پاکستان کی انسانی حقوق کی ایک سرگرم کارکن عاصمہ جہانگیر کو اپنی وفات کے بعد اقوام متحدہ کے انسانی حقوق انعام برائے 2018 کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔
ان سے قبل رعنا لیاقت علی خان (1978) سابق پاکستانی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو (2008) اور ملالہ یوسف زئی (2013) کو یہ ایوارڈ دیا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریا فرینڈا ایسپی نوسا نے 26 اکتوبر کو اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ عاصمہ جہانگیر، تنزانیہ کی ایک این جی او کی بانی ربیکا گیومی ، برازیل کی قانون دان جوینا واپیچانا اور ائر لینڈ کی انسانی حقوق کی ایک تنظیم فرنٹ لائن ڈیفنڈرز نے اقوام متحدہ کا یہ باوقار ایوراڈ جیت لیا ہے۔

انہوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ میں بڑے فخر سے انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لیے ان افراد اور تنظیموں کی خدمات کا اعتراف کرتی ہوں۔

عاصمہ جہانگیر کو یہ ایوارڈ ان کی وفات کے بعد دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے سن 1998 سے 2004 میں ماورائے عدالت ہلاکتوں اور اس کے بعد 2004 سے 2010 تک مذہبی آزادیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے طور پر بھی کام کیا تھا۔

عاصمہ جہانگیر اس سال فروری میں حرکت قلب بند ہو جانے سے 66 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں تھیں۔

اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق کا ایوارڈ، جنرل اسمبلی کی 1966 کی قرارداد کے تحت ہر پانچ سال کے بعد دیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق اور پاکستان میں بالخصوص جمہوریت اقدار کے تحفظ کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
عاصمہ جہانگیر (27 جنوری 1952ء) لاہور میں پیدا ہوئی اور 11فروری 2018 کو لاہور میں وفات پائی۔ پیشہ کے لحاظ سے وکیل تھیں۔ اس کے علاوہ انسانی حقوق کی علمبردار اور سماجی کارکن تھیں

عاصمہ پاکستان کے اداروں خصوصاً فوج پر تنقید کے لیے مشہور تھیں

SHARE

LEAVE A REPLY