اسلام اور میاں بیوی کے حقوق(59)۔شمس جیلانی

0
1912

گزشتہ مضمون میں ہم بات کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے تھے کہ ہماری حقوق کے سلسلہ میں غفلت اس وجہ سے ہے کہ ہم نہ اپنے حقوق جانتے ہیں نہ اپنے اوپر دوسروں کے حقوق جانتے ہیں حتیٰ کہ نہ بیوی شوہر کے حقوق جانتی ہے اور نہ شوہر بیویوں کے حقوق جانتے ہیں۔ جب وہ ایک چیز کو جانتے ہی نہیں ہیں توانکی درست ادائیگی کو تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ حالانکہ ربِ کائینات نے اپنے اپنے حقوق ہر ایک کو بتا دیئے ہیں ،لیکن ہم زبانی تو مانتے ہیں مگرعملی طور پر ان میں سے کسی کو بھی اپنے گھر میں جگہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں ہمارے وہ متنازع علماء ہیں جو کہ آئے روز ایک نیا مسئلہ چھیڑ دیتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نےtv پرفتویٰ دیدیا کہ کھانا پکانا بیوی کی ذمہ داری نہیں ہے؟ نتیجہ یہ ہے کہ ایک نئی بحث چھڑ گئی؟کہ“ واقعی یہ کہیں لکھا ہوا نہیں ہے کہ کھانا پکا کر خود کھانا اور اپنے بچوں اور شوہر کو کھلانا بیوی کی ذمہ داری ہے؟ مگر کوئی انہیں بتائے توسہی کہ اگر یہ بیوی ذمہ داری کی نہیں ہے تو پھر کس کی ہے اور یہ کہ وہ کونسی بیوی ہوگی جو خود کھالے، شوہر کو نہ کھلا ئے، بچوں کو نہ کھلا ئے اگر یہ مان لیاجا ئے کہاا ن کا فرمانا درست ہے تو گھر چلے گا کیسے اور کون کسے کھلائے گا۔ یہ تو تھا گھر کاحال اب مہمان آگیا تو اس کی خاطر تواضع اہلِ خانہ میں سے کس کا فرض ہوگا جس کا بہت بڑاثواب ہے پھر فقیروں کو کھلانے کی بڑی عظمت ہے۔ ان کو کون کھلا ئے گا؟
دیکھئے ایک ذراسی غلط فہمی پیدا کرنے سے پہلے ہی یونٹ کا سارا نظام الٹ پلٹ کا شکار ہوگیا؟ وجہ کیا تھی کہ فتویٰ دینے اور منہ سے متنازع بات نکالنے سے پہلے علماء اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی ایک آیت کو لیکر یا ایک حدیث کو لیکر کوئی فتویٰ صادر فر مائیں تو تھوڑی سی نظر اسوہ حسنہ (ص) پر بھی ڈال لیں تو وہ ا یسا تشنہ قسم کا فتویٰ کبھی صادر نہ کریں ؟۔کیونکہ جب وہ وہاں جائیں گے تو حضور (ص) نے سب احکامات پر عمل کر کے دکھا دیا ہے؟ وہاں ہر طالب علم کو؟ وہ یہ ہے کہ قرآن میں رواج کو اہمیت بہت زیادہ حاصل اور اس سے انہیں رہنمائی مل جا ئے گی۔ جس خاندان میں کھانا پکانا ملازموں کے ذمہ داری ہے، وہاں تو بات دوسری ہے کہ یہ نہ بیوی ذمہ داری ہے نہ میاں کی؟لیکن حضور(ص) نے اپنے اور اپنے خاندان کے لیے فارغ البالی کبھی پسند نہیں فرما ئی ان کے ہاں خادمہ یا خادم کا ذکر تو لونڈی اور غلام کی شکل میں ملتا ہے۔ مگر یہ کہیں ذکر نہیں ملتا کہ انکا استعمال کیا تھا؟ اس کے برعکس حضور (ص) کے اسوہ حسنہ میں بارہا آپ کو یہ مبارک طریقہ ملے گا کہ حضور (ص) تمام گھریلو اورغیر گھریلوکاموں میں اپنی بیویوں کا ہاتھ بٹاتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اس بات سے ظاہر کیا ہوا کہ میاں اور بیوی دونوں ہی ذمہ دار ہیں۔ کھانا پکا کر دستر خان تک لانا اور خود کھانا اور سب کو کھلانا دونوں کے حقوق میں شامل ہے۔
