مرے ہاتھ میں ہے خزانہ ترا خط
مرے عشق کا یہ ترانہ ترا خط
کئی راتیں جاگیں تھیں مانگی دعائیں
مرے ہجر کا محنتانہ ترا خط
کوئی راگ چھیڑا ہے الفت کا میں نے
پڑھا جب سے ہے شاعرانہ ترا خط
مجھے آئینے سے حیا آ رہی ہے
مرے پاس ہے عاشقانہ ترا خط
نہیں ہوش میں ، میں پڑھا جب سے میں نے
عجب سا ہے یہ ساحرانہ ترا خط
تو نے لکھ دیا ہے یہ مجھ پر قصیدہ
مرے ہاتھ میں خسروانہ ترا خط
مری نیند کا یہ سہارا بنے گا
مرے خوابوں کا آستانہ ترا خط
ہوئی جب بھی مجھ پر یہ بارش غموں کی
تو بن جاتا ہے شامیانہ ترا خط
ہے قصہ محبت کا دلشاد اتنا
مرے عشق کا شاخسانہ ترا خط
دلشاد نسیم












