عالمی اخبار کے لیئے ڈاکٹر انور سجاد سے ایک یادگار ملاقات اور باتیں ۔ تحریر ؛ سارہ قیوم ، لاہور

شہر کے مضافات میں بنی ایک وسیع و عریض ہاؤسنگ کالونی کا ایڈریس تھا۔ ہاتھ میں لکھا ہوا پتا پکڑے، کالونی کی وسیع سڑکوں پر گھومتے، ادھر ادھر سے پوچھتے ہم ایک تنگ سی گلی میں جا پہنچے۔ تیسرا مکان انکا تھا۔ میں نے پتے پر نظر ڈالی۔ نمبر تو وہی تھا لیکن نیم پلیٹ پر نام کسی اور کا لکھا تھا۔ میں نے فون نکالا اور مسز ڈاکٹر انور سجاد کو فون کیا۔
” نصرت آپا گھر کا نمبر یہی ہے لیکن نام کسی اور کا لکھا ہے’۔ میں نے اپنی پریشانی بیان کی۔
” یہی گھر ہے’ انہوں معذرت خواہانہ سے انداز میں کہا ‘کرائے کا گھر ہے، مالک مکان کا نام لکھا ہے۔”
کرائے کا گھر؟ میرے دل کو دھکا سا لگا۔ اس عمر میں، اس بیماری اور لاچاری کے عالم میں جب وہ اپنے علاج کے لئے مدد کی درخواست کرنے پر مجبور ہیں، ان کے سر پر چھت بھی اپنی نہیں۔ میں نے گاڑی سے نکل کر پانچ مرلے کے اس گھر کو دیکھا جسکے درودیوار گو صاف ستھرے تھے لیکن مکینوں کے حالات سے بے نیاز نہیں تھے۔ چھوٹے سے گیٹ کا دروازہ کھلا اور ایک بہت شفیق چہرے نے باہر جھانکا۔ یہ نصرت آپا تھیں۔ میں نے ان سے ڈاکٹر صاحب کا حال چال پوچھا۔
‘دمہ ہے انہیں۔ اور پھربڑھاپا۔” انہوں نے سو باتوں کی ایک بات کہی۔
اندر جا ایک ننھے منے سے لاؤنج میں بیٹھے جہاں سے سامنے کمرے میں ڈاکٹر صاحب سوتے نظر آرہے تھے۔

تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر صاحب کو جگایا گیا اور انہوں نے مجھے ملاقات کے لئے بلا لیا۔ڈاکٹر انور سجاد کو میں اپنے بچپن سے ٹی وی پر دیکھتی چلی آ رہی تھی۔ انکی تحاریر، انکے ڈرامے، انکی باتیں، انکا انداز گفتگو، زبان و بیان کی صحت، تلفظ، فلسفہ۔۔۔۔۔۔ایک لمحے میں سب کچھ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا۔ جو شخص میرے سامنے بیٹھا تھا وہ کوئی اور تھا۔ مجھے بے اختیار انگریزی کا ایک لفظ یاد آیا ” فینٹم’ ۔ یہ ڈاکٹر صاحب کا سایہ تھا جو کمزوری سے خود اٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکتا تھا، اونچا سنتا تھا، بات کرتے کرتے بھول جاتا تھا اور عمر رسیدگی اور لاچاری کے ہر اس آزار میں مبتلا تھا جو بے رحم وقت اپنے ساتھ لا سکتا ہے۔

