آڈٹ رپورٹ پی آئی اے کارکردگی کا پوسٹ مارٹم ہے، سپریم کورٹ

0
38

سپریم کورٹ میں پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ پی آئی اے اور سول ایوی ایشن کے مسائل وفاقی حکومت اورانتظامیہ خود حل کرسکتی ہے، آڈٹ رپورٹ پی آئی اے کی کارکردگی کا پوسٹ مارٹم ہے۔سپریم کورٹ نے پی آئی اے نجکاری سے متعلق کیس میں آڈیٹرجنرل کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا۔

عدالت نے پی آئی اے میں بھریتوں کی اجازت دینے کے معاملے پر خالی اسامیوں کی فہرست طلب کرلی جبکہ سابق سربراہ پی آئی اے مشرف رسول کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر اٹارنی جنرل سے جواب بھی طلب کرلیا ۔

جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے پی آئی اے نجکاری کیس کی سماعت کی ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ آڈٹ رپورٹ پی آئی اے کی کاکردگی کا پوسٹ مارٹم ہے۔آڈٹ رپورٹ سے ادارے کی مرض اوربیماری کا پتہ چلے گا ۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ پی آئی اے میں نئی بھرتیوں کی کیا ضرورت ہے، پی آئی اے میں تو پہلے ہی زیادہ ملازمین ہیں، عدالت کو فہرست فراہم کی جائے کہ کن عہدوں پر بھرتیاں کرنی ہیں، نئی انتظامیہ پی آئی اے کی بہتری کا قلیل اورطویل المدتی پلان بنانا شروع کرے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا مجھے معلوم ہے نئے سربراہ پی آئی اے پر سفر کیوں نہیں کرتے، پی آئی اے کی فلائٹس ہی دستیاب نہیں ہوتیں تو سفر کیسے کرسکتے ہیں، پی آئی اے جیسے شاندار ادارے کے ساتھ کیا کردیا گیا۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا پی آئی اے ٹھیک نہیں ہوگا تو کسی پر توغصہ اترے گا۔

سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر پی آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔عدالت نے آئندہ سماعت پر سیکریٹری سول ایوی ایشن، ڈی جی ایف آئی اے اور نیب حکام کو طلب کر کے سماعت 16 نومبر تک ملتوی کردی

SHARE

LEAVE A REPLY