جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں

0
3912

جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں والئ بیان کی حمایت میں پہلے تو اسلامی کی کسی پرائمری سورس میں کوئی آثار نہیں ملتے۔ قرآن نے جو آیت پیش کی جاتی ہے ، وخلقنا کم ازواجا سے کسی بھی طرح یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہاری ہی نوع سے تمہارے لیے جوڑا بنایا تاکہ تولیدِ نسل آگے بڑھے اور اس سے تم سکون بھی حاصل کرو ، کیونکہ اپنی ہی نوع سے انسان مانوس ہو سکتا ہے ، اگر مرد انسان ہوتا اور عورت کو کسی حیوانی نوع سے جنسِ مخالف بنا دیا جاتا تو مرد اس سے مانوسیت نہیں محسوس کر پاتا ، یہی معاملہ عورت کا بھی ہے اگر عورت کیلئے انسان کے بجائے کسی اور نوع سے جنسِ مخالف یعنی میل کو تخلیق کیا جاتا تو مسائل پیدا ہوتے۔ یہاں جوڑا جوڑا کا مطلب جنرلی میل فیمیل ہے ، یعنی انسانی نوع سے ہی تمہارے لیے مخالف جنس کو تخلیق کیا گیا۔

اس آیت کو اگر کھینچ تان بھی لیں تو بھی اس میں یہ کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ آسمان پر ہر انسان ( مرد عورت ) کیلئے پہلے سے خدا نے حتمی طور پر رشتہ طے کیا ہوا ہے کہ زمین پر اس انسان کا اسی انسان سے ہی نکاح ہو گا وغیرہ۔

اس کے علاوہ قرآن کی ایک اور آیت بھی اس آسمانوں پر جوڑے والی بات کو رد کرتی ہے ، بلکہ یہ سٹیٹمنٹ قرآن کے دو آیتوں کو آپس میں متضاد اور آمنے سامنے لے آتی ہے۔

ایک جگہ خدا کہتا ہے کہ اپنی پسند سے شریکِ حیات کا انتخاب کرو اور دو دو تین تین کرو اگر انصاف نہ کر سکو تو ایک ہی کرو۔ چنانچہ کیا یہ ایک عجیب بات نہیں ہے کہ ایک جگہ تو آسمان پر رشتہ پہلے سے ہی طے ہو چکا ہے اور دوسری جگہ خدا کہہ رہا ہے کہ نہیں اپنی پسند کی کرو؟ ایک جگہ تو خدا نے بقول بعض کے ، جوڑوں والی آیت میں یہ اشارہ دیا ہے کہ آسمان پر تمہارے لیے شریکِ حیات اور میاں بیوی پہلے سے ڈیسائٹڈ ہیں جبکہ دوسری جگہ خدا دوسری بات کر رہا ہے اور کہتا ہے اپنی اپنی پسند کی کرو ؟

اگر یہ سمجھ نہیں آیا تو سادہ مثال یہ ہے کہ آپ کے والد آپ کا رشتہ بچپن میں ہی آپ کیلئے طے کر دیں اور جب آپ بڑے ہو جائیں تو وہ آپ کو کہیں کہ ہاں پسند کرو جس کو چاہو۔

چنانچہ قرآنی آیات کو اس آسمانوں والے سٹیٹمنٹ کیلئے پیش کرنا نہ صرف یہ کہ عقل و منطق کے بھی بلکل خلاف ہے بلکہ یہ خدا کی بات کو کچھ اور بنا کر پیش کرنا ہے اور ایک طرح سے خدا پر الزام تراشی اور اس پر جھوٹ باندھنے کے مترداف ہے۔

معروف تفاسیر جیسے کہ تفسیرِ طبری اور تفسیر ابن کثیر وغیرہ اُٹھا کر دیکھ لی جیے اس آیت کے ذیل میں آپ کو کہیں بھی آسمانوں پر جوڑے والی افواہ نظر نہیں آئے گی بلکہ سب نے ہی اس آیت کی تفسیر میں نر مادہ یعنی میل فیمیل کا ہی ذکر کیا ہے ، علاوہ ازیں دوسری چیزوں کے جوڑوں کا تذکرہ ہوا ہے جیسے کہ بڑا چھوٹا بدصورت خوبصورت وغیرہ ، اس کو انواع کے جوڑوں کے زاویے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ ہر نر کا مادہ ہے اور ہر مادہ کا نر ہے ۔ مجھے حیرت ہے کہ اس بےبنیاد سٹیٹمنٹ کو کس نے اس آیت سے باندھ دیا ؟ اور اس کی دلیل کیا ہے ؟

