پاکستان نے ریاست جموں وکشمیر میں رائے شماری اپریل/مئی 1948، برطانیہ نے اکتوبر 1948 سے پہلے پہلے اور اقوام متحدہ کے ایڈمنسٹریٹر برائے رائے شماری  نے یکم نومبر 1950 سے پہلے پہلے کرانے کا ٹائم فریم دیا تھا۔

برطانیہ نے رائے شماری اکتوبر 1948 سے پہلے اس لئے کرانے کا کہا تھا، کہ اکتوبر کے بعد کشمیر میں برف گرنی شروع ہوجاتی ہے۔ برف کی وجہ بزرگ، خواتین اور دوسرے لوگوں کی ووٹ دہی میں مشکلات پیش آتیں۔ اقوام متحدہ کے ایڈمنسٹریٹر برائے رائے شماری نے یکم نومبر 1950 سے پہلے رائے شماری کا پروگرام مکمل کرنے کے لئے، اس لئے کہا تھا، کہ وہ الیکٹورل رجسٹر  کی تیاری میں، انڈیا اور پاکستان کے ساتھ مشاورت کر رہا تھا۔

اس کے ذہن میں NWFP میں کئے گئے ریفرنڈم کا ماڈل تھا۔ اس کا اظہار اس نے واشنگٹن میں موجود پاکستان اور انڈیا کے سفارتی نمائندوں سے اپنی ملاقات میں کیا تھا۔ ان دو ممالک کے سفارتی نمائندے،

Plebiscite Administrator

کو اس کی تعیناتی کے بعد

courtesy call

کے لئے اس کے دفتر آئے تھے۔ رائے شماری کے ایڈمنسٹریٹر کو سٹیٹ ڈپارٹمنٹ ہی میں دفتر کی جگہ اور سٹاف دیا گیا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کو 14 مارچ 1950 کے

(Resolution 80 (1950

میں کہا گیا تھا:

“..to prepare and execute within a period of five months from the date of this resolution a programme of demilitarization on the basis of the principles of paragraph 2 of General McNaughton proposal or of such modifications of those principles as may be mutually agreed”.

ضروری

demilitarisation

کے کام پر عملدرآمد کے لئے اقوام متحدہ کے ایک نمائندے

United Nations Representative

کی تقرری کا بھی فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ یہ تقرری اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ:

“to assist in the preparation and to supervise the implementation of the programme of demilitarisation …….and to interpret all agreements reached by parties for demilitarisation;”

کو ریاست جموں وکشمیر کا آفیسر قرار دیا گیا ہے۔

“The Plebiscite Administrator, acting as an officer of the State of Jammu and Kashmir, should have authority to nominate his assistants and other subordinates and to draft regulations governing the plebiscite. Such nominees should be formally appointed and such draft regulations should be formally promulgated by the State of Jammu and Kashmir.”

رائے شماری کے انتظامات حکومت جموں وکشمیر کے اختیار میں ہیں۔

ہندوستان کی

reduced to the minimum strength

فوج کو

station

کرنے کے لئے بھی تین اصول وضع کئے گئے ہیں :

پہلا اصول ،(پابندی) یہ ہے کہ انکی موجودگی سے عوام کو

intimidation or appearance of intimidation

کا احساس نہیں ہونا چاہئے

دوسری پابندی ان کے عدد پر ہے
“That as small a number as possible should be retained in forward areas;

تیسری پابندی ان کی لوکیشن پر ہے :
“That any reserve of troops which may be included in the total strength should be located within their present base area.”

ہندوستان کی افواج پر 4 ذمہ داریاں اور 3 پابندیاں عائد ہیں۔ یہ ایک

subordinate

اور

supplemental

فوج ہے. ریاست کے تابع اس فوج کے ایک prevailing فوج میں تبدیل ہوجانے کی بڑی وجہ ہماری کشمیر کیس کی کم علمی اور کم فہمی ہے۔ ہمیں اپنے اس احتیاج کا ابھی تک احساس نہیں ہوا۔

(جاری)
سید نذیر گیلانی

SHARE

LEAVE A REPLY