اس زمانے میں ٹی وی ابھی نہیں آیا تھا سو ریڈیو کی حکمرانی تھی اور کیا خوب پروگرام ہوا کرتے تھے ۔تلفظ، الفاظ کا زیر و بم اتار چڑھاو، جملوں کی درست ادائیگی یہیں سے سیکھی جو بعد میں پڑھاتے ہوے، تقریر کرتے ہوئے بہت کام آئی ۔جشن تمثیل، ہفتہ طلبہ، مشاعرے کیا اعلی پائے کے پروگرام ہوا کرتے خواتین اوربچوں کے پروگرام الگ گویا ریڈیو ہر طبقے کے لئے تفریح کے ساتھ تعلیم و تربیت کا بھی ذریعہ تھا۔اور کیوں نہ ہوتا کہ بڑے بڑے ادیب شاعر اس ادارے سے وابستہ تھے

زیڈ اے بخاری اور انکی آواز میں مرثیہ میر انیس کہ جنگ کربلا کانقشہ کھینچ کر رکھ دیتے ۔جمعے کو فلمی گانوں کی بجاے سارا دن قوالیاں نشر ہوتیں ۔دو قوالیاں مجھے آج تک یاد ہیں ایک میں حضرت ایوب علیہم السلام کا قصہ کاقصہ پرسوز انداز میں بیان کیا جاتا تو دوسری طرف قوالی میں زمین و آسمان کے درمیان مکالمہ ومقابلہ ہوتا آخر میں زمین یہ کہہ کر مقابلہ جیت جاتی ہے کہ اس کے سینے پرمحبوب رب کائنات خاتم النبیین کامزار اقدس ہے اورآسمان اپنی شکست اورزمین کی برتری تسلیم کرلیتاہے اسکے بول تھے
زمیں بولی، فلک بولا
پھر غزلیات وشاعری کا اعلی میعار لوک گیت کہ سن کر وجد طاری ہو جاے میں پڑھتے ہوئے ہمیشہ ریڈیو بھی ساتھ ساتھ سنتی ۔کالج، ہاسٹل تک ریڈیو کا ساتھ رہا تب اس تبدیلی کے ساتھ کہ بھاری بھرکم ریڈیو کی جگہ منے سے ٹرانسسٹر نے لے لی تھی۔جس سے بستر کے اندر سنتے سنتے سپنوں کی دنیا سے نیند کی وادی میں اتر جاتے۔میں سمجھتی ہوں کہ کتاب وآواز انسان کی قوت متخیلہ کو مہمیز کرتے ہیں ہم جو پڑھ رہے ہوتے ہیں سن رہ ہوتے ہیں ساتھ ہی ساتھ پردہ زہن پر فلم چل رہی ہوتی ہے ۔مثلا میکبیتھ پہلے پڑھا۔فلم بعد میں دیکھی تو ایک آنکھ نہ بھائی ۔کہ میری تصوراتی لیڈی میکبیتھ کہیں زیادہ خوب صورت تھی ۔
کتابیں، ریڈیواورتنہای نے تصور کی دنیا سجادی ۔خود کلامی کی عادت پڑگئ اور خود کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگنے لگا آج بھی اچھا لگتا ہے مکمل تنہائی اور عبادت رب سے چپکے چپکے سرگوشیوں میں باتیں، مناجاتیں
پھر کوئی کتاب اور لکھنااس زمانے میں لڑکوں کے پاس سائکلیں نہیں تھیں لڑکیوں کو کون سائکل چلانے دیتا۔اور کہاں سو اپنے تصور وتخیل کی سر سبزوشاداب وادیوں میں خوب خوب سائکل چلائی ہے ۔ستار پر ایسی ایسی دھنیں بجائی ہیں کہ واہ واہ