۔

یہاں تک تو یہ عرض تھا کہ آسمانوں پر جوڑے بننے والی سٹیٹمنٹ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں ہے اس کے علاوہ اسلام کے کسی پرائمری سورس میں بھی یہ بات نہیں پائی جاتی ، بلکہ اس کے برخلاف اس کے بلکل مقابل میں یہ ضرور واضح موجود ہے کہ اپنی پسند سے تم خود انتخاب کرو۔ لیکن اس چیز سے قطع نظر اگر یہ بات قبول کر لی جائے تو اس کی قبولیت سے بہت سنجیدہ مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

جو کوئی اسلام کو قبول کرتا ہے اور مسلمان ہے وہ اس بات کا اعتقاد رکھتا ہے کہ کائنات کا زرہ بھی خدا کی دستِ قدرت سے آزاد نہیں ہے اور خدا ہی کُل مختار ہے ، اُس کے طے کیے ہوئے سے کوئی شے فرار اختیار نہیں کر سکتی۔ یہ عقیدہ و نظریہ اسلام کے اصول میں سے ہے یعنی کہ مسلمان ہونے کیلئے اس پر اعتقاد لازم ہے اس سے انکار انسان کو اسلام سے خارج کر دیتا ہے۔

اکثر افراد اسی بنیاد پر مندرجہ بالا آسمانوں پر جوڑے والی سٹیٹمنٹ کو قبول کرتے ہیں۔ لیکن اسلام کے اس اصول یعنی خدا کے ہر شے پر کُل غلبے اور اس ہی کے دستِ قدرت سے تقدیر کے طے ہونے اور اس کے علم میں ازل سے ابد تک ہر رونما والی بات کے موجود ہونے میں کچھ پیچیدگیاں اور باریکیاں ہیں۔ البتہ اس سے جو سماجی اور معاشرتی مشکلات پیدا ہوتی ہیں ان کو میں نظر انداز کر رہا ہوں مثلاََ والدین کا غلط جگہ اپنی مرضی سے اولاد کا رشتہ کرکے کہہ دینا کہ یہی اللہ کو منظور تھا ، رشتے تو ویسے بھی آسمانوں پر طے بنتے ہیں۔

یہ جبر و اختیار اور قضا و قدر کا مسئلہ بن جاتا ہے جس سے میں حتیٰ الامکان احتراز برت کر سادہ مختصر مگر جامع انداز میں یہ چیز پیش کر رہا ہوں۔

۔

اگر ہم مان لیں کہ سب کچھ خدا کی مرضی سے ہے ، ہر شے کی تقدیر اس نے سیٹ کی ہے تو کیا ہم یہ نہیں مان رہے کہ مثلاَ وہ ہر شے کیلئے ذمہ دار بھی ہے ؟ یعنی کسی بےگناہ کے قتل کا ذمہ دار بھی خدا ہوا اور انسان اس سے بری ہوا ؟

اگر ہم یہ مان لیں کہ خدا نے سب کچھ پہلے سے مقرر کر رکھا ہے اور خدا نے جو مقرر کر رکھا ہے اس سے نکلنا ، اس حتمی تقدیر سے فرار کرنا ، اس کے برخلاف کوئی کام کرنا خدا کی بنائی ہوئی حتمی تقدیر کے خلاف جانا ہے ، چنانچہ کوئی خدا کی مقرر کردہ تقدیر کے خلاف کیسے جا سکتا ہے ؟ گویا خدا نے مقرر کیا تھا کہ فلاں کو اس دن مرنا ہے اور وہ فلاں شخص اس دن نہیں مرا تو یہ تو گویا یہاں خدا فیل ہو گیا ؟ تو کیا خدا فیل ہوتا ہے ؟ اگر ہوتا ہے تو وہ خدا کیسے ہوا ؟

