باتیں سچی ،الفاظ نا مناسب ,عالم آرا

0
771

اسمبلی کے اجلاس ہورہے ہیں اور دھواں دھار ہو رہے ہیں ۔باتیں کڑوی بھی ہیں اور سچی بھی ۔لیکن انداز محطاط ہونا چاہئے ۔جب تبدیلی کی بات ہے تو ہر غلط اور نا پسندیدہ رویہ بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔بلا شک پچھلی حکومتوں نے بہت کچھ نقصان کر دیا ہے کیوں ؟یہ ہمیں پتہ نہیں کون سادباؤ تھا، یا ہھر خود ہی اپنے اور اپنے ملک کے نقصان کا سمجھ نہیں پائے تھے ۔یا دنیا کی چکا چوند نے سب کچھ پسِ پُشت کر دیا تھا ۔ہمیں پتہ نہیں لیکن اتنا ضرور جانتے ہیں کہ انسان جب سچ بولنا چاہے خود کو بدلنا چاہے تو بہت سخت مجاہدے کی ضرورت ہوتی ہے جس میں ہمیں اپنے یہاں کے کرپٹ لوگ بلکہ اُن کا ساتھ دینے والے لوگ بھی بہت ہی کمزور محسوس ہوتے ہیں ۔اگر ہم سب ہی یہ عہد کر لیں کہ ملکی معاملات میں سوائے اُن کے جو انتہائی حساس اور حفاظتی ہیں کسی بھی بات پر کوئی غلط بیانی نہیں کرینگے تو شاید قوم بھی ہمارے معاملات کو سمجھ سکے گی اور عوامی مدد بھی ملے گی ۔کیونکہ جب افواہوں کا زور ہو غلط بیانی عام کر دی جائے تو کھرے کھوٹے کی تمیز باقی نہیں رہتی ۔اور یہ ہی وہ مقام ہے جہاں سے شکوک اور شبھات کو فروغ ملتا ہے اور اعتماد ختم ہو جاتے ہیں ۔
اسمبلی میں بھی روئیوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے ۔حزبِ اختلاف تو چیخے گی بھی اور چلائے گی بھی کہ اُس نے کبھی اتنا سخت وقت شاید دیکھا نہیں اس لئے حکمران جماعتوں کی طرف سے ایک مثبت رویہ اور اخلاقی تحریک ضرور نظر آنی چاہئے ۔بات تو سچ ہوتی ہے جب کرپشن ،بے ایمانی اور اقرباء پروری کی ہوتی ہے لیکن جو لوگ ملوث ہوتے ہیں اُنہیں یہ باتیں چبھتی ہیں ۔بقول وزیرِ اطلاعات چور کو چور اور ڈاکو کو ڈاکو نہ کہیں تو کیا کہیں ۔ضرور کہئے مگر ان ہی کی طرح ڈھکا چھپا کہئے جیسا کے یہ چھپاتے رہے ہر کرپٹ کو اپنی چھتریوں کے نیچے ۔اگر آپ سب کچھ کھل کر بتائینگے تو فورا` پگڑیاں اُچھلنے کی بات آجائیگی ۔مگر جو کچھ پچھلی حکومتوں نے اُچھال دیا بیرونی ممالک وہ شاید جب تک نظڑ نہیں آئیگا جب تک آپ کھل کر ہر چیز سامنے نہیں لے آئینگے ۔راستہ سخت ہے ،دشوار گزار ہے لیکن منزل دور نہیں ہوگی جب عہد کر لینگے کہ بس اب اور نہیں ،تو مدد ضرور ملے گی

