فتنوں کے دور میں کیا کرنا چاہیئے۔نادر بلوچ

0
1232

جب صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ پوچھا کہ جب فتنے کثرت سے ہوں تو میں کیا کروں تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے جواب میں یہ فرمایا ( لوگوں سے علیحدگی اختیار کرو اور اپنے گھر میں بیٹھ رہو) تو کیا یہ وہ دور اور زمانہ ہے؟
اور نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کو فتنوں کے ظہور کے وقت اعتزال اور علیحدگی کا حکم دیتے ہوئے فرمایا: اور اگر تمہیں درخت کی جڑہیں کھانی پڑیں)۔
صحیح بخاری اور مسلم وغیرہ میں ابو ادریس خولانی سے حدیث موجود ہے بخاری کے لفظ یہ ہیں:
ابو ادریس خولانی نے حذیفہ بن یمان کو یہ فرماتے ہوئے سنا، لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر اور بھلائی کے متعلق سوال کرتے اور میں ان سے شر کے متعلق سوال کرتا تھا، اس ڈر سے کہ کہیں میں اس میں واقع نہ ہو جاؤں تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ تعالی نے ہمیں یہ خیر اور بھلائی دی تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا؟ تو نبی صلی اللہ علیہ ولہ وسلم نے فرمایا ’’جی ہاں اور اس میں فساد ہو گا‘‘ میں نے کہا یہ دخن کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسی قوم آۓ گی جو میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا اختیا کریں گے جسے تو جانے اور انکار کرے گا‘‘ تو میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ہاں جہنم کے دروازوں کی دعوت دینے والے ہوں گے جس نے ان کی مان لی وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے‘‘ میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہمیں ان کے اوصاف بتائیں تو آپ نے فرمایا ’’وہ ہم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے‘‘ میں نے کہا کہ اگر میں نے یہ دور پا لیا تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: ’’مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑ‘‘ میں نے کہا کہ اگر امام اور جماعت نہ ہوئی تو ؟ تو آپ نے فرمایا : تو ان سب فرقوں سے علیحدگی اختیار کر اگرچہ تجھے درخت کی جڑ ہی کیوں نہ کھانی پڑے حتی کہ تجھے اس حالت میں موت آجائے

SHARE

LEAVE A REPLY