چنانچہ ہم مانتے ہیں کہ نہیں ایسا ممکن نہیں کہ خدا کی مقرر کردہ حتمی تقدیر کے خلاف جایا جا سکے چنانچہ اس نے جو مقرر کر رکھا ہے وہی ہو گا ، پس اگر اس نے مقرر کیا ہے کہ میری شادی فلاں انسان سے ہو گی تو یقینَ ہو گی اور اس معاملے میں میں ایسا کچھ بھی نہیں کر سکتا کہ اپنی شادی اس فلاں شخص کے ساتھ ہونے سے روک سکوں ، پس میں مجبورِ محض ہو گیا۔ یعنی کہ میرا اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں رہا ، میں کچھ بھی نہیں کر سکتا ، کچھ بھی کرنے کا ، کوئی کوشش مشقت محنت اور سعی وغیرہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، ایسا تقدیر میں لکھا ہے پس ایسا ہی ہو گا۔

یہاں سے ایک اور سوال جنم لیتا ہے کہ اس طرح تو میں مجبور محض ہوا ، یعنی یہ مجھ پر جبر ہوا؟ چنانچہ ایسے میں شریعت کے شادی کے جو احکام مجھ پر مقرر کیے گئے ہیں اس کی پاسداری تو میں کر ہی نہیں سکتا ، اور اس بابت مجھ سے سوال بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ میرا اختیار ہی نہیں تھا میں مجبور تھا۔

مثلاَ میری قسمت میں تھا کہ میری شادی کسی کافر انسان سے ہونی ہے۔ شریعت کہتی ہے کافر سے شادی ممنوع ہے ، شادی ہوئی تو سزا کے مستحق قرار پائیں گے۔ تو کیا یہ تضاد اور ظلم نہیں ہے ، کہ میری شادی تو اوپر آسمان پر پہلے سے ہی ایک کافر سے طے کر دی گئی ، اور وہ بھی ایسے قلم سے جس کے خلاف جانا ناممکن ہے ، جس کی مخالفت ممکن ہی نہیں ، کہ وہ خدا نے طے کی ہے اور میں کوشش کے باوجود بھی اس کو بدل نہیں سکتا ، تو پھر نیچے شریعت مجھ سے یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ شادی کافر سے نہیں کرنی اور سزا بھی ملے گی اگر ایسا کیا۔ تو کیا ایسی چیز میں مجھے سزا دینا ظلم نہیں ہے جس میں میرا اختیار ہی نہ تھا ؟

جس کام پر میں مجبور ہوں اس کام کی بابت مجھ سے یہ مطالبہ کہ یہ کام مت کرنا ، کیا انصافی اور ظلم نہیں ہے چونکہ میں چاہ کر بھی اس کام کو ہونے سے نہیں روک سکتا چونکہ خدا کے قلم نے یہ حتمی تقدیر لکھی ہے کہ ایسا ہونا ہے ؟

.

یہ سارے مسائل تب پیدا ہوتے ہیں جب آپ انسان کو بےاختیار کر کے اسے خدائی جبر کا شکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خدا نے لکھا ہے تو بس ایسا ہی ہونا ہے۔ جب آپ کہہ دیں گے کہ آپ کا رشتہ پہلے سے خدا نے اوپر آسمانوں پر طے کر رکھا ہے چنانچہ اب آپ بےاختیار ہے اور کچھ نہیں کر سکیں گے یا جو کچھ بھی کر لیں ہونا وہی ہے جو خدا نے لکھا ہے۔

دراصل مندرجہ بالا صورت حال میں تقدیر کے موضوع کے واضح نہ ہونے اور اس کے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہونے سے یہ مسئلہ جنم لیتا ہے۔

آسان زبان میں یہ یاد رکھیے کہ آپ کی قسمت دو قسم کی ہے ایک کانسٹینٹ اور ایک ویری ایبل ہے۔ کانسٹینٹ یعنی جو حتمی اور ناقابلِ تغیُر و تبدُل ہے۔ اور دوسری جو قابلِ تغیر و تبدُل ہے اور انسان کے اختیار کی صلاحیت کی بنیاد پر اس کے نتیجے کے طور پر بنتا بگڑتا ہے۔

