دلدار پرویز بھٹی اپنے آخری دنوں میں چلڈرن کمپلیکس میں ڈرایکٹر تھا میں اسی کے آفس میں بیٹھ کر “وقت کی آواز” پرگرام لکھتی اور پھر ہم عرفان کھوسٹ کے سٹوڈیو ریکارڈنگ کے لیے چلے جاتے.. دلدار بولتا جاتا اور مین لکھتی جاتی.. سکرپٹ لکھتے ہوے کاغز ختم ہوا تو میں نے کہا “کاغز پھڑا” فورا بولا اساں تے کدی اپنی منگ نہین چھڈی تون کاغز منگ نی ایں” اچھا بک بک نہ کر کاغز دے..میں نے کہا. اتنے مین ہائ کورٹ کے جج عبداسلام خاور تشریف لائے ان کے ساتھ دو اور لوگ تھے اور وہ دلدار کو لنچ پر لیجانا چاہتے تھے دلدار نے کہا نہیں عصمت آئ ہوئ ہیں میں نہین جا سکتا جج صاحب نے بہت اصرار کیا کہ عصمت طاہرہ بھی ساتھ چلین مگر دلدار نہیں مانا جج صاحب مایوس ہو کر چلے گیے تو دلدار نے میرے اور اپنے لیے کھانا منگوانے کے لیے چپڑاسی کو آرڈر دیا.. کھانے کھاتے ہوے مین نے پوچھا جج صاحب نے اتنا اصرار کیا ہم ان کے ساتھ کیوں نہین جا سکتے تھے؟ دلدار بولا تم نہ ہوتی تو مین ضرور چلا جاتا مگر میں دیکھنے والوں کو موقع نہین دینا چاہتا کہ کوئ تمہارے بارے سکینڈل بنائے( ہائے کیا لاجواب شخص تھا)
تھوڑی دیر میں میری بچی اشنا شاہ لان مین کھیلتی ہوئ اندر آگئ. بچی نے سرخ فراک سنہری پھولون والا پہن رکھا تھا. دلدار نے بچی کو گود میں لیتے ہوے کہا آہا دلہن آگئ دلدار نے سیاہ کرتا سلور کڑھائ والا پہن رکھا تھا بچی فورا بولی آپ بھی تو دولھا لگ رہے ہین..
دلدار بچی کو بار بار چوم رہا تھا مین نے پوچھا ” تمیں بچے بہت اچھے لگتے ہیں بولا ہاں بے حد”(دلدار کے بچے نہیں تھے) کہنے لگا ایک دن عقیدہ کہنے لگی کہ آپ دوسری شادی کر لیں میں چاہتی ہوں کوئ آپ کا نام لینے والا ہو میں نے عقیدہ سے کہا جھلیے جے کوئ گونگا جم پیا تے فیر..”
دلدار پرویز بھٹی دراز سے نکال کر مجھے اپنی خوبصورت شاعری سناتا.دلدار کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی کتاب چھپوایے گا
سکرپٹ لکھنے کے بعد ہم ریکارڈنگ کے لیے چل پڑے. راستے مین پھر مزے کی باتین کرتا رہا ریگل کے قریب رک کر اس نے آج اخبار کے لیے اپنا آخری مضمون دیا جو غالبا صایمہ فلمسٹار پر لکھا تھا.
اس دن دلدار نے میرے ساتھ آخری پرگرام ریکارڈ کرایا..وہ اپنی ڈھیر ساری نظمیں تو آفس مین چھوڑ آیا تھا.. ان نظموں اور غزلوں کا کیا ہوا مجھے نہین معلوم.، کہاں کھو گئ دلدار کی شاعری….باقی آئندہ
عصمت طاہرہ













