حکومت سے مذاکرات ناکام، آج ہڑتال ہوگی: تحریکِ لبیک

0
791

سپریم کورٹ کی جانب سے توہینِ رسالت کے الزام میں سزائے موت پانے والی آسیہ بی بی کی رہائی کے حکم کے بعد احتجاج کا سلسلہ جمعے کو مسلسل تیسرے روز بھی جاری ہے۔

ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں مذہبی جماعتوں کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔

ملک بھر میں بیشتر نجی تعلیمی ادارے بند ہیں جب کہ سرکاری دفاتر میں حاضری بھی معمول سے کہیں کم ہے۔

مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مظاہرین نے ملک کے کئی بڑے شہروں میں اہم شاہراہیں اور ہائی ویز بند کر رکھی ہیں جس سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے اور ٹریفک معطل ہے۔

بدھ کی صبح سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت برقرار رکھنے کے فیصلے کے خلاف دائر آسیہ بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد ملک کے کی شہروں اور قصبوں میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔

وزیرِ اعظم عمران خان نے بدھ کی شب قوم سے اپنے خطاب میں مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ وہ ریاست کی رِٹ چیلنج نہ کریں ورنہ ان سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

تاہم وزیرِ اعظم کے خطاب کے بعد جمعرات کو کئی اعلیٰ حکومتی عہدیداران کی جانب سے یہ بیانات سامنے آئے تھے کہ حکومت مظاہرین سے مذاکرات کر رہی ہے۔ تاہم لاہور کے چیئرنگ کراس پر دھرنے پر بیٹھے تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ خادم رضوی نے مذاکرات ناکام ہونے کا اعلان کیا ہے۔

……………….

آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے والے مظاہرین کی قیادت نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے۔

مظاہرین کی قیادت نے مذاکرات کی ناکامی کے اعلان کے ساتھ ہی کل بروز جمعہ ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کی کال بھی دے دی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ مذاکرات کرنے والوں میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسی کے حکام بھی شامل تھے تاہم مذاکرات ناکام ہوگئے۔

واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین سے مذاکرات کے نتائج سے متعلق کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا لیکن وفاقی وزیر اطلاعات نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا کہ لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد اور گجرانوالہ میں کل صبح 8 بجے سے مغرب تک موبائل سروس بند رہے گی۔

تاہم انہوں نے موبائل سروس معطل ہونے کی وجہ بیان نہیں کی جبکہ اس سے قبل انہوں نے نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت مظاہرین سے رابطے میں ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ طاقت کا استعمال نہ کرنا پڑے۔

خیال رہے کہ ایک روز قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی جانب فیصلہ آنے کے بعد مذہبی جماعتوں کی جانب سے اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے دیگر حصوں میں احتجاج شروع کردیا گیا تھا۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکوں کو بلاک کردیا تھا جبکہ متعدد علاقے بند بھی کروادیے تھے، جس کی وجہ سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا تھا۔

آج بھی مظاہرین اہم شاہراوں پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو دفاتر اور کاروباری مراکز پر پہنچنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

SHARE

LEAVE A REPLY