کانسٹینٹ تقدیر کی مثال والدین سے لیجیے ، آپ اپنے والدین کو تبدیل نہیں کر سکتے ، آپ کوشش کے باوجود موت کا دن وقت وجہ وغیرہ تبدیل نہیں کر سکتے ، آپ کوشش کے باوجود اپنی جنس کو تبدیل نہیں کر سکتے وغیرہ یہ سب کانسٹینٹ تقدیر میں لکھے جا چکے ہیں اور پہلے سے طے ہیں اس میں آپ حقیقتاََ مجبورِ محض ہیں آپ کی کوشش و محنت بھی یہاں مکمل بیکار ہے ، آپ کو یہاں اختیار نہیں ہے چنانچہ ایسے معاملات میں آپ سے سوال بھی نہیں ہو گا اور سزا جزا حساب کتاب بھی نہیں ہو گا ، چونکہ آپ کو اختیار ہی نہیں تھا۔

.

دوسری قسم کی وہ قسمت جو انسان خدا کی طرف سے عطا کی ہوئی اختیار کی صلاحیت کا استعمال کر کے اپنے انتخاب سے طے کرتا ، بناتا اور بگاڑتا ہے۔

مثلاَ آپ کے سامنے دو راستے ہیں ، ایک مشرق کی طرف جاتا ہے اور دوسرا مغرب کی طرف۔ اگر آپ نے مشرق والے راستے کا انتخاب کیا تو اسی حساب سے آپ کے مزید راستے بنیں گے ، اور ان مزید بنی ہوئے راستوں میں آپ کو انتخاب کرنا ہو گا اس طرح اپ کی قسمت آپ کے انتخاب سے بنتی یا بگڑتی جائے گی۔ یوں ہی مغربی راستے کا انتخاب کیا تو اسی حساب سے مزید راستے بنتے جائیں گے۔

مثلاَ آپ ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں سے ایک راستہ کراچی کی طرف جاتا ہے ، دوسرا اسلام آباد کی طرف جاتا ہے۔ اگر آپ کراچی والے راستے کا انتخاب کریں گے تو کراچی والے راستے کے حساب سے آپ کے سفر کی قسمت مقرر ہوجائے گی ، اسلام آباد کا انتخاب کریں گے تو آپ کی قسمت اسی راستے کے حساب سے مقرر ہو گی اور آپ کے ساتھ جو ہو گا وہ اسلام آباد والے انتخاب ہی کے حساب سے ہو گا۔

اختیار انسان کو وہاں دیا جاتا ہے جہاں اس کی عقل کارآمد ثابت ہو سکتی ہے ، مثلاَ والدین چُننے میں عقل کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چنانچہ یہاں انسان کو اختیار نہیں دیا گیا یا مثلاَ موت کے سلسلے میں۔ لیکن شریکِ حیات کا انتخاب مکمل عقلی معاملہ ہے ، اس میں انسان کی عقل مکمل کارآمد ہے اسے درست غلط معلوم ہے چاہے تو اچھی کا انتخاب کرے چاہے تو غلط کا انتخاب کرے۔

۔

سوال یہ ہے کہ میں یہ کیوں کہہ رہا ہوں کہ آسمانوں پر رشتہ طے ہونے والی بات غلط اور بےبنیاد ہے۔ کیونکہ نہ صرف یہ کہ اس تھیوری کو اسلام کا کوئی پرائمری سورس جیسے کہ قرآن اور سیرت و حدیث وغیرہ سپورٹ نہیں کرتے بلکہ یہ عقلی اعتبار سے بھی بےبنیاد اور کھوکھلا ہے۔

