افسانوی داستانوں ، تخیلُاتی کہانیوں ، جدید سوپ اوپرا سیریلز ، ایپسوڈیک سیریزز ، اور مختلف قسم کے فلموں کے جہاں مثبت پہلو ہیں وہاں ان کا ایک بے حد خطرناک پہلو یہ ہے کہ خاص کر مشرقی معاشرے کو اس مواد نے حقیقت اور حقیقی دنیا سے دور کر دیا ہے۔ حقیقت سے دوری کے اس عمل میں ہمارے روایتی نقطہ نظر ، آبائی وراثت نے بھی کافی وسیع کردار ادا کیا ہے۔
اس چیز نے ہر چیز کی اصل شکل ہی بدل دی ہے اور اب ہمارے تصورات میں ہر چیز کی وہ شکل اور وہ تصور ہے جو اس افسانوی مواد نے بنا کر دی ہے ، نہ کہ وہ جو کہ اصل میں اس چیز کی ہے۔
اب اگر کوئی ہمیں اصل شکل ، اصل تصوُر دکھاتا بھی ہے تو ہم سِرے سے اسے قبول ہی نہیں کرتے اور فوراََ رد کر دیتے ہیں ۔
مثلاََ جب کوئی ہمارے سامنے ” اسلام ” کا نام لیتا ہے ، تو ہمارے تصورات میں نماز ، روزہ ، مولوی ، نیک کام ، صدقہ خیرات، پردہ ، سخت گیری ، نعتیں ، محافل مناقب ، اور چند دیگر عبادات و عقائد و اذکار کے عکس اور تصویریں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
دین دار شخص کا عکس ہمارے تصورات میں گوشہ نشین نمازی ، ہاتھ میں تسبیح کے دانے بدلتے ہوئے ، لمبی داڑھی رکھے ہوئے ، سر پر ٹوپی پہنے ہوئے اور ہر جگہ سلام سلام کہتے ہوئے شخص کا اُبھرتا ہے۔
فرشتہ ہمارے تصورات میں سفید لباس اور سونے کا تاج پہنے ہوئے ایک حسین مرد ہے ، جنت خوبصورت باغ ہے اور دوزخ کا بھی اپنا ایک الگ تصور موجود ہے ، حور کا ذکر رہنے دیتے ہیں۔
ولی اللہ کا تصور یہ ہے کہ یہ دنیا سے مکمل کنارہ کش پہاڑوں میں گوشہ نشین ، لمبے بالوں ، سفید داڑھی اور حسیں چہرہ بزرگ شخصیت ہیں ، جو جہاں چاہیں معجزے کرتے پھریں۔
اس طرح مولانا کا تصور ایک بزرگ شخص سر پر ٹوپی پہنے یا امامہ باندھے ہوئے خاص حُلیہ لیے ہوئے حلال و حرام کی باتیں کرتا سخت گیر انسان ہے ، جس کے سامنے کوئی بھی دنیاوی بات یا دنیاوی کام حرام ہے اور وہ ہر وقت زبردستی فتوے صادر کرتا ، نصیحت کرتا ، تبلیغ کرتا اور توبہ توبہ کرواتا رہتا ہے۔
۔
ان سب کے علاوہ اکثر دینی ، معاشرتی ، سماجی ، اور دیگر علمی معارفت و مطالب کے مفاہیم اور معنے اور تعریفیں بھی ہمارے خیالات اور تخلیات میں یکسر بدل چکے ہیں۔ خود دین کی ہی شکل ہمارے تصورات میں بدل چکی ہے ، اس کے اندر اس کے معارف کی تو بات ہی کیا ۔ ۔ ۔
یوں ہی گھریلو زندگانیوں میں مختلف رشتوں کے متعلق ہم حقیقت سے مکمل طور پر دور جا چکے ہیں ، مثلاََ بیوی کیلئے ہم نے ایک خاص حد مقرر کر رکھی ہے ، نیک عورت کیلئے کچھ اصول اور کام مقرر کر رکھے ہیں کہ اگر ان چند گنے چنے کاموں کے علاوہ کوئی اور کام کیا اس نے ، تو بری عورت بن گئی ، غیرت کیلئے ہمارا معیار مکمل تبدیل ہو چکا ہے۔
محبت کی ہماری تصوراتی اور تخیلاتی تصویر وہ ہے ، جو یا تو ان افسانوں سے اخذ کردہ ہے یا پھر فطری طلب کے حسرت بن جانے کے نتیجے میں جو تخیلاتی اور تصوراتی شکل ہم نے خود تخلیق کی ہے اسی کو حقیقی محبت سے تعبیر کرتے رہتے ہیں ، عشق و محبت کی اس تعریف کی ترتیب میں ہمارے ترجیحات ، رحجانات ، اور تجربات کا بھی کافی عمل دخل ہے ۔ ۔ ۔
