ہنسنے ہنسانےوالے بھی ہم اور آپ جیسےہوتے ہیں، عارفہ رانا

0
1377

ایک شخص شدید ڈپریشن کا شکار ہوا. وہ ایک ڈاکٹر کے پاس گیا اور اپنا مدعا بیان کیا.
ڈاکٹر: خوش رہنے کی کوشش کریں. دوا جو لکھ رہا ہوں وہ باقاعدگی سے لیں. اور اگر کچھ وقت ہو تو تھیٹر میں نیا شو لگا ہے. اس میں ایک نیا کامیڈین آیا ہے بہت فریش اور مزے کے جوک سناتا ہے..
مریض : ڈاکٹر صاحب وہ نیا کامیڈین میں ہی ہوں…
……….

شائد کوئی سمجھ سکے اس کو.. یہ سمائل ڈپریشن ہے.، اس کی شناخت انتہائی مشکل ہے. یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ اگلا بندہ واقعی خوش ہے یا وہ خود کو چھپا رہا ہے..
کچھ لوگ شرارتیں یا ہنسنے ہنسانے کا کام اس لیے کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے اندر کی تنہائی دکھ یا کرب کم کر سکیں. ایسے لوگوں کی شخصیت کا خول اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کو توڑ اس میں داخل ہونا یا اس میں جھانکنا ناممکن سا ہوتا ہے. جب یہ خول ٹوٹ جاتا ہے تو ان کو اپنی کیفیات نہ چھپا سکنے کا اتنا دکھ ہوتا ہے کہ وہ اپنی جان پر کھیل جانے کو اہمیت دیتے ہیں. اس لیے کوئی زندہ شخص جو کبھی ایک دفعہ بھی آپ کو ہنسانے کا سبب بنے اس کو کبھی دکھی یا خاموش دیکھو تو یہ کبھی مت کہیں ” کمال ہے تمہیں بھی ڈپریشن ہو سکتا ہے’ بلکہ ان کی ان کے بنا کہے دل جوئی کریں..
زیادہ ہنسنے ہنسانے یا شرارتیں کرنے والے بھی ہم اور آپ جیسے انسان ہوتے ہیں بس وہ اپنا آپ دوسروں سے چھپا رہے ہوتے ہیں اور چھپنے کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ کوئی غلطی ہوئی ہے. بلکہ وہ اپنا دکھ کسی پر ظاہر کر کے اس کو دکھی نہیں ہونے دینا چاہتے.

عارفہ رانا

SHARE

LEAVE A REPLY