فیصلے کئے جارہے ہیں ۔لوگ سامنے لائے جا رہے ہیں اور یہ بات یقینی ہے کہ جب بکرا چھری تلے آتا ہے تو چیختا بھی بہت زور زور سے ہے اور یہ ہی سب کچھ اسمبلی میں بھی ہو رہا ہے اور شاید باقی دوسرے محازوں پر بھی ۔کیونکہ یہ تو تصور میں بھی نہیں تھا کہ ہم کبھی یہ سب ہوتا دیکھینگے ۔الحمدُ للہ بہت کچھ کیا جارہا ہے اور کرنے کی خواہش بھی موجود ہے ۔کہتے ہیں قانون مکڑی کا جالا ہے جس میں چھوٹے چھوٹےکیڑے مکوڑے تو پھنس جاتے ہیں لیکن بڑے جانور اُسے پھاڑ کر نکل جاتے ہیں ۔ یہ ہی بد نصیبی ہے لیکن ہمیں لگتا ہے کہ اب بڑے جانور بھی نہیں نکل پائینگے ۔
نئی حکومت ہے کچھ وقت لے گی اور وقت دینا بھی چاہئے لیکن ہم بہت جلد باز قوم ہیں چاہتے ہیں کہ جادو کی چھڑی ہو اور ایک منٹ میں سب کچھ ٹھیک ہو جائے ہمیں صرف یہ حیرت ہوتی ہے کہ جب ہم پر ظلم ہورہا تھا قرضے چڑھائے جارہے تھے ۔جائیدادیں بنائی جارہپی تھیں میٹنگس دبئی اور لندن میں ہورہی تھیں اُس وقت ہمیں یہ سب کچھ نہ تو برا لگتا تھا نہ ہی ہم اُس پر آواز اُٹھاتے تھے ،سب کچھ نظروں کے سامنے ہوا کس نے خبر لی کس نے دیکھا کہ ملک کے ساتھ کیا زیادتی کی جارہپی ہے ۔نہ پاناما آتا نہ ہم جاگتے اور ابھی بھی شاید غنودگی طاری ہے ابھی بھی پوری طرح آنکھیں نہیں کھلیں کیونکہ ہمارے ارد گرد وہ ہی فضا ہے جو ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتی ۔
ہمیں اُمید ہے کہ اب ہم سب ہی ایک قوم بن کر سوچینگے ایک ملت بن کر اُبھرینگے کیونکہ ماضی صرف اور صرف سبق سیکھنے کے لئے نہیں ہوتا خود کو بدلنے کے لئے بھی ہوتا ہے اور جب تک ہم خود کو بدلنے کی کوشش نہیں کرینگے ہم قوم تو کیااچھے انسان بھی نہیں بن پائینگے ۔سارے کام حکومت کے کھاتے میں نہیں ڈالے جاسکتے ۔سچ آپ کو خود بولنا ہوگا کوئی آپ سے سچ نہیں بلوا سکتا ،ایمانداری آپ کو خود کرنا ہوگی کوئی آپ کو ایماندار نہیں بنا سکتا ،صفائی آپ کو خود کرنا ہوگی اگر آپ خود صفائی نہیں کرینگے تو کچرا ہی آپ کا مقدر ہوگا ۔ہمیں دکھ ہوا جب پتہ چلا کہ جو ھاءوسز کھولے گئے عوام کے لئے وہاں اتنی گندگی پھیلائی گئی کہ ہمیں یہ پڑھ کر سوائے شرمندگی کے کچھ محسوس نہ ہوا کہ کیا ہم اس قابل ہیں کہ ہمیں تفریح کے لئے کچھ مواقع دئے جائیں ۔اگر ہم سب ہی صفائی کی طرف توجہ کریں تو گندگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن یہ سب معاملات اسمبلی میں قانون بنا کر طے کئے جانے چاہئیں ۔بیرونی ممالک میں قانون ہیں کہ اگر کوئی کچرا سڑک پر پھینکے گا تو جرمانہ کیا جائیگا ۔اس لئے یہاں صفائی کی وہ مصیبت نہیں ہے جو ہمارے ممالک میں ہے ۔
اب اسمبلی میں قانون بنائے جانے چاہئیں بہت کر لی ایک دوسرے کی مخالفت اور تنقید اب ضرورت ہے قانون سازی کی جس میں ہم سب کو صرف اور صرف پاکستانی ہونے کا ثبوت دینا چاہئے نہ حزب اقتدار کا نہ حزب مُخالف کا ۔
ہم سب پاکساتی ہیں پاکستان ہمارا ہے ایک دَ ین ہے رحیم و کریم رَب کی ،آزادی نعمت ہے ہمیں ان نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہئے انکی حفاظت کر کے ان سے فائدے اُٹھا کر اور اپنے ملک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی میں حصے دار بن کر ۔چھوٹے موٹےاختلاف بالکل حق بھی ہیں اور ریاست کی خوبصورت بھی لیکن انہیں اتنا نہ پھیلائیں کہ ملک کہیں پیچھے رہ جائے ۔
سب سے پہلے ہمیں لگتا ہے کہ وہ قانون لانے چاہئیں جن کے نہ ہونے سے ہم ان حالات تک پہنچے ۔اب بھی اگر کرپشن اور اقرباء پروری پر قانون سازی نہ کی گئی تو پھر کیسی تبدیلی اور کہاں کا انقلاب ۔جو لوگ میرٹ پر آتے ہیں ان کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ نہیں ہوسکتا کہ صرف اس وجہ سے کسی بیٹے یا بیٹی بہو یا داماد کو نہیں رکھا جا سکتا کہ وہ کسی کا رشتے دار ہے ۔اگر وہ اپنی محنت اور کارکردگی سے آگے آتا ہے تو اُس کے لئے راہیں کھلی ہونی چاہئیں ۔یہ نا انصافی ہوگی کہ کسی کو صرف اس وجہ سے آگے آنے سے روکا جائے کہ وہ کسی سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ سب پاکستانی جو کسی میرٹ پر آگے آتے ہیں انہیں تنقید یا تضحیک کا نشانہ نہیں بنانا چاہئے ۔کیونکہ اچھے لوگ آگے آنے چاہئیں یہ نہیں کہ اہلیت کے بغیر کسی کو بھی عہدے کا اہل کردیا جائے کسی نسبت کی وجہ سے ۔بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن سوچ سمجھ کر ۔
ہماری دعا ہے کہ ملک میں آنے والی تبدیلی دائمی ہو اور ملک اور قوم کو وہ کردار دے جائے جو آنے والوں کے لئے بھی مشعلِ راہ بنے ۔
اللہ میرے ملک کا حامی و ناصر رہے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY