سابق صدر صاحب کی اسمبلی میں تقریر نے ہمیں ایک کہانی یاد دلا دی جو شاید آپ سب نے بھی بچپن میں ضرور پڑھی یا سُنی ہوگی ۔ایک سارس اور لومڑی یہاں ہم کسی کی بھی بات نہیں کر رہے بس حسبِ عادت ہمیں اکثر کچھ باتیں مُتاشابہ لگتی ہیں تو لکھ دیتے ہیں ۔کہانی تھی کہ ایک سارس اور ایک لومڑّی جنگل میں رہتے تھے لومڑی سارس کو دیکھتی تو اُسکی سادگی اور سیدھے پَن پر بہت ہنستی اور سوچتی رہتی کہ اسے کیسے پھنساؤں ۔آخر کار ایک ترکیب سمجھ میں آئی اور اُس نے سارس سے دوستی بڑھانے کی ترکیب سوچی ۔وہ ایک دن سارس کے پاس گئی اور انتہائی عاجزی سے کہنے لگی کہ بھائی سارس تم اور میں دونوں ہی جنگل میں رہتے ہیں لیکن دوستی نہیں ہے ایسا کرو کہ کل میرے گھر کھانا کھاؤ مجھے بہت خوشی ہوگی ۔ سارس سیدھا سادا سا تھا کہنے لگا ٹھیک ہے میں کل تمہارے گھر آؤنگا ۔ لومڑی نے بہت مزیدار سوپ بنایا اور سارس کا انتظار کرنے لگی ۔سارس پہنچا تو لومڑی نے ایک اُتھلی پلیٹ میں سوپ نکالا اور سارس کو کھانے کی دعوت دی ۔سارس بیچارہ چونچ پلیٹ میں ڈالتا تو اُسکی چونچ میں کچھ بھی نہ آتا اور لومڑی سڑپ سڑپ سارا سوپ خود پی گئی اور سارس کو پینے کی دعوت دیتی رہی سارس بیچارہ بھوکا گھر آگیا لومڑی مستقل اُسے کہتی رہی بھائی سارس تم نے تو کچھ کھایا ہی نہیں اور چپکے چپکے ہنستی رہی کہ کیسا بے وقوف بنایا ۔
سارس گھر آگیا لیکن اُسے بہت غصہ آیا اور اُس نے بدلہ لینے کی ٹھان لی ۔اُس نے ایک دن لومڑی سے کہا کہ مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ آپ نے تو میری دعوت کی اور میں آپ کو گھر نہ بلاؤں اس لئے آپ میرے ساتھ کھانا کھائیے ۔لومڑی بہت خوش ہوئی کہ کیسا بے وقوف ہے کہ میری چالاکی کو سمجھا بھی نہیں اور میری دعوت بھی کر رہا ہے ۔سارس نے گھر کو خوب صاف ستھرا کیا درخت کے نیچے چادر بچھائی اور دسترخوان لگایا لومڑی پہنچی تو اُسے بہت اہتمام سے بٹھایا کھچڑی کی خوشبو سے لومڑی کے منہ میں پانی آرہا تھا اُس نے کہا بھائی سارس تم نے تو بہت اہتمام کیا کہ میری پسندیدہ کھچڑی بنائی ہے اب تو بھوک بہت لگ رہی ہے جلدی سے کھانا لے آؤ ،سارس نے کہا بس کچھ دیر اور زرا کھچڑی دَم آجائے ابھی کھانا لاتا ہوں ۔لومڑی کا مارے بھوک برا حال تھا ۔اور دل میں خوش بھی بہت تھی کہ کیسا بے وقوف سارس ہے کہ میرے گھر سے بھوکا آکر بھی مجھے کھانا کھلا رہا ہے اور وہ بھی کھچڑی ۔سارس جلدی سے گیا اور ایک صراحی میں کھچڑی لے آیا لومڑی تیزی سے کھانے کی طرف لپکی مگر اُس کا منہ ہی صراحی میں نہ گیا سارس مزے لے لے کر کھچڑی کھاتا رہا اور لومڑی بھوک کے مارے بے حال ہوتی رہی سارس نے خوب پیٹ بھر کر کھچڑی کھائی اور کہا بی لومڑی سادگی کا مطلب بے وقوفی نہیں ہوتا جیسی کرنی ویسی بھرنی ۔لومڑی بہت شرمندہ ہوئی اور سارس سے معافی مانگی ۔
ہمیں لگا کہ سابق صدر صاحب بھی کچھ ایسی ہی سوچ رکھتے ہیں جب ہی تو انہوں نے حکومت کو اپنی طرف سے ہر طرح کے اعتماد کی نوید دی ہے ۔لیکن اُنکی باتیں شاید ہم جیسے جاہل بھی سمجھ گئے ہیں تو باقی لوگوں کو بھی ان کا بیان کچھ مختلف نہیں لگ رہا ہوگا ۔شاید نہیں جانتے کہ اب عوام ان باتوں میں نہیں آئینگے۔ ۔کچھ ہی لوگ ہیں جو ملک میں انارکی پھیلانے کے درپے ہیں جب کہ چاہئے تو یہ تھا کہ سب واقعئی مل کر پاکستان کی بات کرتے اور جس جس نے جہاں جہاں زیادتی کی ہے اُس کا اعتراف کرتے ۔ہمیں خوشی ہوئی کہ محترم نے اپنی عمر کا ادراک کیا کاش اس عمر کے ناطے ہی وہ سب کچھ واپس کر دیں جو ملک سے باہر چلا گیا ہے ۔جن جن لوگوں نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ہے اُنکی نشاندہی کر دیتے ۔کاش اس بات کا ساتھ دیتے کہ جہاں جہاں خرابیاں لگائی ہیں اُن کے ٹھیک کرنے میں مدد گار ہونگے ۔لیکن یہاں بھی وہ اس بات سے نہیں چوکے کہ نیچا مت دکھاؤ جانے دو جو ہوگیا سو ہوگیا ۔نہیں محترم اب بات ہے کہ جو ہوگیا وہ کھولو ۔
