رطانوی ٹینس اسٹار اینڈی مرے نے پیرس ماسٹر کے سیمی فائنل میں میلوس راؤنک کی جانب سے انجری کے باعث میچ سے دستبرداری کے بعد نوواک جوکووچ سے عالمی نمبر ایک کا اعزاز چھین لیا۔

اینڈی مرے اور کینیڈا کے میلوس راؤنک کے درمیان سیمی فائنل نہیں کھیلا جاسکا جس کے بعد اینڈی مرے براہ راست فائنل میں پہنچ گئے جبکہ کیریئر میں پہلی دفعہ سرفہرست پوزیشن حاصل کرتے ہوئے جوکووچ کو ٌیچھے دھکیل دیا۔

عالمی نمبرایک بننے کے لیے مرے نے رواں سال میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جہاں انھوں نے دو ومبلڈن جیتے جبکہ اولمپک اعزاز کا کامیابی سے دفاع کیا۔

راؤنک کا کہنا تھا کہ انھیں گزشتہ میچ کے دوران دائیں ٹانگ میں درد محسوس ہورہا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ‘آج صبح اٹھتے ہی مجھے بہت زیادہ تکلیف ہوئی اور میچ کھیلنے کے قابل نہیں تھا’۔

سیمی فائنل سے دست برداری کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ‘میرے کچھ ٹیسٹ ہوئے ہیں اور کچھ دیر قبل ایم آر آئی بھی ہوا تھا جس میں دائیں ٹانگ کی ہڈی میں معمولی بال آیا ہے’۔

نوواک جوکووچ کو ٹینس میں اپنی حکمرانی کو برقرار رکھنے کے لیے پیرس ماسٹر کے فائنل تک رسائی ضروری تھی تاہم وہ کوارٹرفائنل میں شکست کھاکر باہر ہوگئے۔

راؤنک کا کہنا تھا کہ ‘بدقسمتی سے میں آج کے سیمی فائنل میں اینڈے مرے کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں تھا’۔

اینڈے مرے کی پہلی پوزیشن کا باقاعدہ اعلان پیر کو اس وقت ہوگا جب اے ٹی پی کی جانب سے نئی درجہ بندی جاری کی جائے گی۔

مرے 42 سال بعد سرفہرست ٹینس اسٹار بننے والے معمر کھلاڑی ہیں اس سے قبل آسٹریلیا کے جان نیوکومب جون 1974 میں 30 سال کی عمر میں سرفہرست کھلاڑی بن گئے تھے۔

پیرس ماسٹر کے فائنل میں اینڈی مرے کا مقابلہ امریکا کے جان ایزنر سے ہوگا جنھوں نے پہلے سیمی فائنل میں کروشیا کے مارن کلک کو 4-6 اور3-6 سے شکست دی تھی۔

مارن کلک نے کوارٹرفائنل میں نوواک جوکووچ کو شکست دے کر اینڈے مرے کے لیے راستہ ہموار کیا تھا۔

SHARE

LEAVE A REPLY