تم جب ہو نہ سکا معرکۂ ہوش و جنوں
صلح اس بات پہ ٹھہری کہ جدھر دل ہو جائے
سانحہ کربلا کے زیرِ اثر جس قدر ادب دنیا کی مختلف زبانوں میں تخلیق ہوا ہے۔، تاریخِ انسانیت میں ایسی مثال شاید مشکل سے ملے گی۔اور اردو زبان و ادب کی تو ابتداء ہی واقعہ کربلا کے ذکر سے ہوتی ہے۔یوں تو واقعہ کربلا کے اثرات تمام اردو اصنافِ سخن پر نمایاں نظر آتے ہیں مگر مرثیہ، نوحہ اور سلام جیسی اصنافِ سخن کا تو تمام تر تعلق ہی واقعہ کربلا سے بنتا ہے۔اگرچہ اردو میں شخصی اور قومی مرثیہ بھی لکھا گیا ہے مگر مذہبی مرثیہ، جس کا تعلق واقعہ کربلا ہے ، اس قدر تواتر اور کثرت سے لکھا گیا ہے کہ اردو ادب میں مرثیے کا اطلاق واقعاتِ کربلا سے ہونے لگا ہے۔ابتدا ء میں مرثیہ شہدائے کربلا سے اظہارِ عقیدت کے لیے لکھا جاتا تھا مگر جلد ہی مرثیہ گو شعراء نے مرثیے کو عقیدت کے نہاں خانے سے نکال کر وقیع علمی و ادبی صنف کے درجے پر فائز کر دیا۔میر خلیق اور ضمیر نے فنی اجتہاد سے کام لے کر مرثیے میں عناصرِ ترکیبی کا اضافہ کیا تو انیس و دبیر نے مرثیے کو اس مقام پر پہنچا دیا کہ کشور سخن کے شہنشاہ کو یہ کہنا پڑا کہ مرثیہ انیس و دبیر کی قلم رو ہے ان جیسا مرثیہ کہنے کے لیے اک عمر چاہیے۔
اردو زبان کی بیشتر اصناف سخن عربی اور فارسی زبان سے اپنا سفر طے کرتی آئی ہیں۔ لفظ مرثیہ بھی عربی زبان کا لفظ ہے، شاعری کا بھی عجب حال ہے۔ یہ چشمہ کی طرح سنگلاخ پہاڑوں سے پھوٹتی ہوئی میدانوں کوگلزار بناتی بڑھتی ہے۔ یہی حال رثائی ادب کا بھی ہے۔
مرثیہ، سلام اور نوحے کے اصناف ہر عہد مں اس لئے مقبولِ خاص و عام رہے کہ ان مںہ زندگی کی اعلیٰ قدریں پیش کی جاتی رہںر اور اسی سبب سے ان کے ذریعے اعلیٰ تر معاشرتی رویّے ظاہر ہوئے۔ آج بھی مذکورہ اصناف مںی واقعۂ کربلا کے حوالے سے زندگی بسر کرنے کے بہترین تصورات مل جائں گے۔واقعۂ کربلا کا یہ فیضان ہے کہ ا س نے ایک سطح پر تو انسان کا تعلق خدا سے اور دوسری سطح پر انسان کا تعلق اعلیٰ تر معاشرتی اقدار سے جوڑ دیا ہے۔
اس طرح ان قد آور مرثیہ نگاروں کی کاوشوں کے نتیجے مںئ مرثیے کو ایک مرتبہ پھر عروج حاصل ہوا اور فنی و فکری ہر لحاظ سے یہ صنف دوسرے وقیع اصناف کے مقابل آن کھڑی ہوئی۔
سید آلِ رضا سلام میں نام پیدا کیا۔ ایک اعتبار سے میر انیس سے تو سید آلِ رضا کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا مگر آلِ رضا صاحب نے ایک سلام ایسا تحریر کردیا جو مجالس کی جان بن گیا ۔
جدید مرثیہ گوئی کے ابتدائی نقوش پہلے مرزا دبیر کے فرزند اوج لکھنوی اور پھر شاد عظیم آبادی کے ہاں مل جاتے ہیں مگر جن شعراءء نے حقیقی معنوں میں جدید مرثیے کی بلند وبالا عمارت تعمیر کی ان میں جوشؔ، آل رضا، علامہ جمیل مظہری، نسیم امروہی اور نجم آفریدی کے نام سرِفہرست ہیں۔جدید مرثیے کے ان عظیم شعراءء کے اتباع میں جن شعراء نے جدید مرثیہ گو شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت قائم کی ہے ان میں آغا سکندر مہدی کا نام قابلِ احترام ہے۔
ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﻼﻡ
ﺁﮔﺎﮬﺊ ﺭﻣﻮﺯ ﮬﮯ ﺧﻮﺩ ﭘﺮﺩﮦ ﺩﺍﺭِ ﺣﺴﻦ
