ناز خیالوی جدید اردو غزل کے نمائندہ شاعر۔سکندر ریاض چوہان

0
95

ناز خیالوی جدید اردو غزل کے نمائندہ شاعر ہیں لیکن ان کو وہ شہرت نہ تو اپنی زندگی میں حاصل ہوسکی اور نہ بعداز مرگ جس کے وہ مستحق تھے۔ بطور اُردو اور پنجابی شاعر وہ مشاعروں میں ہمیشہ بہت داد رصول کرتے لیکن اپنے درویشانہ مزاج، قناعت پسندی اور انا و خودداری کی وجہ سے ستائش باہمی اور جھوٹی نمود و نمائش سے خود کو دور رکھا۔ اپنے کلام کی تدوین و اشاعت کے سلسلے میں بھی انہوں نے زیادہ دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اس وجہ سے بھی ان کی شہرت عام آدمی تک ان کی مشہورِ زمانہ نظم” تم اِک گورکھ دھندہ ہو” تک ہی محدود رہی اگرچہ ان کا باقی کلام بھی معیار و مقدار ہردو حوالوں سے اعلیٰ پائے کا ہے۔
ناز خیالوی کے نام سے شہرت پانے والے اس منفرد شاعر کا اصل نام محمد صدیق تھا۔ انہوں نے فیصل آباد کی تحصیل تاندلیانوالہ کے گائوں”خیالی دی جھوک” میں ٧ مئی ١٩٤٧ء میں آنکھ کھولی۔ اسی وجہ سے اپنے تخلص ناز اور چک خیالی سے تعلق کی مناسبت سے ناز خیالوی کہلائے۔ شاعر کا ملکہ انہیں فطرت کی طرف سے ودیعت ہوا تھا۔ اسیِ فطری عطا کی وجہ سے ان کی موزدنیٔ طبع کے جوہر بہت جلد کھلنا شروع ہوگئے۔ بعدازاں معروف”شاعر مزدور” احسان دانش کے سامنے بھی زانوے تلمذ تہ کیا۔ شورش کاشمیری اور ساغر صدیقی کی مسلسل محبتوں سے بھی فیض یات ہوتے رہے۔
جسم و جاں کا ناطہ برقرار رکھنے کے لئے چھوٹے بڑے شہروں میں مختلف چھوٹی موٹی ملازمتیں بھی کیں۔ ریڈیو پاکستان، فیصل آباد ایف ایم۔٩٣ کے معروف پروگرام ”ساندل دھرتی” کی قریباً ربع صدی اور ”دبستان” کی میزبانی کرتے رہے۔ دریا دل اور یار باش انسان تھے محفلوں میں ان کی زندہ دلی وار بدلہ سنجی کا جادو سر چڑھ کر بولتا تھا۔ ان کے لطف و کرم سے فیض یاب ہونے والے تلامذہ کی کثیر تعداد ملک کے طول و عرض اور بیرونِ ملک بھی موجود ہے انہوں نے اپنی حیات مستعار کا زیادہ حصہ اپنے آبائی شہر تاندلیانوالہ میں گزارا اوریہیں ١٢ دسمبر ٢٠١٠ء کو خالقِ حقیقی سے جاملے اور تاندلیانوالہ کے ہی ”بڑے قبرستان”کے نام سے مشہور قبرستان میں مدفون ہوئے۔
ناز خیالوی کی زندگی میں کافیوں پر مشتمل صرف ایک ہی پنجابی کلام کا مجموعہ” سائیاں وے” کے نام سے ٢٠٠٩ء میں منظرِ عام پر آیا۔ ان کی وفات کے بعد ضخیم اُردو مجموعۂ کلام ”تم اک گورکھ دھندہ ہو” زیورِ طباعت سے آراستہ ہوچکا ہے، جس میں بیشتر اردو کلام اکھٹا ہوگیا ہے۔ اسکے علاوہ بھی اُردو کلام غیر مطبوعہ مملوکہ شاہ خواز شاہد خیالوی بھی محفوظ ہے۔
ناز خیالوی کی عملی و ادبی کاوشوں کے اعتراف کے طور پر عطاء الحق قاسمی نے ان کے ساتھ ایک شام کا اہتمام الحمراء ہال لاہور میں کیا تھا۔ ان کے شاعرانہ مقام و مرتبے کو اہلِ فن نے ہمیشہ تسلیم کیا۔
ناز خیالوی کی غزل گوئی
