ملک بھر میں عاشورۂ محرم الحرام کے جلوس نکالے گئے۔ جلوسوں کے راستوں پر سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے جسکے بعد شام میں مجالس شام غریباں منعقد ہوئیں
بس اک پل کی تھی حکومت یزید کی
صدیاں حسین کی ہیں زمانہ حسین کا۔
لاہور
نواسہ رسول حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظیم قربانی کی یاد اور یوم عاشورہ کے موقع پر شہر شہر پُرسہ داری جاری ہے۔ لاہور کی نثار حویلی اندرون موچی گیٹ سے برآمد ہونے والا عاشورہ کا مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہے۔ جلوس کربلا گامے شاہ پہُںچ کر اختتام پذیر ہوگا۔ کراچی، ملتان، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ میں بھی دسویں محرم کے جلوس آج نکالے جائیں گے۔ روہڑی میں ساڑھے پانچ سو سالہ قدیم ماتمی جلوس منزل کی جانب گامزن ہے۔
آج ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوس کے راستوں پر موبائل فون سروس بند رہے گی۔ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں سخت سیکیورٹی میں ماتمی جلوس نکالے جائیں گے جس میں عزادار ماتم اور نوحہ خوانی کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کریں گے۔
اس موقع پر علمائے کرام و ذاکرین اپنی تقاریر میں حضرت امام حسین کی عظیم اور روشن تعلیمات اور سانحہ کربلا کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کریں گے۔ سندھ حکومت نے 8 سے 10 محرم تک جلوسوں اور مجالس کے دوران میڈیا چینلز کی ویڈیو ریکارڈنگ کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کیم یا ڈرون پر پابندی عائد کی ہے۔
کراچی
کراچی میں یوم عاشور کا مرکزی جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوگا، جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان کھارادر پر اختتام پذیر ہوگا۔ جلوس سے قبل یوم عاشور کی مرکزی مجلس صبح آٹھ بجے نشتر پارک میں منعقد ہوگی۔
سندھ پولیس کے ترجمان کے مطابق مرکزی جلوس کے مرکزی راستوں کی سیکیورٹی اور نگرانی کے لیے 5 ہزار 313 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، اسپیشل سیکیورٹی یونٹ کے اسنائپرز کو بھی جلوس کے راستوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ متبادل راستوں/سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے ایک ہزار ٹریفک پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں اور کسی بھی ہنگامی صورت حال کی صورت میں اس کی ہیلپ لائن کے ذریعے پولیس کو اطلاع دیں۔
گزشتہ روز حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے صوبائی وزرا شرجیل میمن اور سعید غنی کے ہمراہ سینٹرل پولیس آفس کا دورہ کیا اور جلوسوں کی نگرانی کے کام کا جائزہ لیا۔
پشاور
پشاور کے مختلف علاقوں سے شب عاشور کے 16 جلوس برآمد ہوں گے۔ جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اذان فجر کے وقت اختتام پذیر ہوں گے۔ علاوہ ازیں کوئٹہ، فیصل آباد، سرگودھا سمیت دیگر چھوٹے بڑے شہروں سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوں گے جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے اپنی منزل پر اختتام پزیر ہوں گے۔
اسلام آباد
دوسری جانب اسلام آباد کیپٹل پولیس کے سربراہ ڈاکٹر اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ سیف سٹی اسلام آباد میں جلوسوں کی نگرانی کے لیے مرکزی کنٹرول روم قائم کردیا گیا، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر متعدد علاقوں میں موبائل فون سروسز معطل رہیں گی۔
آئی جی پولیس نے مزید کہا تھا کہ پولیس کی جانب سے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی برقرار رکھی جائے گی اور حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایس او پیز اور ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بم ڈسپوزل اسکواڈ داخلے کے دوران روبوٹ اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے راستوں کی چیکنگ کرے گا اور تمام لوگوں کو مکمل چیکنگ کے بعد ہی جلوس میں شرکت کے لیے جانے دیا جائے گا