میں نے اپنا اور اپنے بیٹے کا تعارف کروایا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میں انکی تحریر کی گرویدہ ہوں۔ وہ ایک جنٹلمین کی سی انکساری سے سر ہلاتے رہے۔ جب میں نے انہیں بتایا کہ میں انہیں اپنا استاد سمجھتی ہوں تو انکا چہرہ کھل اٹھا۔ سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور شرارت سے بولے ” صرف سمجھتی ہو؟” میں نے کہا ” مانتی بھی ہوں۔ اور اسی لئے اپنے بیٹے کو ساتھ لیکر آئی ہوں تاکہ ان بچوں کو معلوم ہو کہ ہم کن لوگوں کو اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں اور کیوں۔ اور یہ بھی کہ ہم نے اپنے صاحب علم لوگوں کو بھلایا نہیں ہے۔” اس بات نے انکے لئے گویا آب حیات کا کام کیا۔ انکا خوشی سے جگمگاتا چہرہ دیکھ کر میں یہی سوچتی رہی کہ اس بوڑھے شخص کے لئے سب سے بڑا آزار بیماری کے ساتھ یہ بھی ہے کہ زمانے نے اسے بھلا دیا۔ اس بات کی تصدیق نصرت آپا نے بھی کی۔ کہنے لگیں ” کبھی کبھی کہتے ہیں کہ بھول گئے ہیں لوگ۔”

میں نے اردو عالمی اخبار کے لئے ڈاکٹر صاحب کا ایک چھوٹا سا انٹرویو بھی کیا۔ گو وہ زیادہ دیر بیٹھ نہ سکتے تھے لیکن انہوں نے کمال محبت و شفقت سے میرے سوالوں کے جواب دیۓ۔ اس کے لئے میں اور عالمی اخبار کی ٹیم انکی شکر گزار ہے۔

میری انکے ساتھ گفتگو یوں ہوئی۔

سارہ: ڈاکٹر صاحب ملاقات کا وقت دینے کا شکریہ۔ سب سے پہلے تو یہ بتائیے کہ کس چیز نے لکھنے کی تحریک دی؟
ڈاکٹر انور سجاد: اپنی زندگی کے تجربات بانٹنا چاہتا تھا لوگوں کے ساتھ۔ کچھ اللہ نے صلاحیت بھی دی تھی۔ تو بس یہی سوچا کہ جو پایا ہے، اسے اپنے لوگوں کے ساتھ بانٹ لیا جائے۔
یہاں نصرت آپا نے لقمہ دیا : ” جوش بہت تھا ان کے اندر۔ ایک ولولہ تھا کچھ کرنے کا، زمانے کو بدلنے کا۔ یہ بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ حالات انہیں بہت تکلیف دیتے تھے۔ انہیں بدلنے کا جنون تھا۔

سارہ: ڈاکٹر صاحب آپ میڈیا بھی رہے، آرٹ کی دوسری انصاف سے بھی شغف تھا۔آپکے کیریر کی بہترین اور بدترین یاد کیا ہے؟
ڈاکٹر صاحب: (ہنس کر) بری یادیں تو میں رکھتا ہی نہیں۔

سارہ: لوگ جاننا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب: اب تو بوڑھا ہو گیا ہوں میں۔ کچھ یاد نہیں رہا۔
نصرت آپا: بتائیں نا۔
ڈاکٹر صاحب (مسکرا کر) رہنے دو۔
نصرت آپا: بھٹو صاحب کو بہت یاد کرتے ہیں۔ جب بھی انکا ذکر ہوتا ہے آنکھیں بھر آتی ہیں انکی۔
میں نصرت آپا کو دیکھتی رہی اور سوچتی رہی یہ عورت ان کی سچی رفیق ہے۔ زندگی بھر کی ساتھی۔ ایک ایک رمز، ایک ایک ادا پہچاننے والی۔ میں سوچتی رہی کہ کتنے خوش قسمت ہیں ڈاکٹر انور سجاد کہ انہیں ایسی غمگسار اور خدمت گزار بیوی ملی ہے۔ نصرت آپا مسلسل ڈاکٹر صاحب کی دیکھ بھال میں مصروف تھیں۔ میں نے تصویر کھینچنے کے لیے فون نکالا تو بھاگ کر الماری سے کنگھی نکال لائیں اور اس شفقت اور محبت سے ڈاکٹر صاحب کے بال سنوارے جیسے کوئی ماں اپنے بچے کے سنوارتی ہے۔ دوران انٹرویو کبھی انکا منہ پونچھتی رہیں، کبھی صاف ٹشو انکے ہاتھ میں تھماتی رہیں۔ ساتھ ساتھ انہیں بھولی بسری باتیں یاد دلاتی رہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ زندگی کی بے شمار انمول نعمتوں میں سے ایک میاں بیوی کا اکٹھے بوڑھا ہونا بھی ہے۔
ڈاکٹر صاحب سے گفتگو دوبارہ شروع ہوئی۔
ڈاکٹر صاحب: مجھے تنقید کا بہت سامنا رہا ہمیشہ۔ میں باغی تھا۔

