چینی حکام نے صوبہ سنکیانگ کے دارالحکومت میں حلال اشیاء کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حلال اشیاء کے خلاف اس کریک ڈاؤن کو شدت پسندی کے خلاف مہم قرار دیا گیا ہے۔
صوبہ سنکیانگ میں مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں اور انہیں چینی حکومت کی طرف سے مذہبی پابندیوں کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق صوبہ سنکیانگ میں 10 لاکھ کے قریب ایغور اور دیگر مسلمانوں کو ان کی سیاسی تربیت کے نام پر غیر قانونی جبری حراست میں رکھا گیا ہے۔












