سینیٹ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اور پروٹوکول کے مابین فرق واضح کریں اور وزیراعظم عمران خان کے نہ چاہنے کے باوجود انہیں بلیو بک کے مطابق سیکیورٹی مہیا کرے۔

’بلیو بک‘ ایک ایسی دستاویز ہے جس میں پروٹوکول سے متعلق معاملات درج ہوتے ہیں، اس کے علاوہ وی وی آئی پی موومنٹ، خاص طور پر وزیر اعظم اور صدر مملکت کی حفاظت کا جامع پلان اور کسی بھی ہنگامی صورتحال یا مصیبت و آفات کی صورت میں اپنائی جانے والی حکمتِ عملی اور حساس نوعیت کی تفصیلات درج ہوتی ہیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے وزیر اعظم سمیت 5 سیاستدانوں کو جاری کیے گئے خطرے کے الرٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلیو بک پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے سیکریٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو ہدایت کی کہ چاہے کوئی کچھ بھی کہے، آپ وزیر اعظم اور دیگر سیاستدانوں کے لیے خطرے کو مدِنظر رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات کریں۔

انہوں نے خاص طور پر کہا کہ ساری دنیا میں یہی ہوتا ہے لہٰذا اس معاملے میں میڈیا کے کہنے کی پرواہ نہ کریں۔

اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی کمیٹی کے واحد رکن تھے جنہوں نے وزیر اعظم کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے خیال کی مخالفت کی، ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں ان کی پارٹی کی پالیسی پر عمل کرنے دیا جائے‘۔

SHARE

LEAVE A REPLY