دیکھیے سوال انسان سے کہاں ہوتا ہے ؟ سزا جزا انسان کو کس بنیاد پر ملتے ہیں ؟ جہاں اختیار ہوتا ہے۔ اختیار کہاں ہوتا ہے؟ جہاں عقل کی صلاحیت کو کافی مان لیا جائے کہ اس معاملے میں انسانی عقل ہی اپنا کام دکھائے گی۔ چنانچہ رشتے کے معاملے میں انسان سے سوال جواب سزا جزا حساب کتاب ہو گا یا نہیں ہو گا ؟ مثلاَ یہ سوال تو ہو گا کہ کافر سے شادی ممنوع تھی کیوں کی آپ نے ؟ شریعت کی طرف سے یہ ” کیوں کی ” کا سوال اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں انسان کو اختیار تھا۔ اختیار تھا یعنی کہ یہاں انسان پر جبر نہیں تھا ، یعنی ایسا نہیں تھا کہ انسان مجبورِ محض تھا ، مجبورِ محض نہیں تھا چنانچہ اس کا رشتہ پہلے سے طے نہیں تھا بلکہ اس کو اس کی اختیار کی صلاحیت اور عقل کی صلاحیت کی بنیاد پر انتخاب کا حق حاصل تھا۔ اسی اختیار کی بنیاد پر شریعت عقلاَ اس پر پابندی بھی لگا سکتی ہے اور بعد میں اس پر سزا و جزا کا استحقاق بھی رکھ سکتی ہے۔ رشتے کا معاملہ دوسرے قسم کی قسمت یعنی ویری ایبل قسمت میں مقرر تھا۔

چنانچہ یہاں سے ہمیں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ رشتے کا معاملہ انسان کے اختیار سے وہ خود انتخاب کرتا ہے نا کہ آسمانوں پر طے ہوتا ہے۔

یہاں بعض لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ تو پھر کیا خدا نے یہ طے نہیں کیا ؟ خدا ہی نے طے کیا ہے ، خدا کے علم میں ہے ، خدا کی مشیت میں ہے کہ انسان کیا انتخاب کرے گا اچھا کرے گا یا بُرا کرے گا۔ لیکن اس طرح طے نہیں کیا کہ سپیسیفیکلی کسی انسان کیلئے کسی خاص انسان کو مقرر کیا ہوا ہے کہ اس کی شادی اسی سے ہوگی۔

یہ طے کرنا اس طرح ہے کہ غور کریں جن دوراہوں پر انسان کھڑا کیا جاتا ہے ، جن راستوں کا انسان کو زندگی میں سامنا ہوتا ہے جن میں سے اسے اپنے اختیار کا استعمال کر کے انتخاب کرنا ہوتا ہے وہ راستے کون سامنے لاتا ہے ؟ رشتے کیلئے چند انسان جو آپ کے سامنے ہیں مثلاَ چند لڑکیاں یا چند لڑکے ، جن میں سے آپ نے اپنا شریکِ حیات انتخاب کرنا ہے ؟ یہ کیسے سامنے آئے ؟ کون سامنے لایا ؟ اور یہیں کیوں سامنے آئے ؟ دنیا کے کھربوں انسانوں میں یہی چند آپ کیلئے بطورِ شریکِ حیات کے چُننے کے واسطے کیوں سامنے آئے ؟ کون لایا ؟

یہ خدا کا وہ تقدیر اور قضا و قدر کا جال ہے جو کُل کائنات پر مُحیط ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ کائنات میں سب کچھ خدا کی مرضی سے ہوتا ہے ، البتہ انسان جو انتخاب کرے اچھا یا بُرا ، وہ اس کا خود ذمہ دار ہے کیونکہ خدا نے اسے چوائس choice دی تھی ، چنانچہ یزید کا ظلم خدا کی کرنی نہیں ہے ، نا ہی حسین ابن علی کی قربانی ، اسی لیے ظلم پر سزا ہے تو قربانی پر جزا حسین کو بھی ملے گی۔ خدا نے چوائس دی ، اختیار دیا ، عقل دی اور اس عقل کی راہنمائی بھی کی ، اب انسان ذمہ دار ٹھہرا وہ اپنے کیے دھرے سے بری نہیں قرار پائے گا ، نا ہی یہ کہہ کر جان چھڑا سکے گا کہ خدا کی مرضی تھی سو ہو گیا ، یا بھلا خدا نہ چاہتا تو کیسے ہوتا.

۔جسٹن سنو ۔ ۔ ۔

SHARE

LEAVE A REPLY