ﻣﯿﮟ ﮐﭽﮫ ﺳﻤﺠﮫ ﭼﻼ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﯾﻮﺍﻧﮧ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ
ﮐﯿﻮﮞ ﮬﻨﺲ ﮐﮯ ﮐﮧ ﺩﯾﺎ ” ﻣﺮﮮ ﺩﺭ ﮐﺎ ﻓﻘﯿﺮ ﮬﮯ “
ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺰﺍﺝ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﮬﺎﻧﮧ ﮬﻮ ﮔﯿﺎ
عصرحاضر میں ملک کے ایسے شعراء کی کثیر تعداد موجود ہے جو اِن اصناف کے حوالے سے معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ دینے میں مصروف شب وروز رہیں ان میں سے ایک معتبر نام سید آلِ رضا زیدی صاحب کا بھی ہے ۔
جب 1954ء میں سید آل رضا کی نظم شام غریباں کو اپنے خوب صورت لحن میں پیش کیا۔ یہ نظم بعد میں سلام آخر کے نام سے معروف ہوئی تو ملک گیر شہرت ان کے نصیب میں آئی۔
سید آل ِ رضا اساتذہ فن میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فکر کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر اس طرح پیش کیا کہ ایک طرف تو مرثیے میں روایت کے تما م لوازمات شامل ہیں اور ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے موضوعات کو جدید زندگی اور جدید فکر کے ساتھ مربوط کیا ہے ۔ ان شعراء نے اپنے تہذیبی ماحول اور اپنے لسانی پس منظر کے حوالے سے مرثیے کو ترقی دی ہے ۔سید آل ِ رضا نے انیس اور ان کے بعد آنیوالے شعراء سے اس تسلسل کوملا کر اپنے انداز میں ایسے مرثیے تحریر کیے ہیں کہ جن میں اُس دور کی شاعری کا مخصوص انداز اور جدید شاعری کا ایک حسین امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
جدید مرثیہ نگاروں میں بہت سے مقبول مرثیہ نگاروں کے نام لئے جاسکتے ہیں جن میں سب سے زیادہ اہمیت جوش ملیح آبادی کو حاصل ہے۔ انہوں نے مرثیے کو بالکل نئے طریقے سے استعمال کیا ان کے یہاں مرثیے کی ہیت تو مسدس ہی ہے لیکن موضوع کی حیثیت سے انہوں نے انیس و دبیر کے راستے سے انحراف کرکے واقع کو تسلسل سے بیان کرنے کے بجائے امام حسین کے کردار کو اہمیت دی۔
گزشتہ صدی میں ابوالاثر حفیظ جالندھری کا لکھا ہوا ’’شاہنامہ اسلام ‘‘مرثیہ نگاری کی ایک انتہائی خوبصورت مثال ہے ۔ جدید مرثیے کے ضمن میں امید فاضلی، نسیم امروہی، صباء اکبر آبادی اور سید آل ِ رضا اساتذہ فن میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی فکر کو الفاظ کے موتیوں میں پرو کر اس طرح پیش کیا کہ ایک طرف تو مرثیے میں روایت کے تما م لوازمات شامل ہیں
اردو مرثیہ جس کا نقطہ آغاز سولہویں صدی میں حضرت شاہ اشرف تھے، ارتقائی منازل طئے کرتے ہوئے جب بیسویں صدی میں داخل ہوا تو اسے جوش ملیح آبادی جیسے قدر آور شاعر کی تعمیر کردہ روایات ملی تھیں۔ انہیں روایات کی بنیاد پر دور حاضر میں بھی مرثیے لکھے جا رہے ہیں۔ اس عہد میں بھی (یعنی جوش کے فوراً بعد کے زمانے میں ) سب سے اہم نام آل رضا کا ہے۔ جوش نے انہیں جدید مرثیے کا بانی قرار دیا ہے۔ انہوں نے تقریباً بیس مراثی لکھے ہیں۔ ان کا پہلا مرثیہ ہے ع ’’کلمہ حق کی ہے تحریر دل فطرت میں ‘‘۔ ان کے مجموعے میں آخری مرثیہ ع ’’قافلہ آل محمد کا سوے شام چلا’‘ ہے۔
پہلے مرثیے سے ایک بند ملاحظہ ہو
ابر بے فصل نے اب کے یہ سماں دکھلایا