سارہ: آپ نے بہت دبنگ لکھا۔ آپ نے فلسفہ لکھا، آرٹ اور کلچر کی بات کی، غریبوں کی بات کی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اگر آپ نے یہ سب نہ لکھا ہوتا، صرف قصیدے لکھے ہوتے تو شاید آج آپ کہیں اور ہوتے۔
ڈاکٹر صاحب: انسان اس قابل کہاں کہ اسکے قصیدے لکھے جائیں۔ وہ جو فر مایا کہ رشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا، تو یہ اس میں ایک بڑا فلسفہ ہے۔ انسان کو جب تخلیق کیا گیا تو خطا کا پتلا بنایا گیا۔ اور پھر فرشتوں پر برتری دی گئی۔ فرشتوں کو غلطی کی اجازت نہیں لیکن انسان سے کہا گیا چل یار کوئی بات نہیں۔ خطا کر، معافی مانگ۔ تو انسان کی فطرت میں ہے یہ کمزوری۔ کمزور انسان کا کیا قصیدہ لکھتا میں؟ اور ایک بات میں آپکو بتاؤں کہ میں پاکستان کے جاہل لوگوں کو زیادہ عزیز سمجھتا ہوں بہ نسبت مغرب کے ان لوگوں کے جنہوں نے مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ اپنی زندگی کو شئیر کیا ہے۔

سارہ: کون سے رائیٹرز فیورٹ ہیں؟
ڈاکٹر صاحب(سوچتے ہوئے): کچھ یاد نہیں۔ بہت بوڑھا ہو گیا ہوں۔
نصرت آپا: روسی رائیٹرز کو بہت پڑھا ہے انہوں نے۔
ڈاکٹر صاحب: ہاں ہاں۔ روسی رائیٹرز کو بہت پڑھا ہے۔
نصرت آپا: (شفقت سے) انہیں یاد نہیں رہتا اب کچھ۔
ڈاکٹر صاحب: (انگریزی میں) روسی رائیٹرز بہترین تھے۔
سارہ: روسی رائیٹرز میں فیورٹ کون تھے ؟
ڈاکٹر صاحب سوچ میں پڑ گئے۔
سارہ :(یاد دلاتے ہوئے) چیخوف، ٹالسٹائی، میکسم گورکی؟ ٹالسٹائی کی آپ بیتی؟ گورکی کا مشہور ناول ‘ماں’؟
ڈاکٹر صاحب 🙁 گویا پھڑک اٹھے) واہ۔ گورکی کے ‘ماں’ کا جواب نہیں۔
سارہ: اور گورکی کی آپ بیتی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر صاحب: رشینز کا تو کوئی جواب ہی نہیں ہے۔وہ چاہے فکشن لکھیں یا حقیقت، وہ اپنی ذات سے قریب رہتے ہیں۔ انکا فلسفہ مجھے اقبال سے ملتا جلتا لگتا ہے۔

سارہ: ایک اچھا تخلیق کار مسائل کا شکار کیوں رہتا ہے، بشمول پبلشنگ کے مسائل؟
ڈاکٹر صاحب: تجارت ہے یہ۔ ایکسپلائٹ کرتے ہیں رائیٹرز کو۔ اور اگر آپ انکے خلاف آواز اٹھاتے ہیں تو وہ آپ کا بائکاٹ کر دیتے ہیں۔

