شام کے جنوب مغربی علاقے میں فائر بندی معاہدے کا آغاز گرنیچ کے معیاری وقت 9 بجے ہوا۔ جنگ سے تباہ حال ملک میں قیام امن کی یہ تازہ ترین عالمی کوشش ہے جس کی نگرانی امریکا، روس اور اردن کر رہے ہیں۔
شامی آبزرویٹری نے بتایا کہ فائر بندی معاہدے کے اطلاق کے بعد سے جنوب مغربی شام میں نہ تو فضائی حملے دیکھنے میں آئے اور نہ ہی علاقے سے جھڑپوں کی کوئی اطلاع ملی۔
انسانی حقوق کی رصدگاہ کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ’’دمشق کے معیاری وقت ظہر کے بعد امریکی، روسی اور اردنی سیز فائر معاہدے پر عمل شروع ہوتے ہی جنوبی شام میں سکون دیکھا جا رہا ہے۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’شامی فوج اور اپوزیشن گروپوں کے درمیان سینڈوچ بنے درعا، القنیطرہ اور السویداء کے اہم محاذوں پر اتوار کی صبح سے ہی لڑائی اور گولا باری بند رہی، تاہم ظہر سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے زیر نگین علاقے درعا پر شامی فوج نے اکا دکا راکٹ فائر کئے۔‘‘
اس قبل انسانی حقوق کے خلاف ورزیاں مانیٹر کرنے والی آبزرویٹری سے منسلک رضاکاروں نے بتایا بشار الاسد کے وفادار فوجیوں نے درعا گورنری پر تیس راکٹ اور دھماکا خیز مواد سے بھری بیرل بم داغے۔
آبزرویٹری کے مطابق سرکاری فوج کی جانب سے داغے جانے والے چھ راکٹ درعا کے مضافاتی علاقے تل المال میں گرے جبکہ دس راکٹ درعا کے شمال مشرقی حصے اللجاہ میں پھٹے۔ اسی اثنا میں شامی فوجی ہیلی کاپٹروں نے ایب اور اللجاہ کے بعض حصوں پر 16 بیرل بم گرائے۔
شام کے جن علاقوں میں آج سے جنگ بندی پر عمل شروع ہوا ہے ان میں درعا، القنیطرہ، السویداء شامل ہیں۔ کئی مہینوں کی خونریز لڑائی کے بعد فائر بندی کا معاہدہ امریکا، روس، اردن کے درمیان طے پایا ہے۔
معاہدے کے مطابق شام کے جنوبی علاقے میں کشیدگی کو کم کیا جائے گا۔ نیز باغی گروپوں اور شامی فوج سمیت اس کے حامی مسلح گروہ اپنے اپنے علاقوں میں لڑائی سے گریز کریں گے۔ شامی فوج یہ علاقہ خالی کر کے اپنی بیرکس میں واپس چلی جائے گی۔
فائر بندی معاہدے کے مطابق یہاں پر اردن سے واپس آنے والے شامی مہاجرین کو بسایا جائے گا اور انہیں انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ جنگ بندی کا معاہدہ خلاف ورزی سے محفوظ رہ سکے۔

SHARE

LEAVE A REPLY