چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب سید کلیم امام کی سرزنش کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ سیاسی لوگوں کی غلامی چھوڑ دیں ، اُن کے محتاج نہ رہیں ۔
ڈی پی اوپاک پتن رضوان گوندل کے تبادلے پر ازخودنوٹس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کر رہا ہے۔
دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ انہوں نے تمام آئی جیز کو بلا کر کہا تھا وہ سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد ہو جائیں، تاہم آئی جی پنجاب نے بات یاد نہیں رکھی۔
کیس کی سماعت کے موقع پر خاور مانیکا اور ان کی بیٹی مبشرہ مانیکا بھی عدالت عظمیٰ میں موجود ہیں۔
اس سے قبل خاورمانیکا کی سپریم کورٹ آمد کے موقع پر جب میڈیا نے ان سے بات چیت کرنا چاہی تو انہوں نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ ، میرے خیال میں مجھے ابھی بات نہیں کرنی چاہیے۔
اس موقع پر خاور مانیکا نے بتایا کہ میرے ساتھ میری بیٹی بھی آئی ہے اور ہم آج عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔












