زارت اطلاعات پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن (پی بی سی) کے ہیڈ کوارٹرز کو منتقل کرنے اور اس کی موجودہ اراضی کو طویل عرصے کے لیے لیز پر دینے کی تیاری کر رہی ہے۔
وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی جانب سے پی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل کو لکھے گئے خط میں لکھا گیا ہے کہ وزیر اطلاعات کی جانب سے متعلقہ افراد کو ریڈیو پاکستان کی زمین لیز پر دینے اور پی بی سی ہیڈکوارٹرز کو اسلام آباد کے سیکٹر ایچ نائن میں اس کی ٹریننگ اکیڈمی منتقل کرنے کے حوالے سے تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات کے اس فیصلے سے ملازمین ناراض نظر آتے ہیں اور پی بی سی لیبر یونین (سی بی اے) کے سیکریٹری جنرل اعجاز احمد نے معاملہ اعلیٰ سطح پر اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈان سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ’ابتدائی طور پر ہم نے ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن محمود الحسن اختر سے بات کی اور انہیں مطلع کردیا کہ لیبر یونین حکومتی فیصلے کو ہرگز منظور نہیں ہونے دے گی۔’
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈی جی پی بی سی اور پرنسپل انفارمیشن افسر شفقت جلیل سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے وزیر اطلاعات کے دفتر کے ڈائریکٹر دانیال گیلانی کی موجودگی میں ملازمین کے ساتھ کھڑے رہنے کی یقین دہانی کرائی۔
ریڈیو پاکستان کی سی بی اے نے 26 تاریخ کو پی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سے میٹنگ کرنے اور ساتھ ہی ملک بھر سے اپنے نمائندوں کو جمع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ مستقبل کا لائحہ عمل تشکیل دی جاسکے۔
اعجاز احمد نے دعویٰ کیا کہ پی بی سی کی عمارت میں تقریباً 15 سو ملازمین کام کررہے ہیں جنہیں اکیڈمی کے چند کمروں میں منتقل نہیں کیا جا سکتا، پی بی سی کی اکیڈمی ٹریننگ میں 200 ملازمین کو بھی نہیں رکھا جا سکتا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اکیڈمی میں اسٹوڈیو بنانے کے لیے اربوں روپے درکار ہوں گے اور ایک نہیں متعدد اسٹوڈیوز تعمیر کرنے پڑھیں گے۔
واضح رہے کہ فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ لیز پر دی جائے گی تاکہ میڈیا یونیورسٹی تعمیر کی جا سکے، جب تک ہمارے پاس عالمی معیار کی یونیورسٹی نہیں ہوں گی تب تک ہم محتاج رہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ ملک میں متعدد ایسی ’غیر استعمال شدہ اراضی‘ ہیں جن کو استعمال میں لا کر فنڈ پیدا کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب پی بی سی ڈی جی جلیل نے بتایا کہ مذکورہ معاملہ وزارت اطلاعات کے ساتھ زیر بحث آیا ہے تاہم حکومت کی جانب سے پیش کردہ یہ صرف تجویز ہے جس پر یونین کو پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
اس ضمن میں سابق ریڈیو پاکستان ڈی جی مرتضیٰ سولنگی نے ٹوئٹ کیا کہ ’نیشنل براڈکاسٹنگ ہاؤس سے ملازمین کو بے دخل کرکے لیز پر دیا جا رہا ہے جس کی بنیاد صدر ذوالفقار علی بھٹو نے 27 اپریل 1972 کو رکھی تھی‘۔
اس ضمن میں جنرل سیکریٹری نے بتایا کہ پی بی سی ہیڈ کواٹر میں تین منزلہ بیس منٹ ہے جس میں پانی بھر جاتا ہے اور مجبوراً دو منزل کو مستقل بند کرکے پمپ کے ذریعے پانی نکالا جاتا ہے‘۔
انہوں نے بتایا کہ 2 دہائی قبل جرمن ٹیم نے بلڈنگ کا دورہ کیا اور بتایا کہ عمارت کا مغربی حصہ ہر سال 1 انچ زمین میں دھنس جائےگا












