ہے قصہ محبت کا دلشاد اتنا,دلشاد نسیم

0
822

مرے ہاتھ میں ہے خزانہ ترا خط
مرے عشق کا یہ ترانہ ترا خط

کئی راتیں جاگیں تھیں مانگی دعائیں
مرے ہجر کا محنتانہ ترا خط

کوئی راگ چھیڑا ہے الفت کا میں نے
پڑھا جب سے ہے شاعرانہ ترا خط

مجھے آئینے سے حیا آ رہی ہے
مرے پاس ہے عاشقانہ ترا خط

نہیں ہوش میں ، میں پڑھا جب سے میں نے
عجب سا ہے یہ ساحرانہ ترا خط

تو نے لکھ دیا ہے یہ مجھ پر قصیدہ
مرے ہاتھ میں خسروانہ ترا خط

مری نیند کا یہ سہارا بنے گا
مرے خوابوں کا آستانہ ترا خط

ہوئی جب بھی مجھ پر یہ بارش غموں کی
تو بن جاتا ہے شامیانہ ترا خط

ہے قصہ محبت کا دلشاد اتنا
مرے عشق کا شاخسانہ ترا خط

دلشاد نسیم

SHARE

LEAVE A REPLY