ہاں !جن کے ہاں خان ساماں اور ملازما ئیں ہیں۔ تو دونوں ہی کی ذمہ داری نہیں ہے؟ مگر ہمارے ہاں کا رواج یہ ہے کہ خاتوں خانہ کبھی بھی کچن سے دستربردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتیں ہیں اور یہ ہی اکثر ساس بہوؤں میں نا چاقی کا باعث بھی ہوتا ہے ۔ جہاں روایتی فیملی کا نظام رائج ہے۔ وہاں بہو کو رواج کا خیال رکھنا چاہیے۔ اگر وہ خود کرنا چاہتی ہیں تو انہیں کرنے دیں اور خوشی خوشی انکا ہاتھ بٹائیں اور ان کی تعریفیں کریں اس سے انکا دل بڑھے گا ؟ اگر نہیں کرتی ہیں تو وجہ جاننے کی ساس کوشش کریں ممکن ہے بیمار ہوں یا کوئی وجہ ہو؟ کیونکہ بڑے یہ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ان کا حق بیٹے پر تو ہے کہ انکا جائز کاموں میں حکم ماننا اس پر فرض ہے ۔ مگر بہوؤں پر نہیں ہے اگر وہ کر رہی ہیں تو انہیں سراہا جا ئے تنقید نہ کی جائے؟ پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا گھر جنت بن جا ئے گا؟
اس طویل بحث میں جانے کا میرامقصد یہ تھاکہ گھر بنتا ہے میاں بیوی سے اس لیے ان دونوں میں ایکا ہے !تو کبھی بھی یہ صورتِ حال پیدا نہیں ہوگی کہ کھانا پکانا کس کی ذمہ داری ہے اور کس نے کس پر احسان کیاہے۔ اسی لیے قرآن میں ان کے بارے میں یہ فرمادیا گیا ہے کہ“ تم ان کا لباس ہو اور وہ تمہارا لباس ہیں “ ؟ اس ایک آیت میں اتنا بڑا فلسفہ بیان کردیا گیا ہے کہ لباس جس طرح ستر پوشی کے لیئے ہوتا ہے اسی طرح بیوی شوہر کی عزت کا خیال رکھے اور شوہر بیوی کی عزت کا خیال رکھے ۔ یعنی دونوں ایک دوسرے کی ہر وقت پردہ پوشی کرتے رہیں اور کبھی دوسروں سے شکایت نہ کریں؟ جبکہ یہ شرط اس میں موجود ہے جوکہ ہمارے یہاں عقدۃ النکاح کہلاتا ہے ۔جس سے بیوی شوہر پر جائز ہوتی ہے اس میں بیوی کا نان ، نفقہ اور مہر شوہر کے ذمہ ہے مگر یہاں بھی تفصیل نہیں ہے؟ یعنی نان صرف روٹی بغیر دال کے نہیں ہے ؟کیونکہ نان اور نفقہ کے معنی لامحدود ہے۔ مہر کی تعداد بھی مقرر نہیں ہے؟ پھر اس کافیصلہ کیسے ہوگا ،وہاں عمل شوہر کی ہستی اور رواج کے مطابق ہوگا؟ بہت سے لوگ مہر لاکھوں کا باندھ دیتے ہیں کہ شوہر یاداماد دبا رہے گا؟ اس لیے کہ وہ ادا نہیں کر سکے گا؟ یہ قطعی غلط ہے چونکہ وہ مشروط ہے رواج سے لہذا ہم اس پر پچھلے مضمون میں بات کر چکے ہیں کہ وہ نکاح ہی نہیں ہوگا جس میں مہر ادا کرنے کا ارادہ نہ ہو ۔ اور گر مہر پر تنازہزع ہوجاتا ہے تو کورٹ مجاز ہووگی کہ شوہر کی ہستی کے مطابق مہر مقر ر کردے؟ اسی طرح اگر نوبت طلاق تک پہونچے تو بھی وہ بھی باخوبی ہونا چاہیئے اور کم از کم ایک جوڑ کپڑے بیوی کورواج کے مطابق دینے کا حکم حدیث میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ میاں بیوی کے سلسلہ میں ا صل چیز رواج ہے ۔ اگر گھریلو زندگی میں رواج کی بالا دستی کو مان لیا جائے تو میاں بیوی کے درمیان کسی قسم کی بد مزگی کا امکان ہی نہیں ہے؟ ابھی جو معاشرہ میں ا ختلاف عام ہے وہ بھی بہت کم رہجائے گا؟ سورہ النور کی آیت 23 کو سب اپنا کر عفو اور درگزر اپنا لیں جس کا رب اپنے بندوں کو عفو اور درگذر کا حکم دیتے ہوئے، وعدہ فرما رہا ہے کہ تم عفو اور درگذر کرو۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ تمہیں معاف کیا جائے؟

SHARE

LEAVE A REPLY