یہ دھواں سا کیوں لہو میں اتر گیا,کرن مہک

1
100

آج کل فیس بک میں دھوئیں کی بارے میں بہت چرچے ہوئے۔کہیں گناہ ٹیکس لاگو ہوئےاور چاروں طرف جیسے دھواں سا چھانے لگا ۔اسی بحث نے میری توجہ سگریٹ کی۔جانب مبذول کروائی ۔ سوچا سگریٹ کی تاریخی حیثیت معلوم کی جائے کہ یہ دھواں ہماری ذندگی میں کیسے داخل ہوا ۔ ایک بات بتاتے چلے کہ جس جگہ پان اور سیگریٹ کی بو ہو ، ہم وہاں سے میلوں دور بیٹھتے ہیں ۔مگر تحقیق کرنے میں دماغ کچھ ذیادہ ہی مصروف ہوگیا ۔ کچھ ادنی سی کوشیش آپ سب کے لیے

سگریٹ کی تعریف

سگریٹ کی مختصر تعریف یہ ہے کہ اسے انسان جتنا بھی پیےیہ انسان کو اتنا ہی پی جاتی ہے ۔روزمرہ ذندگی میں ہمیں ایسے لوگ نظر آئیں گے جو سگریٹ کے دھوئیں کو کھیل کی طرح لیتے ہیں ۔ اس دھوئیں سے کوئی اپنے محبوب کی شکلیں بناتے ہیں یا پھر ٹرین کی انجن خود کو تصور کر کے ناک اور منہ سے ہوا میں اڑاتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ اس عمل سے آس پاس کے گزرتے ہوئے لوگ بھی اس دھویں سے متاثر ہوتے ہیں ۔مگر ذندگی کھیلونا تو نہیں جسے دھوئیں کی نظر کر دی جائے ۔جان ہے تو جہاں ہے ۔۔صحت ہے تو ذندگی میں دلکشی ہے ۔ سگریٹ میں موجود نیکوٹین انسانی جسم میں مضر اثرات مرتب کرتی ہے جس سے دل ، پھیپھڑوں،ٹی بی ، کینسر جیسے امراض وجود میں آتے ہیں ۔

سگریٹ کی تاریخی حیثیت

جب ہم سگریٹ کی تاریخ پڑھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ سگریٹ کا موجد امریکی شہری جیمز بکانن ڈیوک تھا ۔ جس نے ۲۴ سال کی عمر میں چند احباب کے ساتھ مل کر ایک چھوٹی سی فیکٹری سنہ 1880 میں قائیم کی۔ جس کا نام ’ڈیوک آف ڈرہم‘ تھا ۔ یہ فیکٹری شمالی كیرولائنا کے شہر ڈرہم میں واقع تھی ۔شروع میں یہ سگریٹ ہاتھ سے تیار کی جاتی جسکے دونوں کنارے بند کر دئے جاتے ۔ یہ محنت طلب کام تھا ۔ بہت جلد اس کی ملاقات ایک جیمزبوتیک نام شخص سے ہوئی جس کے ساتھ مل کر اس نے مشین کی مدد سے سگریٹ بنانے کی فیکٹری قائیم کی ۔

جیمز بکانن ڈیوک کو یقین تھا کہ لوگ مشین سے بنی صاف ستھری ایک ہی سائیز کی خوش شکل سگریٹ پینا پسند کریں گے ۔ اس وقت سگریٹ کی فروخت زیادہ نہیں تھی ۔ امریکہ میں ۲۴ ہزار سگریٹ کی کھپت ہوتی ۔مشین میں سگریٹ وافر مقدار میں تیار ہوتی اور فروخت کم تھی جس کی وجہ سے ڈیوڈ کو کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا ۔

اپنے کاروبار کے فروغ کے لئے اس نے سگریٹ کی مارکیٹینگ شروع کردی ۔ لوگوں کو اس کے فائیدے متعارف کرنے شروع کئے ۔ اسے میڈیکل میں استعمال کروایا دواوں میں مریضوں پے استعمال کیا گیا ۔ گھڑسواری ہو یا ملکہ حسن کی نمائیش ہر جگہ وہ انعامات اور عزاز کے طور پے اور تحفہ کے طور پر سگریٹ تقسیم کرتا ۔ فلموں کے کرداروں کے ہاتھوں میں سگریٹ تھما دی گئی ۔ وہ ہر حال میں اس کاروبار میں فائدہ چاہتا ۔ سنہ ۸۸۹ ۱ میں ہی اس نے مارکیٹینگ پے اٹھ لاکھ ڈالر خرچ کیے گءے ۔ اس طرح لوگ سگریٹ نوشی کی طرف راغب ہوءے

امریکہ میں اس کامیاب تجربے کے بعد ڈیوڈ برطانیہ آیا اور1902 میں برطانیہ میں ایک برطانوی شہری کے ساتھ مل کر ایک نءی فیکٹری قاءیم کی ۔اس طرح دنیا بھر میں سگریٹ ایک اہم مقام حاصل کرگیا ۔اور دنیا بھر میں مارکیٹینگ کا آغاز ہوا ۔لوگ نہیں جانتے تھے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اپنی موت اور بیماریاں خرید رہیں ہیں ۔ اس بات کا انکشاف ڈیوڈ کے مرنے کے بعد سامنے آیا ۔ ڈیوڈ جو 1925 میں مرچکا تھا ۔ اس کے مرنے کے بعد سنہ 1930 میں تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ ہارٹ اٹیک پھیپھڑوں کے امراض کے اسباب سگریٹ نوشی ہے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی تھی ۔ لوگ اس نشہ کے عادی ہوچکے تھے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ خود کو اس عادت کے غلام سمجھنے لگے ۔

یہ غلامی ترقی یافتہ دور کے جدید انسان کے لئے اج تک خود ساختہ عذاب ہے ۔ کچھ لوگ اسے ڈیپریشن دور کرنے کے لئے اس نشہ کے عادی ہیں ۔ دنیا بھر میں سگریٹ نوشی کی روک تھام کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہیں ہیں ۔ پروفیسر ایلن ہیک شاہ, تحقیق کے سربراہ کہتے ہیں کہ سگریٹ نوشی کم کرنے والے یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے بہتری آئی گی اور یہ کینسر کے معاملے میں درست ہے لیکن دیگر بیماریوں کے حوالے سے ایسا نہیں ہے۔ دل کے امراض اور فالج کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سگریٹ نوشی مکمل طور پر چھوڑنا ضروری ہے

کرن مہک

SHARE

1 COMMENT

  1. کرن مہک سگرٹ کی تاریخی ابتدا سے لے کر سگرٹ کے کاروبار کے پھیلاو پر تم نے تفصیلی اور مربوط تحریر سپرد قلم کی ہے-
    اس عمدہ کوشش کے لئے تم داد و تحسین کی مستحق ہو
    لکھتی رہو
    ڈاکٹر انور زاہدی

LEAVE A REPLY