بیسویں صدی میں اردو ادب کے افق پر بہت سے ایسے شعراء نمودار ہوئے جن کی تابناکی و تمازت کی شہرت چار دانگِ عالم میں پھیل گئی۔ اردو ادب میں ان شعراء میں فیض احمد فیض،ن۔م۔راشد، مجید امجد، احسان دانش، جوش ملیح آبادی، ساغر صدیقی، محسن نقوی،احمد فراز، احمد ندیم قاسمی،جگر مراد آبادی، جون ایلیا اور بشیر حامد شامل ہیں۔لیکن ایک ایسی بلند آواز جس کی گرج آج بھی ان شعراء کی ہم آواز ہے۔اس شخصیت کو اگر ان ک صف میں شامل نہ کیا جائے تو یہ سراسر ناانصافی ہوگی۔ سرزمین تاندلیانوالہ میں پیدا ہونے والی یہ شخصیت محمد صدیق،المعروف ناز خیالوی ایک ایسا قد آور اور قادر الکلام شاعر ہے جس کی شہرت بین الاقوامی سطح پر بھی کسی تعارف کی مختاج نہیں۔
اگرچہ ان کی وجہ شہرت ان کی شہرہ آفاق نظم و قوالی ”تم اک گورکھ دھندہ ہو” ہے لیکن بنیادی طور پر ناز خیالوی غزل کے شاعر ہیں۔ شومئی قسمت کہ ان کی حیات میں ان کا کوئی مجموعہ شائع نہ ہوسکا۔ بلکہ ان کی وفات تک (دسمبر٢٠١٠ئ) تک ان کا کلام بیاضوں کی صورت میں تھا۔ ناز خیالوی ایک زود نویس شاعر تھے ان کا غیر مطبوعہ کلام بہت زیادہ ہے۔البتہ ان کے ایک شاگرد رشید جاوید اقبال زاہد چنیوٹی نے خصوصی کاوش سے ان کا ایک شعری مجموعہ ”تم اک گورکھ دھندہ ہو” کے نام سے شائع کروادیا ہے۔ اس مجموعہ میں چند نظمیں ہیں ان کی تعداد اسقدر مختصر ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس مجموعہ کو دیوان کہا جاسکتا ہے کیونکہ صرف پانچ نظمیں ہیں لیکن اسکو شعری مجموعہ کہنا ہی مناسب ہے۔
ناز خیالوی نے میدان سخن میں غزل کا انتخاب کیوں کیا؟ یہ بھی ایک دلچسپ سوال ہے۔ اس کا جواب انہوں نے اپنے اس شعری مجموعہ کے دیباچہ میں دیا، لکھتے ہیں:
” میں بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہوں، کچھ اس لیے بھی کہ غزل کا میدان دیگر اصنافِ سخن سے زیادہ وسیع ہے اور میرے ذوقِ نگار کی تسکین ہمیشہ غزل کی تخلیق سے ہوتی ہے۔”
ناز کی غزلوں میں غزل کی خصوصیات پائی جاتی ہیں جن میں تغزل، ترنم، موسیقیت، جدت، معنی آفرینی اور ندرت سب شامل ہیں۔اگرچہ اندازِ بیان کسی بھی شاعر کو منفرد مقام عطاکرتا ہے کیونکہ کائنات کے موضوعات میں کوئی بات نئی بات نہیں ہے۔ ناز خیالوی اپنی غزل کے متعلق لکھتے ہیں۔
”میں نے اپنی غزلوں کو زبان کی نفاست، لہجے کی جدت اور خیال ندرت سے آراستہ کرنے کی کماحقہ کوشش کی ہے۔ نظریات کی تصویر کشی میں بھی میں نے تغزل کی لومدھم نہیں ہونے دی میں یقین کی سکوت سوز مساوات کی بجائے مسلمان اور ابوذر کی حیات افروز مساوات کا پیامبر ہوں۔
ناز کی شاعری صرف عہد ِ حاضر پر ہی بحث نہیں کرتی بلکہ ان کی شاعری کو سمجھنے کے لئے تاریخ کے جھروکے میں جھانکنا ضروری ہے۔ وہ خود اپنی شاعری کے متعلق لکھتے ہیں:
” میری شاعری کربلا سے لے کر قیامِ پاکستان او ر اسکے بعد تعمیرِ پاکستان کے مراحل تک کے لئے مہکنے والے لہو کے پھولوں کا مرقع ہے۔”
ناز خیالوی کو ایک صوفی شاعر کہا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں جابجا تصوف کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ عشقِ حقیقی درحقیقت معراج ِ انسانیت ہے۔ انسان اپنا سب کچھ جب اس مالک کے سپرد کردیتا ہے اور انسان کا ہر قول و فعل اس کی رضا کے لئے وقف ہوجاتا ہے تو اس وقت اپنی مرضی و منشاء نہیں رہتی۔ ناز کا انداز ملاحظہ فرمائیں۔
