ریڈیو پاکستان کی موجودہ صورتحال انتہائی ناگفتہ ہو رہی ہے اور پنشرز کو پنشن نہ ملنے کا مسلہ سنگین ہوتا چلا جا رہا ہے اور ایسے میں وزیر اطلاعات، سیکرٹری اطلاعات اور ڈی جی ریڈیو طاہر حسن نے قومی اثاثے ریڈیو پاکستان کو ریلوے اور اسٹیل مل سمجھ لیا ہے اور اسکے اثاثے بیچنے کا سوچا جا رہا ہے
ریڈیو پنشنرز نے کہا ہے کہ ریڈیو پاکستان کا آڈٹ کیا جائے تا کہ معلوم ہو کہ موجودہ ڈی جی کے اکتوبر میں آنے کے بعد ادارے کے مالی امور میں کیا گھپلے ہوئے ہیں اور ریڈیو کا پیسہ کہاں خرچ کیا گیا ہے کہ مالی بحران شدید تر ہو گیا ہے
ریڈیو پاکستان کے ایک سینئر ریٹائرڈ افسر کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈی جی کے خلاف نیب یا دیگر مصدقہ آڈٹ پارٹی سے رابطہ کرکے صحیح صورتحال کی چھان بین وقت کا تقاضا ہے
اسی دوران معلوم ہوا ہے کہ ریڈیو کے درجن بھر نشریاتی مراکز میں عمارت کے جو کچھ حصے اے پی پی کو کرائے پر دیئے گئے تھے اور نقصان کا سودا ہے کہ اے پی پی نے سال بھر کے کرائے میں سے صرف چار ماہ کا کرایہ ادا کیا ہے لیکن وزارت نے اسکا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے














موجودہ ڈی جی کے خلاف نیب یا دیگر مصدقہ آڈٹ پارٹی سے رابطہ کرکے صحیح صورتحال کی چھان بین وقت کا تقاضا ہے