سارہ: تخلیق کار ایک دوسرے کے دوست کیوں نہیں ہوتے؟ میرا مطلب ہے ایک دوسرے کو سنوارتے کیوں نہیں؟
ڈاکٹر صاحب: (مختصراً) پیشہ ورانہ رقابت کی وجہ سے۔

سارہ: ڈاکٹر صاحب کیا آپ اب بھی لکھتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب : نہیں اب کہاں لکھ سکتا ہوں؟

سارہ: مطالعہ کرتے ہیں؟
ڈاکٹر صاحب: آنکھیں اجازت نہیں دیتیں۔ آنکھوں کا ٹریٹمنٹ کروانا ہے میں نے۔ اسکے بعد پڑھنا شروع کروں گا۔

سارہ: جب لکھتے تھے تو لکھنے سے پہلے کیا تیاری کرتے تھے؟
ڈاکٹر صاحب: مطالعہ اور بس مطالعہ۔

سارہ: کوئی ایسا موضوع جس پر لکھنا رہ گیا ہو؟
ڈاکٹر صاحب: (بے ساختہ) بے تحاشہ۔ ابھی تو میں کچھ بھی نہ لکھ پایا۔

سارہ: نئے لکھنے والوں کو، نئی نسل کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔
ڈاکٹر صاحب: محنت کرو۔ اور جو بھی راستے میں آئے اس سے سیکھو۔ لوگ سکھوں کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن انکے گرو نے انہیں ایک سنہرا اصول دیا تھا۔ جسے آج ہم سکھ کہتے ہیں، وہ لفظ دراصل ہے ” سیکھ’۔ تو میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی لمحہ نہ چھوڑو جس سے تم کچھ سیکھو نہ۔

سارہ: ڈاکٹر صاحب آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے ہمیں ملاقات کا شرف بخشا۔ ہم نے آپ کا بہت وقت لیا۔ اب آپ آرام کیجئے۔
ڈاکٹر صاحب: (بہت شفقت سے) ارے نہیں بیٹا۔ مجھے بالکل تنگ ہونے کا احساس نہیں ہوا۔ آپ جیسے لوگ نعمت ہیں جو اپنے بڑوں کے تجربات سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ آپ کے آنے کا بہت شکریہ۔

ڈاکٹر انور سجاد کو خدا حافظ کہہ کر میں نصرت آپا کے ساتھ دوبارہ لاؤنج میں آ بیٹھی۔ اب میں کچھ باتیں ان سے بھی پوچھنا چاہتی تھی۔ سب سے پہلے تو میں نے ان سے معذرت چاہی کہ میں ان سے کچھ ذاتی نوعیت کے سوالات پوچھوں گی کیونکہ جو لوگ ڈاکٹر صاحب کے علاج میں مددگار بننا چاہتے ہیں، وہ یہ باتیں جاننا چاہتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال میں نے ان سی انکی اولاد کے بارے میں کیا۔
وہ کہنے لگیں ” میری ذاتی اولاد تو کوئی نہیں۔ ہاں ڈاکٹر صاحب کی ایک بیٹی ہےجو باہر ہوتی ہے۔”