ستر سال کسی بھی قوم کے لئے ایک زمانہ ہوتا ہے آگے بڑھنے اور خود کو مستحکم کرنے کا جسے آپ جیسے زیرک سیاست دانوں نے اپنی اُنگلیوں پر گننے اور مال بنانے کا زریعہ بنائے رکھا اگر غلط ہے تو پھر صاف ستھرے ہو کر نکل آیئے ہمیں بھی بہت خوشی ہوگی ۔آپ نے صرف اور صرف اپنے اور اپنے خاندانوں کے لئے پاکستان کو استعمال کیا ورنہ آپ کے گھر آپ کے مال آپ کے کاروبار سب کچھ تو ملک سے باہر ہے ۔آپ کوکیا خطرہ ؟؟؟؟ اسی طرح میاں صاحب کے تو بیٹے بھی پاکستانی نہیں ہیں ہم کیا سمجھیں کہ کیا محبت ہے آپ کو پاکستان سے ، صرف پیسے اور شہرت کی ،صرف جلسے اور جلوسوں کی صرف اپنے اقتدار اور اپنی بادشاہت کی ۔
ایک بے آواز لاٹھی بھی ہے جو کسی کے اختیار میں نہیں ہے وہ جب چلتی ہے تو کوئی بھی نہیں بچتا ۔ایک مدت دی جاتی ہے کہ کر لو جو کچھ کرنا ہے جب کھینچی جاتی ہے تو راہِ فرار نہیں ملتی ۔کاش ہمارے بڑوں کو پہلے ہی اپنی عمروں کا ادراک ہو جاتا کہ بس بہت کھا لیا پی لیا اب بس کرو لیکن بعض پیٹ ایسے پہوتے ہیں کہ بھرتے ہی نہیں ۔ہم ہمیشہ لکھتے ہیں کہ ہمارا دل نہیں چاہتا کہ ہم اپنے لوگوں کے لئے کچھ بھی برالکھیں یا کہیں لیکن ہمیں مجبور کر دیا جاتا ہے کہ ہم آئینہ دکھائیں ۔ہماری کیا مجال کہ ہم ان شیشے کے گھروں میں رہنے والوں کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی دیکھ سکیں لیکن کبھی کبھی آئینہ بھی ایسی شبیہ دکھلاتا ہے کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے لیکن شاید یہ لوگ اُس آئینے کو دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتے ،ورنہ کبھی نہ کبھی تو ضمیر آواز دے ہی دیتا ہے کہ “ گَردوں نے گھڑی عمر کی ایک اور گھٹا دی “ اور جسے یہ سوچ مل جائے وہ توبہ کی طرف راغب ہوتا ہے بندوں سے بھی معافی کا طلبگار ہوتا ہے اور اپنے اللہ سے بھی ۔کہ حقوق العباد صرف عبد ہی معاف کرے گا اللہ اپنے حق کو معاف کردے گا ،بہت بڑی زمے داری ہے نئے اور پرانے حاکموں پر
آج سعد رفیق صاحب اور خورشید شاہ صاحب کو اسمبلی میں سُن کر لگا کہ کچھ اور لومڑیوں کا اضافہ ہورہا ہے تو سارس صاحب ہوشیار ۔انکی دعوت کے لئے بہت ساری صراحیوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے خدا را سنبھلئے گا کہ ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ اور جب مخالفت ڈھکی چھپی نہ ہو تو ضرور اپنے گرد حصار رکھنے چاہئیں کہ فساد سے بچنے کے لئے حفاظت ضروری ہے ۔جب گھیرا تنگ ہوتا ہے تو ہر قسم کا حربہ جائز سمجھا جاتا ہے ۔اور اب تو معاملہ ہے کمپنیوں کا ۔صاف پانی کا ،جعلی اکاؤنٹ کا پھر آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ ہوشیار باش ؟؟؟؟؟ نوجوان لیڈر قدم بڑھانے کی بات کر رہے ہیں ،ساتھ دینے کی بات کر رہے ہیں کیسا جال بچھا رہے ہیں نہیں معلوم کیونکہ ہم نے تو ان کے دورِ حکومت میں نہ جمہوریت پنپتی دیکھی نہ ریاست ،لیکن ہماری دعا ہے کہ یہ جوان ہماری امیدوں پر پورے اُتریں اپنی سیاست کریں اپنے بڑوں کی نہیں ۔
اللہ میرے ملک کو ہر قسم کے شر اور فساد سے بچائے اور ہم سب پر رحم فرمائے آمین

SHARE

LEAVE A REPLY