لوگوں میں سادگی بہت تھی پیسہ تھا بھی تو بھی بناوٹ وتصنع سے پاک زندگی تھی موٹریں خال خال لوگوں کے پاس تھیں افتخار گیلانی کے والد ڈیڈی کے دوست تھے کہیں جانا ہوتا تو ان کی گاڑی آجاتی ۔میرے ایک ما موں (جو افتخار گیلانی کے دوست تھے )ان زمانوں میں انگلینڈ سدھارے تو افتخار گیلانی خوداپنی گاڑی میں ہمیں پشاور ایر پورٹ لے کر آے ۔جہاں اسوقت آج کی طرح کوئی پابندیاں نہ تھیں آئر پورٹ کے بالکل قریب ہم سب نے روتے دھوتے انہیں رخصت کیا _لوگوں کو پیدل چلنے کی عادت تھی ۔اوردوردورتک لوگ ہنسی خوشی چل کر جاتے ۔پھپھو اماں کو باہر جانے کے لئے بہانہ چاہیے ہوتا۔لہذا کبھی کبھی وہ ہمارا ہاتھ پکڑ تیں اور شاہ پور کی طرف چل پڑتیں شاہ پور جسٹس اے آرکیانی کا گاوں (ہماری دورکی میں رشتہ داری ان سے)جی وہی آپکےسمیتشاہ پور گاوں میں داخلے سے پہلے راہ میں ندی پڑتی تھی صاف شفاف ٹھنڈے پانی کی اس میں قدم بقدم چلتے ہوے ہم دوسرے کنارے پر پہنچتے اور اطمینان کا سانس لیتے ایک دفعہ ندی میں پانی زیادہ اور بہاو تیز تھا تو پھپھو اماں نے مجھے گود میں اٹھا کر ندی پار کی ۔پھر بڑے ہو کر تانگے میں، پھر گاڑی میں گئے تو خود یقین نہیں آیا کہ بچپن میں ہم اتنی دور دور پیدل چل لیا کرتے تھے ۔امی کی ایک کزن ہندو محلے میں رہتی تھی یہاں ھندووں کے چھوڑے ہوے بلند وبالا کئ منزلہ مکانات تھے ۔اس محلے میں داخل ہونے کے لئے ایک ایسی مسقف گلی (جس پر چھت ہو)
سے گزرنا پڑتا جو اتنی تنگوتاریک تھی کہ ایک وقت میں ایک آدمی سہولت سے گزر سکتا تھا دوسرا بندہ آجاتا تو ایک کو دیوار کے ساتھ چمٹ کر کھڑا ہونا پڑتا حیرت ہے کبھی کبھی دن میں کئی دفعہ یہاں سے گزر کر امی کی کزن کے گھر گئے کبھی ڈر نہیں لگا (اب سوچ کر ڈر لگتا ہے )انکی شادی اردو بولنے والوں میں ہوئی تھی انکی ساس بہت سی چوڑیوں والا چوڑی دار پاجامہ پہنے ہوتیں اور سارا وقت کھٹا کھٹ چھالیہ کترتی چلی جاتیں -پھر بڑے اہتمام سے پان بناتیں اور ہمیں بھی دیتیں ہمیں انکا پان بنانے کا انداز اتنا پسند تھا کہ گھر میں اہک بہت خوبصورت پاندان پڑاتھا (خالی )تو اکثر اس پاندان کو لے کر پان بناتے رہتے (فرضی )یعنی جھوٹی موٹی کے
آج کل تو ہم سوچ بھی نہیں سکتے کہ بچوں کو کہیں اکیلے جانے دیں دو قدم پر سکول ہے تو پھر بھی گاڑی لگی ہوئی ہے کپڑے بے حساب کھلونے بےشمار
مہنگے برگر اور پیزے طرح طرح کی آئس کریم مگر بچے پھر بھی اکثر نا خوش،بور ہو رہے ہیں کی تکرار -بچوں میں نفسیاتی مسائل میں اضافہ دیکھ کر حیرت پہلے کم سہولتوں میں بچے خوش باش نظر آتے اور اب۔۔۔۔۔۔۔شاید چیزوں کی کثرت نے انکی قدر و قیمت گنوا دی
قسط نمبر 3 جاری.












