اسلام آباد میں ریدیو پاکستان کی سات منزلہ عمارت کو لیز پر دینے کا مسلہ ہنوز تعطل کا شکار ہے اور وزارت اطلاعات سمیت ریڈیو کے سربراہ شفقت جلیل کی طرف سے مسلے کو حل کرنے کے اقدامات ہوتے نظر نہیں آ رہے۔ ایسے میں ملازمین میں نے چینی بڑھتی چلی جا رہی ہے
غیر جانبدار لوگوں کا کہنا ہے کہ حکمران پارٹی کو اصل تکلیف اس بات کی ہے کہ ریڈیو ملازمین نے ریڈیو عمارت ان کے دوستوں کو بیچنے میں رخنہ ڈالا ہے۔
سوال یہ نہیں ہے کہ فلاں عمارت کرائے پر دینی ہے یا بیچنی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک کو عوامی نشریاتی ادارے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ قوم کو اور اس کے منتخب نمائندوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا۔
سرائکیوں، پنجابیوں،سندھیوں پوٹھوہاریوں، ہندکو،بلتی،کشمیری، بلوچی، پشتودیگر 20 زبانوں کلچر لوگوں کو ریڈیو اسلام اباد گھسنے نہ دیتا تھا۔ اس نے محروم زبانوں اور علاقوں کے لوگوں پر دروازے کھولے اور ریڈیو کو مخصوص زبان کلچر کی بجائے سب کا ریڈیو پاکستان بنایا۔
اسی دوران وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی ایک ایسی وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ اپنے ساتھی وزیر محمد علی سے ریڈیو کے بارے میں وہ غلط اعدادوشمار پیش کر رہے ہیں جو انکو انکے خوشنودی حاصل کرنے والے حلقوں نے فراہم کیئے ہیں
ریڈیو ملازمین کے نمائیندوں اور کارکنوں کی یونین کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی ان غلط اعدادوشمار کے جواب میں درست صورت حال پاکستانی عوام کے سامنے لائیں گے
وزیر اطلاعات کی مذکورہ وڈیو یہاں دیکھی جا سکتی ہے