سارہ: تو کیا ڈاکٹر صاحب نے دوسری شادی۔۔۔۔۔۔؟
نصرت آپا: جی ہاں۔ مجھ سے شادی کے بعد انہوں نے ایک خاتون سے دوسری شادی کر لی تھی۔”
اور مجھے سب کچھ یاد آتا چلا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس زمانے میں ایک مشہور اداکارہ سے شادی کر لی تھی۔میں اپنے خیالوں سے نکل کر نصرت آپا کی طرف متوجہ ہوئی جو کہہ رہی تھیں۔ ” اس شادی کے بعد یہ مجھ سے اور فیملی سے کٹ آف ہو کر کراچی چلے گئے تھے۔ ” میں نے پوچھا ” تو کیا ان سے طلاق ہو گئی؟” وہ اپنے مرنجاں مرنج انداز میں بولیں ” جی ہاں۔ لیکن جب یہ بیمار ہوئے تو انہوں نے ہی انکو لاہور بھجوانے کا بندوبست کیا اور سب معاملات دیکھے۔”
میں نے پوچھا ” تو جب یہ آپ کو چھوڑ کر گئے تو آپ سے رابطہ رکھا؟”
وہ بولیں ” شروع میں رابطہ بھی رکھا، کبھی کبھی ملنے بھی آجاتے تھے، پیسے بھی بھیجتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ سب ختم ہوتا گیا۔”
ہر گزرتے لمحے کے ساتھ میری حیرت سوا ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے پوچھا ” تو آپ نے انہیں چھوڑنے کے بارے میں نہیں سوچا؟’
سادگی سے بولیں ” شروع میں سوچا تھا۔ پھر سوچا یہی میرا نصیب ہے۔ یہ نہ ہو کہ میں بعد میں پچھتاؤں۔ اور اب دیکھ لیں۔ اگر اس وقت میں نے ان کو چھوڑ دیا ہوتا تو آج میں کتنا پچھتا رہی ہوتی۔”

میں حیرت سے گنگ بیٹھی انہیں دیکھتی رہی۔ انہوں نے میری حیران شکل دیکھی اور بولیں ” ہاں بہت مشکل وقت تھا وہ میرے لئے۔ لیکن اس میں میرے لیے ایک بہت بڑا سبق بھی تھا۔ یہ میرے خالہ زاد تھے۔ اور میں بارہ سال کی عمر سے انکی محبت، نہیں، انکے عشق میں مبتلا تھی۔ ہماری محبت کی شادی تھی۔ میں اپنی محبت کا حال آپکو بتاتی ہوں کہ میں انکی محبت میں اسقدر ڈوب چکی تھی کہ میں نے خدا کی محبت کو بھلا دیا تھا۔ اللہ نے انکو مجھ سے دور کر دیا اور مجھے خود سے قریب کر لیا۔ “

میری حیرت بھری نظریں انکا چہرہ پڑھ رہی تھیں۔ انکی آنکھیں آنسوؤں سے لبالب بھر رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں ” میں نے ایک مرتبہ نہیں دو مرتبہ خواب دیکھا جس میں مجھے بہت واضح آواز میں پکار کر کہا گیا، اول اللہ۔۔۔اول اللہ۔ بس پھر میں نے اپنا دل اللہ سے لگا لیا۔ اور انکی محبت نے مجھے جو درد دیا تھا، اللہ کی محبت نے اسے اسقدر سکون میں بدل دیا کہ لوگ میری مثالیں دینے لگے کہ دیکھو نصرت سے سیکھو کہ درد میں مسکرایا کیسے جاتا ہے۔”
میں انکا چہرہ دیکھتی رہی۔ وہ کہتی رہیں ” میں نے خود کو مصروف کر لیا۔ فرنچ زبان سیکھی۔ کتاب لکھنے لگی۔ اور جب میں سمجھی کہ میں نے انکو بھلا دیا تو یہ لوٹ آئے۔ اللہ نے مجھے میری محبت واپس لوٹا دی۔”
میں نے پوچھا ” کتنے عرصے بعد ڈاکٹر صاحب واپس آئے؟’
انہوں چند لمحے سوچا پھر بولیں ” تقریباً پچیس سال۔”