اچھی عورت اور بری عورت کا ایک خاص خودساختہ تصور قائم ہے ، ہمارے تصور میں مرد کا عورت ، یا عورت کا مرد کو پسند کرنا بدکاری کی علامت سمجھا جاتا ہے ، ہم یہ گمان کرتے ہیں کہ دین بھی یہی کہتا ہے ، جبکہ یہ ایک فطری بات ہے ، دین آپ کیلئے حدود مقرر کرتا ہے ، دین آپ کو صحیحی اور غلط کا ایک بنیادی معیار دیتا ہے ، وہ انسانی فطرت کی مخالفت نہیں کرتا۔
سیاست ہمارے لیے دھوکے ، فریب ، اور ہر جائز و ناجائز طریقے سے مفاد پرستی اور اپنے مطلب و مقصد کے حصول کا نام ہے ، گلی میں گھومتا مانگتا لمبے بالوں والا ہر فقیر اور کسی جگہ پڑے ہوئے ہر نشے کا عادی انسان میں ہمیں اللہ والا نظر آتا ہے۔
جدیدیت اور ماڈرن ہونا ہمارے لیے لباس ، حُلیے ، زبان ، علاقے ، اور طرزِ زندگی پر منحصر ہے ، مسلمانی اور مسلمان ہونے کیلئے ہم نے کچھ مخصوص اعمال ، عقائد ، عبادات اور اذکار وغیرہ کا ایک ٹائم ٹیبل ترتیب دیا ہے کہ بس یہ کرتے رہیں تو مکمل مسلمان رہیں گے ۔
شخصیت پرستی ، زن پرستی ، بُت پرستی ، خود پرستی ، خود شناسی ، خدا شناسی وغیرہ اور ان جیسے دیگر الفاظ کیلئے ہمارے تصور میں اپنے حساب سے خاص تعریفیں بنی پڑی ہیں ، محبت اور جنگ میں سب جائز والا اصول ہمارے لیے جائز ہے ، دل و دماغ کے بیچ دل کی ماننے والی بات ہمارے لیے عین درست عمل ہے ۔ ۔ ۔
عزت ہمارے تصور میں ، لوگوں کے اذہان میں ہمارے متعلق خود ساختہ عکس کا نام ہے ، اور عزت بچانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ خود ساختہ عکس جو کسی کے ذہن میں آپ کے متعلق بنا ہے اُسے بنا یا بگاڑ کر مطلوبہ من چاہا عکس مرتب کیا جائے۔
خود سے باتیں کرنے والے کو پاگل گردانا جاتا ہے ، سائنسی تعلیم کی محرومی جہالت کا خطاب بن جاتی ہے اور دینی علوم سے قربت دقیانوسیت کی علامت بن جاتا ہے ، سمجھتے ہیں کہ سائنسی تعلیم عورت کو بے حیا کر دے گی ، عقلمندی ، جہالت ، بیوقوفی ، حماقت ، دانائی ، حکمت ، وغیرہ کے معیارات ہمارے تصورات میں اصل اور حقیقی معیارات سے یکسر مختلف ہیں۔
۔
انسان بہت سی چیزوں کی شکل اور حقیقت کو اپنے تصور میں خود ہی بنا لیتا ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے غور کیا ہو گا کہ اکثر جب کسی چیز کا نام لیا جاتا ہے تو اس کے متعلق ہمارے تصور میں ایک خاص عکس ابھر آتا ہے ، مثلاََ مٹی ، سیاست ، محبت ، عشق ، انار ، سیب ، شہد ، دودھ ، ماں وغیرہ کے الفاظ ۔ ۔ ۔
مثلاََ جب آپ کے سامنے کوئی سرخ رنگ کا لفظ استعمال کرتا ہے تو آپ کے ذہن میں کیا آتا ہے ، یا سیاست کا لفظ ، یا جب کوئی دین کا لفظ استعمال کرتا ہے یا اسلام کا ، تو تصور میں کیا تصویر بنتی ہے ، اور کیوں اُبھرتی ہے ؟
کسی لفظ کے سنتے ہی ہمارے تصور اور تخیل میں کوئی تصویر یا عکس یوں ہی نہیں اُبھرتا ، بلکہ آپ کے رحجانات ، آپ کے ترجیحات ، آپ کے مقاصد ، آپ کی نیت ، آپ کے تجربات ، آپ کی طبیعت ، آپ کو ملی ہوئی تربیت اور آپ پر بیرونی ماحول کے اثرات نے اُسے ترتیب دیا ہوتا ہے ، آپ کا کسی چیز کو پسند ناپسند کرنا ، کسی چیز کی طرف کشش محسوس کرنا ، کسی چیز کو چاہنا بھی ان ہی عوامل کی بنیاد پر ہوتا ہے ، آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ فلاں شے ، فلاں شخصیت ، فلاں خاصیت ، فلاں کام ، فلاں عمل ، مجھے بس یوں ہی پسند آگیا۔
میں مزید کچھ نہیں کہوں گا لیکن اپنی یہ ناقص رائے ضرور پیش کروں گا ۔ ۔ ۔