آسماں سوگ میں تھا جب کہ محرم آیا
رندھ گئی جتنی فضا اتنا ہی غم بھی چھایا
بوندیں پڑنے جو لگیں یاد نے دل تڑپایا
کتنا پانی ہے جو بے وقت برس جاتا ہے
اور کبھی قافلہ پیاسوں کا ترس جاتا ہے
اردو کے نامور شاعر سید آل رضا 10 جون 1896ء کو قصبہ نبوتنی ضلع انائو (یو، پی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سید محمد رضا 1928ء میں اودھ چیف کورٹ کے اولین پانچ ججوں میں شامل تھے ۔ سید آل رضا نے 1916ء میں کنگ کالج (لکھنؤ) سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور 1920ء میں الٰہ آباد سے ایل ایل بی پاس کرکے لکھنؤ میں وکالت شروع کی۔ 1921ء میں وہ پرتاب گڑھ چلے گئے جہاں 1927ء تک پریکٹس کرتے رہے۔ 1927ء کے بعد دوبارہ لکھنؤ میں سکونت اختیار کی۔ تقسیم کے بعد پاکستان تشریف لے آئے اور پھر ساری عمر اسی شہر میں گزاری۔ سید آل رضا کی شاعری کا آغاز پرتاب گڑھ کے قیام کے دوران ہوا۔ 1922ء میں باقاعدہ غزل گوئی شروع کی اور آرزو لکھنوی سے بذریعہ خط کتابت تلمذ حاصل کیا۔ 1929ء میں آل رضا کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’نوائے رضا‘‘ لکھنؤ سے اور 1959ء میں دوسرا مجموعہ ’’غزل معلی‘‘ کراچی سے شائع ہوا۔
اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام ترصلاحیتیں نوحہ و مرثیہ کے لئے وقف کردیں۔ 1939ء میں انہوں نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا ’’شہادت سے پہلے‘‘ دوسرا مرثیہ 1942ء میں جس کا عنوان تھا ’’شہادت کے بعد‘‘ یہ دونوں مرثیے 1944ء میں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد نور باغ کراچی میں سید آل رضا نے اپنا پہلا مرثیہ ’’شہادت سے پہلے‘‘ پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے۔ کراچی کی مجالس مرثیہ خوانی کے قیام میں سید آل رضا کی سعی کو بہت زیادہ دخل ہے۔ یکم مارچ 1978ء کو سید آل رضا وفات پاگئے۔ کراچی میں علی باغ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﺘﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﮐﯽ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ ﭘﮭﺮ ﻧﮧ ﻣﻠﯽ
ﺗﯿﺮﮮ ﮐﻮﭼﮯ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﺎﺋﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ
1939 انہوں نے پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا ”شہادت سے پہلے“ دوسرا مرثیہ 1942ءمیں جس کا عنوان تھا ”شہادت کے بعد“ یہ دونوں مرثیے 1944ءمیں لکھنؤ سے ایک ساتھ شائع ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد سید آل رضا نے پاکستان کے شہر کراچی کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ 1959 میں ان کا دوسرا مجموعہ ” غزل معلّیٰ ” کراچی سے شائع ہوا ۔اس کے بعد انہوں نے بہت کم غزلیں کہیں اور تمام تر توجہ نوحہ و مرثیہ کے لئے وقف کردی جس سے رسول اور اہلبیت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ان کے والہانہ عشق و محبت کی عکاسی ہوتی ہے۔ سید آل رضا نے نور باغ میں اپنا پہلا مرثیہ ”شہادت سے پہلے“ پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے۔ انہوں نے کراچی میں مجالس اور عزادری کے فروغ میں نمایا کردار ادا کیا۔
