احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو اشتہاری مہم کا غیر قانونی ٹھیکہ دے کر قومی خزانے کو 12کروڑ روپے نقصان پہنچانے کے نیب ریفرنس کی نقول فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔

سیکیورٹی وجوہات پر حاضری سے مستقل استثنیٰ دینے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کردیئے۔

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے اور انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تشہیر کے لیے اشتہاری مہم چلانے کا ٹھیکہ رولز کے مطابق تھا۔

انہوں نے سیکیورٹی وجوہات کے باعث عدالت میں حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی جس پر بحث کے لیے نیب کو نوٹس جاری کر دیا گیا۔

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی نے یونیورسل سروسز فنڈز کا غیر قانونی استعمال کر کے اشتہاری مہم کا ٹھیکہ دیا۔

قومی احتساب بیورو نے سابق پرنسپل انفارمیشن آفیسر محمد سلیم، سابق سیکریٹری آئی ٹی فاروق اعوان اور اشتہاری کمپنی کے مالک انعام اکبر سمیت 7افراد کو ملزمان نامزد کیا ہے۔

نیب کے مطابق ٹھیکہ دینے میں پیپرا رولز کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

عدالت نے یوسف رضا گیلانی کو 10لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 22 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

SHARE

LEAVE A REPLY