پاکستان کے مختلف صحافتی اداروں سے صحافیوں کو برطرف کیئے جانے کی اطلاعات ہیں
سوشل میڈیا پرسنئیر صحافی مطیع اللہ جان کو ادارے سے نکالے کی خبر ملی ہے۔ اسی طرح گزشتہ کئی روز سے میڈیا ہائوسز سے جبری چھانٹیوں اور برطرفیوں کے الارم بجتے سنائی دے رہے ییں۔۔
اے آر وائی کی خاتون صحافی نوشین نقوی کو اپنے ساتھیوں کا دکھ محسوس کرنے پر ایک فیس بک سٹیٹس لگانے پر ادارے میں داخل ہونے سے ہی روک دیا گیاجس کی بازگشت تین روز سے سنائی دے رہی یے
اے آر وائی میں سنئیر پروڈیوسرز سے جبری استعفے لئے جا رہے ہیں۔۔۔کوئی آوازسنائی نہیں دے رہی۔۔۔محض ان آوازوں کے جن کو دبا کے اداروں سے نکالا جا رہا ہے۔
جیو،ڈان،ایکسپریس سے سینکڑوں ملازمین بنا نوٹس نکالے جا چکے ہیں ۔ان اداروں سمیت دیگر چھوٹے بڑے اداروں میں لسٹیں تیار ہیں جن کے سامنے آتے ہی تعلیم یافتہ بیروزگار صحافی ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر آتے دکھائی دیتے ہیں اور اس جن کو قابو کرنے کے لئے بظاہر ابھی تک کوئی صورت حال نظر نہیں
آ رہی۔
نوشین نقوی