میں دم بخود رہ گئی۔ پچیس سال؟ پچیس سالوں میں ایک عورت گھر بسا کر، بچے پال کر انکے فرائض سے فارغ ہو جاتی ہے۔ اور اس عورت نے پچیس سال تنہا گزار دئے۔ میں نے ایک نظر اندر لیٹے ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔ یااللہ تونے کس مٹی سے بنائے تھے یہ لوگ؟ ایک طرف وہ شخص جس نے پوری زندگی معاشرے کے لئے وقف کر دی اور آج لاچاری کے عالم میں پڑا ہے۔ مگر خود داری ایسی کہ براہ راست کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتے، وضعداری ایسی کہ کسی کی برائی نہیں کرتے۔ اور دوسری طرف یہ کمزور بوڑھی خاتون جنہوں نے تعلق جوڑا تو ایسا نبھایا کہ زندگی تیاگ دی۔ نہ شوہر، نہ گھر، نہ اولاد، نہ پیسہ، نہ مقام۔ اور جب وہی شوہر بڑھاپے میں لوٹ کر آیا تو یوں جی جان سے خدمت کر رہی ہیں کہ کیا کوئی نازوں کی رکھی بیوی کرتی ہو گی۔ ایسی محبت، ایسی وفا۔۔۔۔۔یا اللہ کون لوگ ہیں یہ ؟ کس مٹی سے بنے ہیں؟ کوئی شکوہ نہیں، کوئی تلخی نہیں ، کوئی رونا نہیں۔ بس ایک شکر گزاری، محبت اور دردمندی۔

میں شیلف پر رکھی ان دونوں کی جوانی کی تصویر کو دیکھتی رہی۔ اور مجھے بے اختیا یہ شعر یاد آتا رہا،
کتنی دلکش ہو تم، کتنا دل جو ہوں میں
کیا ستم ہے کہ ہم لوگ مر جائیں گے

انکی زندگیاں درد سے عبارت تھیں لیکن آخری عمر میں ایک دوسرے کے ساتھ نے انہیں مرتے مرتے جی اٹھایا تھا۔ میں نے نصرت آپا سے پوچھا کہ اگر انکی اجازت ہو تو میں انکے ساتھ ہونے والی بات چیت کو اس انٹرویو میں شامل کر لوں؟ انہوں نے صرف ایک شرط رکھی کہ ڈاکٹر صاحب کی دوسری بیوی کا نام نہ آئے۔ وہ کسی کی دل آزادی نہیں کرنا چاہتیں۔

قارئین ! نصرت آپا اپنی یادوں پر مشتمل ایک کتاب لکھ رہی ہیں۔ کتاب کا نام بھی یادیں ہے۔ وہ رتی سجاد کے قلمی نام سے لکھتی ہیں کیونکہ یہ نام ڈاکٹر صاحب کا دیا ہوا ہے ۔ میری آپ سب سے گذارش ہے ان انمول لوگوں کے آڑے وقت میں کام آنے کا سب سے آبرومندانہ طریقہ یہ ہے کہ جب یہ کتاب مارکیٹ میں آئے تو اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا جائے۔ یہ ایک بے مثال شخص کا اس معاشرے پر قرض ہے جسکی تربیت میں اس نے اپنی ساری عمر لگا دی۔

سارہ قیوم ، لاہور

برائے عالمی اخبار

SHARE

2 COMMENTS

  1. انٹرویو پڑھا- اچھا لگا- میری ڈاکٹر انور سجاد صاحب سے ایک ہی ملاقات ہے وہ بھی اتفاقیہ، جس کا احوال میں نے اپنی فیس بک آئ ڈی
    پر پوسٹ میں لکھا ہے- ڈاکٹر صاحب ایک جینوئن ادیب ہیں- ان کی وائف نصرت آپا سے میں متاثر ہوا اور ڈھیر ساری دعائیں اس خاتون کے لیے- یہ ایک عجیب معاملہ ہے کہ عام طور پر حکومتی فنڈ فائیو سٹار ہوٹلوں کی ادبی تقریبات پر خرچ ہو جاتے ہیں اور اچھے ادیبوں کی مشکل مالی حالات میں اس طرح مدد نہیں ہو پاتی جیسی ہونی چاہئیے- مادام نگہت اور مادام سارا کے لیے نیک تمننایں

  2. السلام علیکم ،ہمدردی کے جذبات کےساتھ ،انٹرویو پڑھنا شروع کیا ،اوردل نصرت صاحبہ کےلیے دردمند ی،اور دعا سے بھرگیا،مجھے یقین ہے کہ ان کی کاوش ناصرف میرے ہاتھوں میں ہوگی،بلکہ ہاتھ،بکنے والی کتاب ہوگی؟ان شاءاللہ

LEAVE A REPLY