آپ ہمارے کالم کا عنوان پڑھ کر ضرور حیران ہوئے ہونگے کہ عمران تو ٹھیک ہے لیکن عوام کہاں سے فساد کی جڑ ہوگئے ۔ہم آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہو گئے ہیں کیونکہ اگر عوام تبدیلی نہ چاہتے تو شاید ہم اب بھی اُن ہی کرپشن زدہ لوگوں کے درمیان ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہوتے جو ہمیں تیس سال سے نظر بند کئے ہوئے تھے ۔اگر ان دو بڑے پہاڑوں میں دراڑ نہ ڈلتی عمران نہ کھڑے ہوتے عوام نے اُن کا ساتھ نہ دیا ہوتا تو شاید ہم کبھی یہ حسین مناظر نہ دیکھ رہے ہوتے جو آج کل کچھ چینلز پر نظر آرہے ہیں کیونکہ کچھ چینلز ابھی تک اپنی اپنی بانسری بجانے پر مجبور ہیں کہ سنا ہے کہ اشتہارات بہت بڑے بڑے ملتے ہیں ۔ہم جن بڑے بڑے بُرجوں کو گرتے دیکھ رہےئ ہیں وہ ہمارے تصور میں بھی نہیں تھا ہم جب بحریہ ٹاؤن کراچی دیکھنے گئے تھے تو حیران رہ گئے تھے کہ اتنی بڑی زمین کسی ایک ہی بڑے کو کس طرح مل گئی لیکن ہمیں سیر کرانے والوں نے اُس وقت ہمارا منہ یہ کہہ کر بند کر دیا تھا کہ یہ پاکستان ہے یہاں سب کچھ ہو سکتا ہے تم نے سُنا نہیں تھا اںہوں نے کہا تھا کہ وہ فائلوں کو پہئے لگا دیتے ہیں ۔ہم اپنا سا منہ لے کر رہ گئے تھے لیکن نہ معلوم کیوں اندر کہیں دل سے دعا نکلی تھی کہ مالکِ کُل ملک کو ترقی دے ،مگر ان پہئے لگانے والوں سے نجات دلا دے ۔
جو جو چہرے سامنے آرہے ہیں جس طرح عمران کی ٹٰیم کی محنت نے ان کو سامنے لایا ہے وہ ایک کارنامہ ہے۔ اللہ کی مدد سے پاناما آیا اور اس گرتی ہوئی قوم کو ایک سہارا ملا کہ تمہارے بڑے بھی پکڑے جا سکتے ہیں اگر تم ہمت کرو تو ۔یہ الگ بات ہے کہ شیخ صاحب اس کا کریڈٹ لیتے ہیں مگر جو جو بھی عمران کے ساتھ کھڑا رہا اور عوام وہ اس کامیابی کے سہرے کو اپنے سر سجانے میں حق بہ جانب ہیں ۔جس جس نے بھی اپنے ملک کے لئے اس پارٹی کا ستھ دیا وہ قابلِ ستائش ہے ۔کیونکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ سارا فساد عمران خان کا ہے اگر وہ کھڑا نہ ہوتا تو شاید یہ زخم ناسور بن جاتے ۔اور ہم جو آٹےمیں نمک کے برابر ہیں شاید یہ مناظر دیکھنے کے لئے تڑپتے تڑپتے ہی دنیا سے چل دیتے ۔
جس کو بھی پکڑتے ہیں وہ کہتا ہے مجھ سے بڑا ملک اور عوام کا ہمدرد تو تم نے آج تک دیکھا ہی نہیں ہوگا اور اب بھی جس طرح سینہ چوڑا کر کے پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں ہمیں تو سوائے حیرت کے کچھ نہیں ہوتا ہم سوچتے ہیں کہ کیا ملک سے ہمدردی یہ ہے جو ہمارے بڑے بڑے سیاست دان آج کل دکھا رہے ہیں ،کاش ہم سب ہی اس فسادی کا ساتھ دے دیتے جس نے ملک کو ایک گرداب سے نکالنے کا عزم کیا ہے جو کہتا ہے کہ ملک کے لوگوں کی قسمت سے نہ کھیلو ،اُسکی صف میں بھی بہت سے لوگ ہیں جو پردوں میں چھپے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اُسکی پارٹی کو طعنے دئیے جائیں ۔پکڑنا انہیں بھی چاہئے کہ انصاف کا تقاضہ یہ ہی ہے کہ جو بھی ملزم ہے اُسے کٹہرے میں لایا جائے نہ چودہری کسی معافی کے حقدار ہیں ،نہ بٹ، نہ کوئی اور ہم سب اس ملک کے محافظ ہیں اور حفاظت صرف سرحدوں کی نہیں ملک کے ہر ہر شعبے کی ضروری ہے ۔
