مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ وزیراعظم جو وزیر داخلہ بھی ہیں انہیں آج اسمبلی میں آکر پالیسی بیان دینا چاہیے تھا۔
خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمران کی حیثیت ایک باپ کی طرح ہوتی ہے،اس کا لب و لہجہ جارحانہ نہیں ہونا چاہیے، ان کے بیانیے سے کوئی بھی باشعور آدمی اتفاق نہیں کرتا۔
لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں کوئی سیاسی فائدہ اٹھانا نہیں چاہتا، لیکن جس کارڈ کو ماضی میں استعمال کیا گیا، وہی اب آپ کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔
سعد رفیق نے کہا کہ کورٹ کے فیصلوں پر تنقید ہوتی ہے مگر اس پر دھمکیاں نہیں دی جاسکتی، پاکستان میں آج بحرانی کیفیت ہے، سڑکیں بند اور عوام پریشان ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں پر آئے لوگوں کے بیانیے سے کوئی ذی شعور اتفاق نہیں کرتا، کچھ عرصہ پہلے آپ راستے بھی بند کررہے تھے،لاک ڈاؤن کررہے تھے ، آپ کو آج اپنے اس ماضی کے رویے پر ندامت ہونی چاہیے۔
سعد رفیق نے کہا کہ جس مذہب کارڈ کو آپ نے پچھلی حکومت کے خلاف استعمال کیا وہی آپ کے خلاف استعمال ہورہا ہے، آپ بار بار ہمیں لڑنے کے لیے مدعو کرتے ہیں،ہمیں لڑنا نہیں ہے، ہم چاہتے ہیں اس لڑائی میں جمہوریت کمزور نہ ہوجائے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کے صبر کا عالم یہ ہے کہ آپ بات سننے کو تیار نہیں،آج میڈیا پر مکمل پابندی ہے کیا یہ جمہوریت ہے،سیاسی بلوغت آجانی چاہیے ،کم از کم اپنی غلطی مان لینی چاہیے ایسا نہ ہو اس سب میں کوئی حادثہ ہو جائے۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ قتل کے فتووں کی کوئی حمایت نہیں کرتا، طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے،یہ ایک حساس معاملہ ہے اس پر سوالات ہیںکہ ایک خاتون 9 سال جیل میں رہی،وہ بے گناہ تھیں تو جیل میں کیوں رکھا گیا؟ اس حوالے سے نظام عدل پر سوال تو اٹھیں گے۔
سعد رفیق نے اسمبلی آمد کے بعد اسپیکر اسمبلی کو غیر جانبدار انداز میں سیشنز چلانے پرمبارکباد پیش کی اور بتایا کہ یہاں آنے سے قبل ہم نے غیر رسمی مشورہ کیا اور طے کیا کہ اس صورتحال میں کوئی سیاسی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جو ادھر بیٹھے ہیں کل وہ ادھر تھے اور ادھر والے ادھر تھے،یہ چلتا رہتا ہے۔
سابق وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کوشش کریں کہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکال کر پاکستان کو مشکل سے نکالا جائے۔