بہر صورت مجھے ملحوظِ خاطر تھی خوشی میری
تو جیسا چاہتا تھا خود کو ویسا کرلیا میں نے
مضامین شاعری میں عالمی ادب میں جو مسائل زیر ِ بحث چلے آرہے ہیں ان میں مزدور اور سرمایہ دار کی کشمکش صفِ اول کے مضامین میں شامل ہے۔ سرمایہ دار کس طرح مزدور کا استحصال کرتا چلا آرہا ہے اس کی مثالیں ہر بلند پایۂ شاعر اور ادیب کے ہاں ملتی ہیں۔ ناز خیالوی جب مزدور اور کسان کے بھوکے بچے دیکھتا ہے تو ایک ہوک اسکے سینے میں اٹھتی ہے۔ احساس کی آگ اس کے دل و دماغ میں لَو لگا دیتی ہے۔ لکھتے ہیں:
دل میرا جلتا رہے گا آتشِ احساس سے
سر تیرا یارِ ندامت سے جھکا رہ جائے گا
مزدور ہمیشہ سخت محنت کے باوجود فاقہ کشی پر ہی مجبور رہا ہے۔مزدور کے بچے بھوکے ہی رہے۔ سرمایہ دار مزدور کا خون چوستا ہی رہا یہ۔ عالمی سطح پر برپاہونے والے انقلابات کے پیچھے بھی مزدور اور سرمایہ دار کی آویزش یہی رہی ہے۔ ہر عظیم شاعر کے موضوعات میں یہ موضوع بھی شامل سخن رہا ہے۔ ناز لکھتے ہیں۔
محنت سے میرے ہاتھ پہ چھالے ہی رہے ہیں
قسمت میں مگر خشک نوالے ہی رہے ہیں
ناز کی شاعری ایک پتھر دل انسان کو بھی گھلا اور پگھلا کر رکھ دیتی ہے۔ان کی شاعری تیسری دنیا کے استحصال زدہ طبقے کی عکاس ہے۔ ان کی شاعری کے متعلق ڈاکٹر ذوالفقار علی ڈوگر لکھتے ہیں۔
” تم اک گورکھ دھندہ ہو” کی شاعری، اس آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو ہے جو صدیوں سے ایک فرحت آفریں لمحے کا منتظر ہے، جسے ہر طرف مناظر کے کٹتے دکھائی دیتے ہیں اور جسے دھرتی پر کہیں بھی امان کی کوئی جگہ نہیں آتی۔ اس آنکھ سے ٹپکا ہوا آنسو، زمین کی سنگلاخیوں کو زم خو کرنے کا تمنائی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ پتھر دل انسان بھی کسی نہ کسی طرح موم ہوجائیں اور یہ دنیا جہاں میں ہر طرف آگ کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے، امن کا گہوارہ بن جائے تاکہ صدیوں سے مفلوج سی زندگی گزارنے والا انسان ایک جیتے جاگتے، ہنستے مسکراتے چہرے میں دکھائی دے۔”
ہر شخص کو اپنے مذہب سے فطری لگائو ہوتا ہے اور یہ لگائو اس قدر شدید ہوتا ہے کہ مذہب سے بے زار اور فرائض سے غافل بندہ بھی کسی غیر مذہب سے تعلق رکھنے والے شخص کے منہ سے ایک لفظ بھی اپنے مذہب کے خلاف نہیں سن سکتا۔ ناز خیالوی کو بھی اپنے مذہب اسلام سے بے پناہ عقیدت تھی۔اگرچہ وہ صوم و صلوٰة کے سختی سے پابند نہ تھے اور اپنی مرضی سے ہی نماز پڑھتے تھے تاہم اسلام کے ساتھ دلی وابستگی کا اظہار انھوں نے جابجا غزلوں میں کیا ہے۔ انھیں اپنے روحانی پیشوا سید بشیر حیدر صابری سے قدر لگائو تھا کہ جب بھی آلام دنیوی نے ان کا گھیرا تنگ کیا تو انھوں نے حجرۂ صابری ہی جاکر پناہ لی۔ اس محبت کا عملی و قلمی ثبوت ان کی زندگی میں چھپنے والا واحد مجموعہ” سائیاں سے” ہے جس میں شامل پنجابی کافیوں میں مخاطب شخصیت بشیر حیدر صابری صاحب ہی ہیں۔
