جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ اسلامی شرعی طریقے کے مطابق طے پانے والے عقد النکاح کو قانونی طور پر تسلیم کرے اوراس پر جلد از جلد قانون سازی کرکے اس قانونی سقم کو دور کرے۔

جنوبی افریقا کے مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا میں اسلامی شرعی عقد نکاح کو قانونی سقم کے باعث تسلیم نہ کرنے کے نتیجے میں مسلمان خواتین کومختلف نوعیت کی مشکلات کا سامنا رہتا ہے خاص طور پر طلاق کی صورت میں وہ اپنے حقوق کے حصول میں مشکلات کا شکار رہتی ہیں ۔

ایک طویل عرصے تک تنازع کا شکار رہنے والے اسلامی شرعی نکاح کے معاملے پر جنوبی افریقا کی عدلیہ کا یہ احسن اقدام ہے جس کے بعد جنوبی افریقا میں ہزاروں مسلمان خواتین کو انصاف ملنے کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جنوبی افریقا کی سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ 2سال کے اندر اندر قانون سازی کر کے اسلامی شرعی طریقے کے مطابق طے پانے والے عقد النکاح کو آئینی طور پر تسلیم کرے اوراسلامی شرعی طریقے کے مطابق عقد النکاح کو دستوری طور پر تسلیم کرنے کے لئے قانون سازی مکمل کرے ۔

SHARE

LEAVE A REPLY