سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو ضمانت منظور ہونے پرڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق توہین مسجد نبوی ﷺ میں گرفتار کیے گئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو آج فتح جنگ کی ایڈیشنل عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے پر رہا کردیا ہے۔
راشد شفیق کی ضمانت فتح جنگ کےایڈیشنل سیشن جج عارف محمود نے منظور کی۔ شیخ راشد شفیق کو دوستوں وکلاء اور کارکنوں کی ایک تعداد اٹک جیل سے ریسیو کرنے آئے ہوئے تھے جہنوں نے پھولوں کی پتیاں پھینک کر استقبال کیا۔
بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید کے بھتیجے راشد شفیق کا کہنا تھا کہ مجھے گرفتار کرکے ضلع اٹک کے مختلف تھانوں میں قید رکھا اور دہشت گردوں کی طرح آنکھوں پر پٹی باندھی گئی مگر پھر بھی اپنے قائد عمران خان اور شیخ رشید کے ساتھ کھڑا ہوں۔
شیخ رشید کے بھتیجے شیخ راشد شفیق کو مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر 30 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا ، فیصل آباد پولیس نے اسلام آباد ایئرپورٹ سے شیخ راشد شفیق کو عمرے سے واپسی پر اسلام آباد ائیرپورٹ سے گرفتار کیا۔ جس کے بعد وہ 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے پاس رہا اور پھر جیل منتقل کردیا گیا، انہیں 10 روز بعد رہا کردیا گیا۔
واضح رہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے پر سابق وزیراعظم عمران خان سمیت 150 افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور پولیس نے یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 295، 296 اور 109 کے تحت درج کیا تھا۔













