دریا ئےستلج کا سیلابی پانی زمیندارا بند توڑکرجمال پورکے مضافات نورپوراورچکری سمیت دیگردیہاتوں میں پہنچ گیا، جس سے چار دیہاتوں کا خیر پور ٹامیوالی سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

تفصیلا ت کے مطابق بہاولپور کی تحصیل خیرپور ٹامیوالی کے دیہی علاقے بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں چھوڑے گئے ایک لاکھ کیوسک کےسیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگئے ہیں۔

ہیڈ اسلام سے ایک لاکھ کیوسک سے زائد کے سیلابی ریلے کا پانی نورپورچکری ، نصیر پورسمیت چارمضافاتی دیہاتوں میں داخل ہوگیا۔جس سے ان دیہاتوں کا خیر پور ٹامیوالی سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔

خیال رہے کہ سیلاب کی وجہ سے مختلف علاقوں سے ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔

دوسری جانب واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے ہیں ۔

اعدادوشمارکے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 43 ہزار700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 54 ہزار800 کیوسک، دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد 36 ہزار300 کیوسک اور اخراج 36 ہزار300 کیوسک، خیرآباد پل پر پانی کی آمد 2 لاکھ 38 ہزار200 کیوسک، اخراج2 لاکھ 38 ہزار200 کیوسک ہے۔

اسی طرح دریائے جہلم میں منگلاکے مقام پر پانی کی آمد 26 ہزار700 کیوسک اوراخراج 24 ہزار700 کیوسک،دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 77 ہزار200 کیوسک اور اخراج 49 ہزار کیوسک ہے۔تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح1548.92 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.747 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

اس کے علاوہ منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1241.85 فٹ ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 7.344 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ، بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 648.60 فٹ ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.258 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY