سپریم کورٹ نے توہین رسالت کے مبینہ ملزم کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ مذہب کے معاملات میں ریاستی مشینری کو افراد کے سامنے لیٹنا نہیں چاہیے۔

سپریم کورٹ میں توہین رسالتﷺ کے ملزم کی درخواست ضمانت پر جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی۔

عدالت نے ایف آئی اے کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پوسٹ عربی زبان میں ہے لیکن تفتیش خاموش ہے کہ شکایت گزارعربی جانتا ہے یا نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شکایت گزار کو اس پوسٹ کے بارے میں کیسے معلوم ہوا تفتیش میں یہ بھی نہیں بتایا گیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے ریمارکس دئیے کہ مذہب کے بارے ہر کیس کا تعلق ریاست سے ہوتا ہے، مذہب سے متعلق معاملات افراد کے ہاتھوں میں نہیں دئیے جا سکتے، مذہب کے معاملات میں ریاستی مشینری کو افراد کے سامنے لیٹنا نہیں چاہیے۔

عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

واضح رہے کہ رواں سال 6 جون کو ایف آئی اے سائبر کرائم ملتان نے ملزم کے خلاف شکایت پر مقدمہ درج کیا تھا، اور ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت مسترد کی تھی۔

SHARE

LEAVE A REPLY