تصانیف
نوائے رضا (1929ء، شاعری)
غزل معلٰی (1959ء، شاعری)
سید آلِ رضازیدی صاحب نے 1939کو پہلا مرثیہ کہا جس کا عنوان تھا شہادت ۔دوسرا مرثیہ جس کا عنوان تھا شہادت کے بعد 1942میں لکھا ۔یہ دونوں مرثیے لکھنو سے 1944 میں شایع ہوئے ۔قیام پاکستان کے بعد نور باغ کراچی پاکستان میں سید آلِ رضا زیدی نے اپنا مرثیہ شہادت سے پہلے پڑھا اور اس طرح وہ پاکستان کے پہلے مرثیہ گو قرار پائے ۔کراچی پاکستان کی مجالس مرثیہ خوانی کے قیام میں سید آلِ رضازیدی صاحب کی سعی کا بہت دخل ہے ۔
محقیقین سید آل رضا کو پاکستان کا پہلا مرثیہ نگار قرار دیتے ہیں۔ البتہ اُن کے ہم عصر شعراء یاور عباس، نسیم امروہوی اور صبا اکبر آبادی نے بھی مرثیے کی دنیا میں گرانقدر خدمات انجام دی ہیں۔ پاکستان کے سیاسی و مذہبی حالات پاکستان میں مرثیہ نگاری پر بھی مرتب ہوئے اور یوں پاکستان میں فن مرثیہ نگاری کو خاطر خواہ فروغ حاصل نہ ہوسکا، لیکن اس کے باوجود پاکستان میں کئی نامور مرثیہ نگار منظر عام پر آئے ہیں۔
سید آلِ رضازیدی صاحب نے جلد ہی ملک گیر شہرت پالی مرثیہ خوانی کی ترویج میں کارہائے نمایاں انجام دئے ،بلکہ انہوں نے مرثیے میں ایک ایسا لحن اختیار کیا جو انکی شخصیت کے ساتھ ہی مخصوص ہوگیا۔
رہتی دنیا تک شب عاشور کی تاریک رات میں یہی سلام آخر پڑھا جائے گا ،خدا مغفرت کرے سلام لکھنے والے سید آلِ رضازیدی کی جنکے قلم نے یہ دکھ و مصائب اشک و غم میں ڈوباسلام لکھا ۔
سلام خاک نشینوں پہ سوگواروں کا
غریب دیتے ہیں پرسہ تمہارے پیاروں کا
سلام ان پر جنہیں شرم کھائے جاتی ہے
کھلے سروں پہ اسیری کی خاک آتی ہے
سلام اس پر جو زحمت کش سلاسل ہے
مصیبتوں میں امامت کی پہلی منزل ہے
سلام بھیجتے ہیں اپنی شاہزادی پر
تھے جن کو سونپ گئے مرتے وقت گھر سرور
مسافرت نے جسے بے بسی یہ دکھلائی
نثار کر دئیے بچے نہ بچ سکا بھائی
اسیر ہو کے جسے شامیوں کے نرغے میں
حسینیت ہے سکھانا علی کے لہجے میں
سکینہ بی بی تمہارے غلام حاضر ہیں
بجھے جو پیاس تو اشکوں کے جام حاضر ہیں
یہ سِن ، یہ حشر، یہ صدمے نئے نئے بی بی
کہاں پہ بیٹھی ہو خیمے تو جل گئے بی بی
پہاڑ رات بڑی دیر ہے سویرے میں
کہاں ہو شام غریباں کے گھپ اندھیرے میں
زمین گرم یتیمی کی سختیاں بی بی
وہ سینہ جس پہ کہ سوتی تھیں اب کہاں بی بی
جناب مادر بے شیر کو بھی سب کا سلام
عجیب وقت ہے کیا دیں تسلیوں کا پیام
ابھی کلیجے میں اک آگ سی لگی ہو گی
ابھی تو گود کی گرمی نہ کم ہوئی ہو گی
نہیں اندھیرے میں کچھ سوجھتا کہاں ڈھونڈیں
تمہارا چاند کہاں چھپ گیا کہاں ڈھونڈیں
نہ اس طرح کوئی ہستی ہری بھری اجڑی
تمہاری مانگ بھی اجڑی ہے
گود بھی اجڑی
نہیں لعینوں میں انساں کوئی خدا حافظ
درندے اور یہ بے وارثی خدا حافظ
سلام محسن اسلام خستہ تن لاشو
سلام تم پہ شہیدوں کے بے کفن لاشو
شریک حق درود و سلام پیغمبر
سلام سید لولاک کے لٹے گھر پر
سلام تم پہ رسول و بتول کے پیارو
سلام مہر امامت کے گرد سیارو
بچے تو اگلے برس ہم ہیں اور یہ غم پھر ہے
جو چل بسے تو یہ اپنا سلام آخر ہے
تحریر آفتاب احمد
کراچی پاکستان