ناز خیالوی نے اپنی غزلوں میں حمدیہ، نعتیہ، رثائی، منقبت اور اولیاء اللہ سے متعلقہ اشعار میں اپنی مذہبی عقیدت کا پرچار کیا ہے۔
خداے لم یزل اس کا ئنات کا واحد خالق و مالک ہے۔ زمین و آسمان کی وسعتوں میں موجود ہر شے اسی کے حکم کے تابع ہے۔ گناہ گاروں پر خداے بزرگ و برتر کی نعائم کس طرح نازل ہوتی ہیں اور کس طرح وہ اپنی مخلوق کی خطائوں پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی اَن گنت نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اس کا اظہار ناز خیالوی یوں کرتے ہیں:
اترا ہوا ہے چاند کا چہرہ، شجر خاموش
وقتِ نزول رحمتِ پروردگار ہے
_______
ماحول میں اتری ہوئی رحمت کی پری ہے
یہ آہِ سحر خیز بھی کیا” بھاگ بھری” ہے
حضور اکرمۖسے اپنی جان سے بڑھ کر محبت کامل ایمان کی شرط ہے۔ اسی شرط کی تکمیل کرنے کے لیے ان کی غزلوں میں بیشتر نعتیہ اشعار ملتے ہیں۔ یہ تکنیک انھوں نے اپنے استاد حضرت احسان دانش سے مستعار لی ہے۔ باعثِ تخلیقِ کون و مکاں کے ساتھ اپنی عقیدت کو غزلوں کے اشعار میں یوں سموتے ہیں:
سنتِ شاہِ امم کا ہوں لذت آشنا
خاک سے بہتر کوئی بستر نہیں لگتا مجھے
اللہ نے انسان کو صرف عبادت کے لیے ہی پیدا نہیں کیا بلکہ اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کو پورا کرنا بھی لازم قرار دیا ہے۔ لہذا انسان کو ارکانِ اسلام کی پابندی کرنے کے ساتھ انسانیت کی بھلائی کے حوالے سے اپنی خدمات سرانجام دینی چاہئیں۔ اگر انسان ذاتی مفاد پر اجتماعی مفاد کی اس طرح قربانی کرتا ہے کہ ہر ناجائز کو جائز سمجھنے لگ جائے تو یہ انسانیت کا زوال ہے۔ دورِ حاضر کا انسان ذاتی خواہشات کی تکمیل کرنے کے لیے اس حد تک گر گیا ہے:
”ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ”(٤٧)
ناز خیالوی کو دورِ حاضر کے انسان کی اس روش کا اندازہ ہوچکا تھا اور وہ اس کی مزاحمت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ہوس نے درد کی سوغات چھین لی تجھ سے
سُرورِ زیست ہے کیا شے تری بلا جانے
______
یا وسائل سے نوازا ان کو یا غیرت دے دے
بیچ دیتے ہیں ضرورت میں جو ایمانوں کو
ناز خیالویاستحصالی طبقے کے سخت مخالف ہیں۔ وہ کسی ایک کی کمائی دوسرے کے لیے ناجائز سمجھتے ہیں۔ اپنی شاعری میں بیشتر مقامات پر انھوں نے نچلے طبقے کی نمائندگی کی ہے اور غریبوں اور محنت کشوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے ان کی کمائی پر عیش کرنے والوں کے خلاف سخت مزاحمت کی ہے۔
اہل دنیا سے ہی پیٹ اپنا بھرا دنیا نے
یہ وہ ناگن ہے جو بھوکی ہو تو کھالے بچے
______
چل رہی ہے ضرورتوں کی چھری
ملک میں ہر غریب زخمی ہے
ناز خیالوی امیر لوگوں کو دیکھ کر یہ سوچتے تھے کہ یہ غریبوں کا خون چوس کر ہی امیر ہوئے ہیں۔ ان کے مکانات، گاڑیاں، فیکٹریاں ان کی محنت کی کمائی سے نہیں بلکہ غریب مزدوروں کے خون پسینے سے بنے ہیں اوراُن کو، ان کی محنت کا پورا حق بھی نہیں دیا گیا۔
تو مگن تھا اپنے کتے پالنے کے شوق میں
مرگئے کئی بھوکے مجبور، تیرے شہر میں
______
کئی ڈھیر اس نے ریشم کے بنے تھے
یہ میت بے کفن جس کی پڑی ہے
ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو اس کو روکنے کے لیے کبھی کبھی کمزور ہاتھ بھی اس قدر قوت لے کر بڑھتے ہیں کہ انکو روکنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوجاتا ہے۔ قانون فطرت ہے جب سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کو غروب بھی ہونا ہے۔ ناز خیالوی بھی اپنے دور میں ہونے والے ظلم کو روکنا چاہتے ہیں۔ اگرچہ وہ خود اتنی طاقت نہیں رکھتے لوگوں کو یہ سبق ضرور دیتے ہیں کہ جو کچھ ہورہا ہے اس کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے اور اس حوالے سے وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ایسا کرنا آسان کام نہیں اور ایسا کرتے ہوئے جان بھی جاسکتی ہے لیکن اگر کسی ایک جان دوسرے کئی لوگوں کی جان بچانے کا باعث بن سکتی ہے تو پھر اس جان کو جانا چاہیے جو انسانیت کے کام آکر امر ہوجائے۔ ناز خیالوی لوگوں کو انقلاب لانے کی یوں پکار دیتے ہیں:
آجائے گی خود طاقتِ پرواز پروں میں
پیدا تو کرو جرأت پرواز عزیزو
_____
لگایا نعرہ حق کا ایسی بے باکی سے مقتل میں
فقیہہِ مصلحت بیں کو پشیماں کردیا میں نے
____
یا تو لہو سے خاک کا قرضہ اتار دے
مردانگی کا ورنہ یہ تمغہ اتاردے
کامیابی اور کامرانی اُسی انسان کا مقدر ٹھہرتی ہیں جو اپنی قسمت خود سنوارنے کی کوشش کرتا ہے اور ہر شخص کو محنت کرکے وہ ارفع مقام حاصل کرلینا چاہیے کہ ”خدا بندے سے خود پوچھے تیری رضا کیا ہے”۔ محنت کے بغیر دنیا میںکبھی کوئی شخص کامیاب و کامران نہیں ٹھہرا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے محنت کی عظمت یوں بیان کی ہے:
”لَیْسَ لَلْانْسَانِ اِلَّا مَا سَعیٰ ”
ترجمہ: انسان کو اتنا ہی ملتا ہے جتنے کے لیے وہ کوشش کرتا ہے۔
تاریخ شاہد ہے کہ کامیابی نے ان لوگوں کو ہی وقت کی کرسی پر بٹھایا جو ہمیشہ اپنی قسمت بدلنے کے لیے تگ و دو کرتے ہیں۔ اگر ہم میں سے کوئی بھی اپنی قسمت سنوارنے کے لیے محنت نہیں کرے گا تو اس وراثت میں ملنے والی دولت کے خزانے بھی ایک دن اسے راستے میں لاکھڑا کریں گے۔ نکمے لوگوں کے ساتھ وہی ہوتا ہے جو مغلوں کے ساتھ ان کی عیاشیوں اور بے عملیوں کی وجہ سے ہوا۔
ناز خیالوی محنت کرنے والے شخص کے بے عمل پر ترجیح دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ اس دنیا میں اپنی معاشی و سماجی بقا کے لیے محنت کے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ الہ دین کا چراغ کسی کی قسمت سنوارنے کے لیے نہیں آئے گا بلکہ ہم میں سے ہر ایک کو الہ دین کے چراغ سے نکلنے والے جن کی بجائے خود اپنے ہاتھوں کی محنت سے مقام و مرتبہ حاسل کرنا ہوگا۔ وہ لوگوںکو عمل کی ترغیب دیتے ہوئے گویا ہوتے ہیں:
یوں بجھا کر نہ اُمیدوں کے ستارے جائو
سن ہی لے گا وہ کبی، اس کو پکارے جائو
______
صورتِ حال بہرحال بدلنی ہے ہمیں
اپنا ہر طور بہر طور بدلنا ہوگا