ایک پروگرام میں جس طرح سابق وزیرَ خزانہ نے شرم شرم کی رٹ لگائی ہمیں لگا انہیں شرم کے معنی پتہ ہیں نہ اندازہ کہ شرم کس چڑیا کا نام ہے اگر شرم ہو تو چلو بھر پانی بھی کافی ہوتا ہے ۔لیکن ہم تو سب کچھ کر کے بھی سینہ تانے کھڑے ہیں دوسرے ملک کی چھاؤں میں آرام کر رہے ہیں ۔وہاں سے بیٹھ کر اپنے لوگوں کی پگڑیاں اُچھال رہے ہیں جب کہ ان سب کو خود شرمندہ ہونا چاہئے کہ ہم نے ملک کے ساتھ کیا کیا اور اگر نہیں کیا تو سامنا کریں ملک میں آکر ۔انکی جائیدادیں ہیں لیکن بچوں کے پیچھے چھُپ رہے ہیں کہتے ہیں ہم بچوں سے نہیں پوچھتے کہ کیا کر رہے ہو کیسے کما رہے ہو ؟ کیا ایک باپ کا یہ ہی فرض ہے کہ بچوں کو کھلی چھوٹ دے دے کہ جو چاہے کرو ؟؟شاید ہمارا معاشرہ ہمارا مذہب اسکی اجازت نہیں دیتا ۔کہا گیا کہ اچھائی اپنے گھر سے شروع کرو ۔
ہماری تو خواہش ہے کہ عمران خان ایک فساد اور کر دیں کہ ان مغربی ممالک سے معاہدہ کر لیں کہ آپ ہمارے ملک کے اُن لوگوں کوپناہ نہیں دیں گے جو ہمارے ملک میں مطلوب ہیں۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جو کوئی بھی ملک کو مطلوب ہوتا ہے وہ وہاں آرام سے رہ رہا ہوتا ہے ۔کس طرح یہ بات ہماری سمجھ میں آج تک نہیں آئی ۔ان کا گزر بسر کس طرح ہوتا ہے جب انہوں نے ملک سے پیسہ باہر نہیں بھیجا ۔انہیں گھر کیسے ملتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک روپئے کی کرپشن نہیں کی ،وہ کس طرح وہاں وقت گزارتے ہیں جب انہوں نے پیسہ وہاں بھیجا ہی نہیں یہ ایسا گورکھ دھندا ہے جو شاید ہی کبھی کھلے ۔
ہماری خواہش ہے کہ عمران خان صاحب ہمارے وزیرِ اعظم ایک اینٹ اور رکھ جائیں کہ فیصلے جلدی ہونگے اور جو جو مطلوب ہے وہ پکڑا جائیگا ،انصاف سب کے لئے ایک جیسا ہوگا ۔وہ چاہے پی ٹی آئی کا بندہ وہ یا کسی اور پارٹی کا ۔جس طرح سندھ میں گڑھوں سے شواہد مل رہے ہیں وہ بھی ایک تماشہ ہے اگر عمران جیسا فسادی ملک میں نہ ہوتا تو شاید یہ مکروہ چہرے کبھی بھی نہ سامنے آتے ۔جنہوں نے سالوں سے ملک میں افرا تفری پھیلا رکھی ہے ۔یہ لوگ لندن میں پناہ لیتے ہیں کینیڈا میں پناہ لیتے ہیں امریکہ میں عیش کرتے ہیں ۔اور عوام اپنے ملک میں بھی سکون سے نہیں رہ سکتے ۔ہمارا تو دل چاہتا ہے کہ ہمارے ملک میں عمران خان جیسے فسادیوں کی ایک کھیپ پیدا ہو جائے جو پلٹ کر رکھ دے بے ایمانوں کی بساط ۔کرپشن کرنے والوں کی کشتی ،جھوٹ بولنے والوں کی زبان اور مُکرنے والوں کی سوچ ۔
ہمارا دل تو کہتا ہے کہ کاش یہ سب ہی اپنے اپنے گناہ قبول لیں اور کم از کم جھوٹ سے بچیں ۔لیکن ہمیں ایک اور تازیانہ لگا جب پتہ چلا کہ نواز صاحب نے کہا ہے کہ جو کچھ بیٹوں نے کہا میں نے اسمبلی میں کہہ دیا ۔اب ہمارا دل کچھ لکھنے کو نہیں چاہ رہا یہ سوچ کر کہ پیسہ کیسا گرداب ہے جو نہ باپ کو بخشتا ہے نہ بیٹوں کو نہ بیٹی کو سامنے رکھتا ہے نہ بیوی کو ۔سب سے بڑا فتنہ شاید دنیا میں ہوسِ زر ہے جو ہمیں آج کل نظر آرہی ہے ۔پھر خواجہ ہوں یا شریف ،زرداری ہوں یا بھٹو زرداری سب ایک ہی ڈور میں پَرے ہوئے ہیں ۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے اور ہم سب کو توبہ کی توفیق نصیب فرمائے ۔جو کچھ سامنے آرہا ہے وہ ایسا ہے کہ کبھی کبھی تو خود سے بھی خوف آنے لگتا ہے
۔ملک کو مقدم رکھیں کاش ہم سب ہی اپنے اپنے اندر جھانکیں اور بہتری کی کوشش کریں سچائی کے ہاتھ مضبوط کریں اور جھوٹ سے چھٹکارا پائیں ۔آمین

SHARE

LEAVE A REPLY