گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش

0
966

وقار زیدی ۔ کراچی

فارغ بخاری کی پیدائش

گیارہ نومبر 1917ء اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور نقاد فارغ بخاری کی تاریخ پیدائش ہے۔

فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا اور وہ پشاور میں پیدا ہوئے تھے۔ابتدا ہی سے ادب کے ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے اور اس سلسلے میں انہوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کی انہوں نے رضا ہمدانی کے ہمراہ پشتو زبان و ادب اور ثقافت کے فروغ کے لئے بیش بہا کام کیا۔ وہ رضا ھمدانی اور اولیں ناشر اعلان قیام پاکستان مصطفی علی ھمدانی کے بہنوئی تھے

ان کی مشترکہ تصانیف میں ادبیات سرحد، پشتو لوک گیت، سرحد کے لوک گیت، پشتو شاعری اور پشتو نثر شامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعوں میں زیرو بم، شیشے کے پیراہن، خوشبو کا سفر، پیاسے ہاتھ، آئینے صدائوں کے اور غزلیہ کے نام سرفہرست تھے۔

ان کی نثری کتب میں شخصی خاکوں کے دو مجموعے البم، مشرقی پاکستان کا رپورتاژ، برات عاشقاں اور خان عبدالغفار خان کی سوانح عمری باچا خان شامل ہیں۔
فارغ بخاری کا انتقال 13 / اپریل 1997ء کو پشاورمیں ہوا اور وہ پشاور ہی میں آسودۂ خاک ہوئے۔
فارغ بخاری کا ایک مشہور شعر

فقیہہِ شہر کا سکہ ہے کھوٹا
مگر اس شہر میں چلتا بہت ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گیارہ نومبر نصراللہ خان کی پیدائش

پچیس فروری 2002ء کو پاکستان کے مشہور صحافی، کالم نگار اور ڈرامہ نگار نصراللہ خان کراچی میں وفات پاگئے۔
نصر اللہ خان 11 / نومبر 1920ء کو جاورہ، مالوہ کے مقام پر پیدا ہوئے تھے۔ 1949ء سے 1953ء کے دوران انہوں نے ریڈیو پاکستان کراچی میں پروڈیوسر کے طور پر خدمات انجام دیں

بعدازاں روزنامہ انقلاب لاہور، روزنامہ حریت کراچی اور روزنامہ جنگ کراچی سے وابستہ رہے جہاں ان کا کالم آداب عرض قارئین کے حلقے میں بڑے ذوق و شوق سے پڑھا جاتا تھا۔

نصر اللہ خان کی تصانیف میں کالموں کا مجموعہ بات سے بات، ڈرامہ لائٹ ہائوس کے محافظ، خاکوں کا مجموعہ کیا قافلہ جاتا ہے اور غیر مطبوعہ سوانح عمری اک شخص مجھی سا تھا شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سبط علی صبا کی پیدائش

اردو کے خوش گو شاعر سبط علی صباؔ 11 / نومبر 1935ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تھے۔ 1953ء سے 1960ء تک وہ پاکستان کی بری فوج کے ساتھ وابستہ رہے اور پھر واہ میں پاکستان آرڈیننس فیکٹری، واہ سے منسلک ہوئے۔

سبط علی صباؔ نے صرف 44 برس کی عمر پائی۔ ان کا مجموعہ کلام جس کا نام انہوں نے خود ابرسنگ تجویز کیا تھا ان کی وفات کے بعد ان کے احباب نے طشت مراد کے نام سے شائع کیا۔

سبط علی صبا کی کلیات ابر سنگ کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے

سبط علی صبا کا ایک شعر اردو ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے۔

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنالیے

چودہ / مئی 1980ء کو سبط علی صباؔ واہ کینٹ میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔

فاتح شام زینبؑ اونچا مقام تیرا
بھائی امام تیرے بابا امام تیرا

افسوس شامیوں نے شہنائیاں بجائیں
جب قافلہ اجڑ کر پہنچا تھا شام تیرا

رنگ سرخ ہو کے نکلا غیرت سے آنسوؤں کا
سجادؑ نے سنا جب حاکم سے نام تیرا

SHARE

LEAVE A REPLY