علما انبیاء کے وارث ہیں لیکن ایسے علماء کبھی انبیا کی وراثت کے حقدار نہیں ٹھہر سکتے جو بے عمل ہوں۔ اقبال نے بھی ایسے علما پر سخت تنقید کی ہے۔ ناز خیالوی کو بھی ایسے علما قطعاً پسند نہیں جو کتابوں کا بوجھ تو اٹھا سکتے ہیں لیکن عمل کرنے میں بہت پیچھے ہیں،لہذا ناز خیالویعالمِ بے عمل کو سخت ناپسند کرتے ہیں۔ عالمِ بے عمل کی تکالیف کا سبب وہ اس کی زبان درازی قراردیتے ہوئے کہتے ہیں:
اپنی تیغِ زباں درازی سے
فتنہ پرور خطیب زخمی ہے
____
واعظ تیری نیت کی سیاہی، ارے توبہ
ایسی تو کوئی رات بھی کالی نہیں ہوتی
جب کوئی شاعر اپنی شاعری میں شراب اور متعلقاتِ شراب کا ذکر کرے تو اسے شوخیٔ کلام یا رندی مضمون کہتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسے مضامین میں شراب اور متعلقاتِ شراب، تشبیہ اور استعارہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں لیکن کئی جگہوں پر اس سے مراد حقیقی شراب بھی ہوتی ہے۔ نازخیالوی نے بیشتر جگہوں پر شراب کو حقیقی معنوں میں استعمال کیا ہے۔ شاید اس کی وجہ ان کی ذاتی زندگی میں کثرتِ مے نوشی بھی تھی۔وہ شراب پیتے وقت وقت اکثر یہ کہتے ہیں کہ ”میں اپنے آپ سے مل لوں گا”۔ ان کا ایک غیر مطبوعہ بیاض سارے کا سارا اسی مضمون پر مشتمل ہے۔ وہ شراب اور اس کے متعلقات یعنی ساغر، مے خانہ، ساقی، جام وغیرہ کا بیان یوں کرتے ہیں:
جس نے پی کیف کی حد سے بڑ ھ کر
مے کشی ہوگئی غارت اس کی
وہ خود کو شراب میں اس طرح گم کرنا چاہتے ہیں کہ اپنے خواب میں اس آبِ شر میں ڈبو کر زندگی گزارنے کی خواہش کرتے ہیں۔
ہم حقیقت پرست رندوں نے
گھول کر پی لیے شراب میںخواب
نقر تین حرفوں کا مجموعہ ہے، ف+ق+ر۔ ”ف” سے مراد فاقہ،”ق” سے مراد قناعت اور ”ر” سے مراد رضاے الٰہی۔ نقر میں فاقہ، قناعت اور رضاے الٰہی لازمی عناصر ہیں۔ وجہِ تخلیق کائنا تۖ کو فقر پر فخر تھا اور فقر کو اپنی ذاتِ گرامی کا لازمی حصلہ قرار دیا۔ ناز خیالوی کو بھی فقر سے رغبت تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اپنے پیرو مرشد جناب بشیر حیدر کے ساتھ حجرۂ صابری میں گزارا اور ساری زندگی کوئی دولت جمع نہ کرپائے ان کا کل اثاثہ صرف اتنا تھا:
پوچھتے کیا ہو دنیا ہم درویشوں کی
ایک ہے کمبل، ایک پیالہ، ایک دیا
دنیا کا کوئی معاشرہ ظلم و ناانصافی پسند نہیں کرتا۔ظلم و ناانصافی سے معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہوتے ہیں وہ کسی متبادل صورت میں ٹھیک نہیں کیے جاسکتے۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جس کو دنیا کا کوئی مرہم فائدہ نہیں پہنچاسکتا۔ ظلم و ناانصافی معاشرے میںناہمواریاں پیدا کرنے میں بدرجہ اتم کردار ادا کرتے ہیں۔ انصاف ہی ایسی قدر ہے جو معاشرے میں اونچ نیچ کو ختم کرکے محبت کا بیج بو کر امن کی کھیتی اگا کر اخوت و مساوات کا کھلیان لگا سکتی ہے۔ ناانصافی کی فصل کاشت کرکے معاشرتی قدروں کو کبھی بھی پروان نہیں چڑھایا جاسکتا۔
حاکمِ وقت کرے عدل کی تعظیم اگر
کوئی مجرم کبھی توہینِ عدالت نہ کرے
