فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی کےسربراہ واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کے ٹریڈنگ لائسنس کی تصدیق شدہ کاپی کیلئے درخواست نہیں دی ،ایسی دستاویز بھی حاصل نہیں کی جس سے ظاہر ہو کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کب بنائی گئی؟
نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے کی۔
نواز شریف سکیورٹی وجوہات کی بنا پر عدالت پیش نہ ہوئے۔ عدالت نے آج کی حاضری سے استثنا کی درخواست منظور کرلی۔
سربراہ جے آئی ٹی واجد ضیا نے احتساب عدالت کو بتایا ہے کہ حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے تو ان سے دوران تفتیش کیپٹل ایف زیڈ ای کی ملکیت اور اس کے کاروبار سے متعلق کوئی سوال نہیں پوچھا گیا۔ دبئی جانے والی جے آئی ٹی نے جبل علی فری زون اتھارٹی کودستاویزات کے حصول کیلئے تحریری طور پر نہیں لکھا تاہم ممبران نے جفزا اتھارٹی کے نام خط دیا تھا جس میں ٹریڈنگ لائسنس بارے میں خصوصاً نہیں لکھا گیا تھا۔ ممبران نے بتایا کہ جفزا حکام کو ٹریڈنگ لائسنس پر زبانی درخواست کی گئی تھی۔
واجد ضیاء نے دوران جرح بتایا کہ گورنیکا انٹرنیشنل نے فراہم کی گئی دستاویزات کے اصل ہونے کی تصدیق کی، لیکن جے آئی ٹی نے گورنیکا کے کسی ممبر کو شامل تفتیش نہیں کیا۔
واجد ضیا نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے کیپٹل ایف زیڈ ای کے مالک، ڈائریکٹر، سیکرٹری اور مجاز دستخط کنندہ کی معلومات نہیں لیں، ایسی دستاویز بھی حاصل نہیں کیں جس سے ظاہر ہو کہ کیپٹل ایف زیڈ ای کب قائم کی گئی؟
واجد ضیاء نے اعتراف کیا کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان کے دوران میں نے رضاکارانہ رائے دی کہ جے آئی ٹی ممبران کیپٹل ایف زیڈ ای کا ریکارڈ لینے جفزا گئے تھے۔
واجد ضیا پر خواجہ حارث کی جرح کل بھی جاری رہے گی۔