پہلی بات یہ یاد رکھیں کہ ہر شے کی خدا کی طرف سے ایک اصل ، خالص اور حقیقی شکل ، صورت اور حالت موجود ہے ، جو افلاطون کی اصطلاح میں ” فارمز ” کہلاتا ہے۔ چاہے وہ انسان ہو ، دین ہو ، معارف ہوں ، محبت ہو ،، نفرت ہو ، عشق ہو ، غیرت ہو ، عزت ہو ، نظام ہو ، اخلاق ہوں ، عقل ہو ، عورت ہو ، مسلمانیت ہو سچائی ہو ، حق ہو ، باطل ہو یا کچھ بھی ہو ۔
آپ نے کسی چیز کو جس بھی شکل میں پایا ، جتنا بھی ملاوٹ ذدہ ، بدلا ہوا ، مختلف دیکھا ، اُس کی اپنی اور حقیقی شکل اور حالت بحرحال موجود ہے ، کسی چیز کو ناخالص کرنے میں اپ کا اندرونی ماحول بھی کافی اثر ڈالتا ہے۔
مثلاََ اس وقت ہر گروہ کے پاس دین اسلام کا الگ نظریہ ، فکر اور تصور ہے ، لیکن یہ جتنا بھی بدل دیا جائے ، اس کی خالص حالت ، یعنی جیسے خدا نے اسے بنایا ہے ، پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، وہ بحرحال موجود رہتی ہے۔
یا اسلام کو چھوڑکر ، جنرلی ” دین ” کے متعلق مغرب کے نظریات کہ یہ کینسر ہے ، یا انسان کا بنایا ہوا ہے ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، یہ فیصلہ اور یہ نظریہ اُن کا اُن کے تجربات ، رُحجانات ، ترجیحات وغیرہ کی بنیاد پر ہے ، اس سے خدا کی طرف سے دیا گیا فطری دین کا تصور تبدیل نہیں ہوتا ، وہ اپنی جگہ خالص حالت میں موجود ہے ۔ ۔ ۔
دوسری اہم بات یہ ہے ، کہ آپ کے پاس جو چیز ہے ، جو انفارمیشن ہے ، کسی شے کے متعلق جو تعریف ہے ، جو جانکاری ، جو تصویر ، جو عکس ، اور جو زاویہ ، جو علم ہے ، اس کا مآخذ یعنی سورس کیا اور کتنا قابلِ اعتبار ہے ، یہ آپ نے کہاں سے اور کیسے اخذ کیا ۔ ۔ ۔ ؟
مثلاََ آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ محبت میں فنا ہے ، آپ کیوں سمجھتے ہیں کہ دین دقیانوسی فکر ہے ، آپ کے ذہن میں عشق کی جدیدیت کی ، غیرت ، عزت کی ، عشق کی ، سیاست کی ، اچھی عورت کی ، مردانگی وغیرہ کی جو تعریف ہے وہ کہاں سے کیسے حاصل کی ہے آپ نے ، کیوں بنی وہ تعریف ، اور جہاں سے بنی ہے ، جہاں سے حاصل کی ہے کس قدر قابل اعتبار اور خالص سورس ہے؟ سیاست ، مذہب ، کسی تحریک وغیرہ کے متعلق آپ کا کوئی خاص نقطہ نظر ، آپ نے کہاں سے کیسے پایا ۔ ۔ ۔ ؟
مثلاََ مغرب کی اکثریتی عام عوام نے اسلام کو میڈیا کے توسط سے حاصل کیا ہے ، جس طرح ہم نے تمام معارف اور تعریفیں افسانوی داستانوں یا ادھر اُدھر سے حاصل کی ہیں ۔ ۔ ۔ مغرب سے کسی نے کبھی خود قرآن ، سیرتِ رسول اللہ ، جو کہ اسلام کے خالص ترین مآخذ ہیں ، کو نہیں پڑھا ۔ اگرچے جنہوں نے اس کا مطالعہ اور اس پر ریسرچ کی ہے ہم سے بہت زیادہ بہتر کی ہے ۔ لیکن میں اکثریت کے اجماعی سوچ کی بات کر رہا ہوں۔
خود ہم بھی قرآن کے ترجمے کے بجائے اپنے گروہ کی مرتب کردہ تفاسیر کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، اور وہ ترجمہ بھی ہر کسی نے اپنے لحاظ سے نکال ڈال کر ترتیب دیا ہوتا ہے ۔
آخر میں مغربی فلسفی پاسکال کے اس قول پر بات ختم کرتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔
” انسان کی معرفت کی عام راہیں کسی بھی زمانے میں انسان اور انسان سے جڑے کسی بھی شے کے متعلق مکمل درست معلومات فراہم نہیں کر سکتیں “۔
جسٹن سنو….