منافقت بھی معاشرے میں خرابی و بگاڑ پیدا کرنے کی بڑی وجہ ہے۔ منافق لوگوں کی حدیثِ مبارکہ میں تین نشانیاں بتائی گئی ہیں:(١) یعنی بات کرے گا تو جھوٹ بولے گا۔(٢) اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے گا۔(٣) جب وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرتے گا۔ نازخیالوی کو منافق لوگ پسند نہیں اور وہ ان کو نہایت برا سمجھتے ہیں کیونکہ وہ ظاہر اور باطن کے تضاد کی وجہ سے معاشرے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ادھراپنوںکی عیاری، اُدھر غیروں کی مکاری
نہ یہ پہلو سلامت ہے، یہ وہ پہلو سلامت ہے
مفلسی انسان کو کفر تک لے جاتی ہے۔ یہ ایسی بری بلا ہے جو انسان کو انسانیت کے درجے سے نیچے لا کر چور، ڈاکو اور ڈکیت وغیرہ کے نام سے موسوم کردیتی ہے۔ غربت میں انسان جانور کی طرح حلال و حرام، جائز و ناجائز کی تمیز بھول کر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر سب کچھ کر گزرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ مفلسی انسان سے اس کا علمی مرتبہ بھی چھین لیتی ہے اور اس کو علما کی محفلوں سے نکال کر جہلا میں شامل کردیتی ہے۔ غریب آدمی چاہے جتنے اچھے اخلاق و کردار کا مالک ہو امرا کے طبقے کے نزدیک قابلِ قدر نہیں رہتا۔
ناز خیالوی سے زیادہ اس وبا کو کون جانتا ہے کہ یہ کس طرح گھر کے گھر اور بستیاں تباہ کرادیتی ہے۔ ناز خیالوی کو غربت کے ہاتھوں نہایت مجبوری کی زندگی گزارنا پڑی اور کبھی تو اپنی ضروریات کے لیے لوگوں کے سامنے ہاتھ بھی پھیلانے پڑے لیکن پھر بھی یہ آتش نہ بجھی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ بھڑکتی ہی رہی اور کبھی تو ان کے اپنے بچوں کی طرح پیارے اشعار کو نیلام کرکے اس کے ہاتھوں رسوائی ہوئی۔
مجھ کو غربت نے ڈسا، اس کو ہوس مار گئی
بک گیا وہ بھی بہرحال مرے فن کی طرح
فطرت سے محبت ہر شخص کے شعور یا لاشعور میںموجود ہوتی ہے۔ کوئی اظہار کرتا ہے تو کوئی دل پر ان مناظر کی تصاویر ثبت کرکے ان سے لطف اندوز رہتا ہے شعرا کا طبقہ ایسا ہے جو مناظرِ فطرت سے والہانہ لگائو رکھتا ہے۔ یہ ان مناظر کی ایسی تصویر کشی کرتے ہیں جن کو دوسری آنکھیں دیکھ کر اپنے اندھا ہونے کا ثبوت دیتی ہیں۔ شاعر اپنے گہرے احساس سے ان مناظر کی ایسی لفظی تصویریں تراشتا ہے جو اپنی تمام تر رنگینیوں سمیت فطرت سے لگائو والے دلوں کو حقیقت سے بھی کچھ زیادہ مسحور کرتی ہیں۔ ناز خیالوی کو بھی مناظرِ فطرت سے ہر شاعر کی طرح گہری وابستگی ہے اور وہ ان کی لفظی تصاویر ہمیں یوںدکھاتے ہیں:
پھیل جاتے ہیں بستی سے اجالے کھیت میں
چیت میں جب راگنی گاتے ہیں سرسوں کے چراغ
اللہ اور اس کے رسولۖ کے نزدیک یہ تقسیم بے معنی ہے۔ ناز خیالوی انسانی جان کی ارزانی پر بہت رنجیدہ ہوتے ہیں:
بچ کر رہے اس بردہ فروشوں کے نگر میں
بک جائے نہ وہ یوسف ثانی اس کہنا
ایک اور شعر ملاحظہ ہو:
ہے قتل میرے شہر میں پیاسوں کی ضرورت
مہنگا ہے یہاں خون سے پانی اس کہنا
ہر بڑے شاعر کو جہاںوقت کے ساتھ اپنی شاعرانہ عظمت کا اندازہ ہوجاتا ہے اور وہ شاعرانہ تعلّی کا اظہار کرنا شروع کردیتا ہے، وہاں وہ استاد شعرا کی عظمت کا اعتراف بھی کرتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ میرتقی میر کی عظمت کا اعتراف غالب جیسے انا پسند بھی کرجاتے ہیں اور یقینا کسی کی بڑائی کا اعتراف انسان کے قد کو بڑا نہ کرے تو چھوٹابھی نہیں کرتا۔
