پاکستان ائیر فورس کا سات ستمبر۔ یوم فضائیہ

0
106

یوم فضائیہ 1965ء کی جنگ میں پاک فضائیہ کی شاندار کارکردگی کی یاد میں منایا جاتاہے جب بزدل بھارتی افواج نے اچانک پاکستان پر حملہ کر دیا۔ ا س موقع پر پاک فضائیہ نے پاک افواج کے شانہ بشانہ وطن عزیز کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کو یقینی بناتے ہوئے دشمن کی فضائی طاقت کو نیست و نابود کر دیا
جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ کے صرف ایک جنگجو اسکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں بھارت کے 5 میسٹر و ناٹ لڑاکا ٹاپس طیارے مار گرائے ۔ اسی طرح پاک فضائیہ کے دوسرے جوانوں نے بھی کمال مہارت سے دشمن کے دانت کھٹے کر دیئے
پاک فضائیہ (Pakistan Air Force) پاکستان کی فضائی حدود کی محافظ ہے۔ یہ زمینی افواج کو بھی مدد فراہم کرتی ہے۔ اس کے پاس 1530 ہوائی جہاز ہیں۔ ان میں میراج، ایف-7، ایف-16 اور کئی دوسرے شامل ہیں۔ پاک فضائیہ کے پاس 2015 میں اس کے اپنے بنائے گئے 200 جے ایف-17 تھنڈر ہیں۔ پاک فضائیہ کے پائلٹوں کا شمار دنیا کے بہترین پائلٹس میں ہوتا ہے۔
جب روس نے افغانستان پر حملا کیا تو پاکستان کو روس سے بہت خطرہ تھا۔ اس لیے پاک فضائیہ نے اپنے آپ کو جدید اسلحے سے لیس کرنے کا فیصلہ کیا۔

فرانس نے پاکستان کو اپنے نئے میراج 2000 بیچنے کی پیشکش کی لیکن پاک فضائیہ کے اعلی افسران ایف-16 یا ایف-18 خریدنے کا سوچ رہے تھے۔ لیکن امریکہ نے ایف-16 اور ایف-18 بیچنے سے انکار کر دیا اور انکی جگہ ایف-5، ایف-20 اور اے-10 تھنڈربولٹ بیخنے کی آفر کی۔ لیکن رونلڈ ریگن جب امریکہ صدر بنا تو اسنے ایف-16 کو بیچنے کا فیصلا کیا۔ اس معاملے میں جنرل ضیاء کی ضد کام کر گئی جو ایف 16 لینے پر ڈٹ گئے تھے

1987 سے 1997 تک پاک فضائیہ نے اپنے ایف-7 اور میراج-3 لڑاکا جہازوں کو تبدیل کرنے کے ليے ایف-16 خریدے۔

SHARE

LEAVE A REPLY