ جانور کی شکل میں ڈھل گئے اور تب کہیں جا کر وہ انسان بن گئے۔

رومی کے مطابق مادی دنیا میں جو مادی مسائل ہیں، اس پر بہت زیادہ توجہ دینا شاید اتنا اہم نہیں ہے۔ رومی کے مطابق روحانی پہلو کے قریب ہونا ہی زندگی کا حقیقی مقصد ہے۔ اس کا طریقہ ایک ہی ہے کہ انسان اپنی روح کے قریب ہو جائے۔ انسان نے روح کے قریب ہونا ہے تو وہ عقل اور منطق کی قوت کا استعمال کرنے کی بجائے روحانی قوت کا استعمال کرے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر احساس کی قوت کو پیدا کرے، اور یہ احساس موسیقی، شاعری اور رقص کے ذریعے اجاگر ہو سکتا ہے۔

رومی فرماتے ہیں کہ اے انسان تو جیسے جماد تھا، پھر نبات ہوا، بعد میں حیوان اور پھر علم والا انسان بنا۔ رومی کے مطابق یہ ارتقاء رکے گا نہیں بلکہ انسان بہت آگے جائے گا، انسان فرشتوں سے بھی بالاتر ہو کر بحر بیکراں میں جا ملے گا۔ رومی کے مطابق وحدت وجود کا مطلب یہ ہے کہ خدا ایک ہے۔ اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ خدا کا کوئی اور شریک بھی نہیں۔ کائنات میں صرف خدا ہی کی ذات ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے سب خدا ہی خدا ہے۔

رومی صاحب نے اس کلام میں مختلف اسباق کو زیر بحث لایا ہے جن میں فلسفیانہ اور صوفیانہ رنگ میں محبت کو ایسی روحانی تازگی اور دِلی تڑپ کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ منافقت، کھوکھلے پن اور بناوٹ کا قلع قمع کر دیتے ہیں

انہوں نے مذہب سے خوف کے رنگ کو نہ صرف اڑا کے رکھ دیا ہے بلکہ خوف کے ہاتھوں لگے زخموں کو محبت کے تریاق سے مندمل بھی کیا ہے، انسان کی دینی، دنیاوی اور اخروی الجھنوں کو دور کر کے انسانی ذھن کی نشو و نما کو بڑے احسن اور ٹیکٹ فل انداز سے ہینڈل کیا ہے، رومی صاحب انسان کو گردن سے نہیں بلکہ دل سے پکڑتے ہیں اور یہ کام صرف مسلمان کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہندو، سکھ، عیسائی، پارسی بلکہ یہ لطف و کرم وہ ہر انسان کے ساتھ کرتے ہیں

رومی صاحب کو بلا تخصیص رنگ و نسل اور مذہب ہر کوئی اپنی سوچوں کا ترجمان، دور رس مفکر اور اپنا شاعر سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ رومی صاحب صرف تصوف کے آستانوں پر ہی نہیں بلکہ یورپ کے چرچوں، صنم خانوں اور ادبی حلقوں میں بھی برابر سنے جاتے ہیں، پچھلے پندرہ سالوں میں مولانا روم امریکہ کے موسٹ فیورٹ شاعر کے طور پر جانے گئے ہیں، مولانا کے کلام کو ترجمہ کر کے نہ صرف گایا گیا ہے بلکہ اس کلام کے عکس میں پینٹنگز، شاعری، ادب حتیٰ کہ رقص کو بھی ری شیپ کیا گیا ہے

شاہ رام شیوا کے مطابق رومی صاحب میں بارہ خوبیاں ہیں، عام آدمی سے ہمکلام ہوتے ہیں، ملٹی لیول یعنی تہہ دار گفتگو کرتے ہیں، سب کےلئے یگانگت کی بات کرتے ہیں، دوستانہ گفتگو کرتے ہیں، شخصیت بلڈنگ یا پرسونل پروسس کو مہمیز دیتے ہیں، ان کے کلام کا ہر بار ایک نیا معنی کھلتا ہے، محبت کا عنصر بہت نمایاں ہے، ایک محبوب شخصیت کے طور پر ملتے ہیں،تہذیبوں کے درمیاں پل کا کام کرتے ہیں، شاعری کو ناپسند کرنے والے لوگ بھی رومی کو نظر انداز نہیں کر پاتے، انسان اپنی کایا پلٹتا ہوا محسوس کرتا ہے، رومی بہت اعلیٰ روحانی رہنما ہیں

SHARE

LEAVE A REPLY