ناز خیالوی کو اپنے استاد احسان دانش سے بے پناہ عقیدت تھی اور وہ اس کا موقع بہ موقع اظہار کرتے تھے۔ ایک دفعہ جب ان سے پسندیدہ شاعر کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:
”سرفہرست حضرت احسان دانش۔ محض فکری طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر سرفہرست ہیں۔
اپنے استادحضرت احسان دانش کی عظمت کا اعتراف یوں کرتے ہیں:
ہیں سخنور ناز اچھے اور بھی اس دور میں
کوئی”دانش” کا مگر ہمسر نہیں لگتا مجھے
وہ اپنے استادِ محترم کو غالب کے مقابلے کا شاعر سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ اپنی روحانی وابستگی کا یوں ثبوت دیتے ہیں:
منفرد استاد دانش بھی ہیں غالب کی طرح
یوں تو دنیا میں ہیں اچھے سخن ور اور بھی
غزل گوئی میںکمالِ فن حاصل کرنے کو وہ استاد دانش کی ہی دین سمجھتے ہیں۔
استادِ محترم کی دعائوں کے فیض سے
تاحشر سبز میری غزل کا درخت ہے
میر تقی میر”شاعرِ غم” تھا اور زمانے میں درد و غم اکٹھے کرکے جس مقامِ ارفع تک پہنچا، اس تک پہنچانے میں یقینا ان درد و غم کا ہی بڑا ہاتھ ہے۔ اگر یہ درد و غم نہ ہوتے تو وہ میر تقی میر جسے آج ہم جانتے ہیں شاید ایسا نہ ہوتا۔
ناز خیالوی نے اپنی استادی کا ثبوت میر تقی میر کی عظمت کا اعتراف کرکے دیا ہے اور خود کو غالب، ذوق، حالی و حسرت وغیرہ میں شامل کرکے اپنی بڑائی کا ناقابلِ تردید ثبوت چھوڑا ہے۔
بے پیرویٔ میر تقی میر کچھ نہیں
سو سو غزل میں قافیے آسان باندھیے
اختر سدیدی خوب صورت لہجے اور پاکیزہ جذبات کے حامل شاعر تھے۔ ان کی زندگی”لمحات” کو” لمعات”تبدیل کرتے ہوئے گزری۔افکار کی نئی شمعیں روشن کرنے کے ساتھ ساتھ بشر کو تعظیمِ انسانیت کا درس بھی دیتے رہے۔ ناز خیالوی نے ان کو نہایت ہی خوب صورت انداز میں یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
لٹا کر سرخیٔ خونِ جگر اختر سدیدی نے
سجایا چہرۂ فکر و ہنر اختر سدیدی نے
ہر شاعر جہاں اپنی تہذیب و ثقافت کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور اپنی شاعری میں اس کا بیان کرتا ہے وہاں وہ اپنے ذاتی حالات و واقعات کو بھی قلمبند کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے بیان کرنے کے اسلوب میں یہ سلیقہ ہوتا ہے کہ قاری کو ایسے لگتا ہے کہ یہ شاعر کی آپ بیتی نہیں بلکہ جگ بیتی ہے۔ ناز خیالوی کی ذاتی زندگی مجبوریوں سے بھری ہوئی تھی اور جہاں آگ جل رہی ہو وہاں سے دھواں تو نکلتا ہے۔ نازنے اپنی زندگی میں انتہائی غربت کو دیکھا اور سہا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں بیشتر مقامات پر ان کی ذات کی بے بسی اور غربت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ اپنے گھر کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
رونق ہے مری زیست میں انھیں سے
ہر شعر مرا ناز، مرا لختِ جگر ہے

سکندر ریاض چوہان

SHARE

LEAVE A REPLY