نواز شریف کے خلاف ریفرنسز 24 دسمبر تک نمٹانے کا حکم

0
693

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کی احتساب عدالت کو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز کا فیصلہ 24 دسمبر تک سنانے کا حکم دے دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل مکمل کرنے کی مدت میں آٹھویں بار توسیع کے لیے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی درخواست پر جمعے کو ہونے والی سماعت کے بعد سنایا۔

دورانِ سماعت جج کی درخواست پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ دونوں ریفرنسز پر بحث کہاں تک پہنچی؟ بحث کا وقت ہوتا ہے۔ الف لیلیٰ کی کہانی تو بیان نہیں کرنی ہوتی۔ آپ نے ساری قوم اور عدلیہ کو محصور بنا کر رکھا ہوا ہے۔ یہ ہے آپ کی وکالت؟ کیوں معاملہ لٹکا رہے ہیں؟ کیسے بڑے وکیل ہیں آپ؟ اگر آپ وقت پر کام مکمل نہیں کرسکتے تو کیس لیا ہی نہ کریں۔ آپ مقررہ مدت تک اپنی بحث مکمل کریں۔

خواجہ حارث نے جواب میں کہا کہ میں کوئی بڑا وکیل نہیں۔ کیا کسی نے یہ شکایت کی کہ ہم معاملے کو لمبا کر رہے ہیں؟ اگر آپ کو ایسا لگتا ہے تو مقدمہ چھوڑ دیتا ہوں۔ میرے خیال سے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ میں معاملہ کھینچ رہا ہوں۔ میرا انرجی لیول آپ جیسا نہیں ہے۔ عدالت کہتی ہے تو میں بحث چھوڑ دیتا ہوں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کا رویہ ہی ایسا ہے۔ ہر بات پر آپ ناراض ہو کر بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ آپ کو ہفتہ اتوار کو دلائل دینے پر بھی اعتراض تھا۔ آپ کو پتا ہے میں کیسے کام کرتا ہوں؟ اب آپ کیس چھوڑنے کی بات کر رہے ہیں، یہ بھی تاخیری حربہ ہے۔ اپنی عدلیہ کو تباہ نہیں ہونے دوں گا۔ ہمیں بتا دیں کب تک بحث ختم ہوگی؟

خواجہ حارث نے کہا کہ میں 17 دسمبر تک بحث مکمل کرلوں گا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خواجہ صاحب ہم نے آپ کی بات مان لی ہے۔ اب آپ بھی اس مقدمے کو جلد نمٹانے کی کوشش کریں۔ سترہ دسمبر تک دلائل مکمل کرلیں۔ احتساب عدالت کو فیصلہ لکھنے کے لیے چار دن دے رہے ہیں۔ احتساب عدالت 24 دسمبر تک فیصلہ سنائے۔

سپریم کورٹ کے پاناما کیس میں فیصلے کی روشنی میں نیب نے شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ پراپرٹیز، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ سے متعلق تین ریفرنسز احتساب عدالت میں دائر کیے تھے۔ ان میں سے ایون فیلڈ پراپرٹیز (لندن فلیٹس) ریفرنس میں نواز شریف، بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر کو سزا ہوچکی ہے جب کہ العزیزیہ اسٹیل ملز کیس اور ہل میٹل اور فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

SHARE

LEAVE A REPLY