جہان گم گشتہ کا عقاب،باب سوئم ۔ تیسری قسط

0
811

جرنیل اور اس کا بیٹا کرنیل کئی دنوں سے راستے پر تھے۔ وہ افواہ ایک مستقل شائبہ بن کر ان کے دماغوں میں تھی۔ اگر انھیں کسی گاوں میں خوش آمدید کہا جاتا تو وہ خوش ہو جاتے اور اگر کہا جاتا تم کون ہو تو ان کا وہ شائبہ بھوت بن کر سامنے آ کھڑا ہوتا۔ وہ بین الاقوامی سرحد پار کے پاکستانی علاقے میں داخل ہو چکے تھے۔ چونکہ نئی پالیسی کا پہلا سال تھا اور قبائلی علاقوں میں حد بندی کے نشانات بھی واضح نہ تھے اس لئے صورت حال گو مگو کا شکار تھی۔۔۔ایسا ہی حکومتی دفاتر میں بھی تھا۔ ہمیشہ کے خوش آمدید میں اب سوال پیدا ہونے شروع ہو گئے تھے۔ ان کی حیرانگی اور پریشانی میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔پیچھے رہ جانے والی کڑیاں کیسے سرحد پار کریں گی۔

ایک روز چند گھنٹے ایک بنچ پر انتظار کرنے کے بعد انھیں افسر سے ملنے کی اجازت دے دی گئی۔ وہ افسر سے مل کر اس مسلہ پر وضاحت چاھتے تھے۔ دونوں ہی سچ جاننا چاھتے تھے۔۔۔بھلے یہ سچ کتنا بھی کڑوا ہو۔ وہ اس افسر کو اور وہ افسر ان کو کئی برسوں سے جانتے پہچانتے تھے۔ افسر نے اٹھ کر باپ بیٹے کا استقبال کیا اور انھیں کرسیاں پیش کیں۔ ابتدائی کلمات کے بعد وہ انتظار کرتا رہا کہ اسے پہلے کی طرح خاص ملاقاتی کا درجہ ملے۔ لیکن افسر سر جھکاے کچھ لکھتا رہا۔۔۔سرد مہری سے۔ اس افسر کی خاموشی نے ان کے شائبہ کو کڑوے سچ میں بدل دیا۔ آخر کار اس نے براہ راست سوال کرنے کا سوچا۔

“صاحب مجھے بتائیے۔” اس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا۔ ” کیا آپ پاوندوں کے خلاف حکومتی احکامات کے متعلق کچھ جانتے ہیں؟” افسر نے کچھ دیر اس کا چہرہ دیکھا اور بولا۔ ” یہ بات درست ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سفری دستاویزات کے بغیر دونوں ملکوں کے درمیان سفر کی اجازت نہ ہو گی۔ میں جانتا ہوں یہ فیصلہ تمھیں براہ راست متاثر کرے گا۔ کریم خان! وقت بدل جاتا ہے۔ انسانوں کو بھی اس کے ساتھ ہی بدلنا پڑتا ہے۔ میں اور تم چاہ کر بھی اس فیصلہ کو نہیں بدل سکتے۔”

جرنیل اور اس کا بیٹا افسر کو غور سے دیکھ رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بیٹا بولا۔ ” ہمیں افغانستان سے مخصوص کیوں سمجھا جا رہا ھے؟ ہم لوگ چند ماہ ادھر چند ماہ ادھر گزارتے ہیں۔۔۔باقی وقت ہم سفر میں گزارتے ہیں۔” اس نے سوچتے ہوے کہا۔ ” ھم تو پاوندے ہیں ہمارا کوئی ملک نہیں۔۔۔سبھی ہمارے ملک ہیں۔۔۔یا پھر ہمارا کوئی بھی ملک نہیں۔”
افسر بولا۔ ” ہم ان سب نکات پر بحث کر چکے ہیں اور کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔”
جرنیل پھٹ پڑا۔ ” ہمارے جانوروں کا کیا ہو گا؟ ہمارے جانور چلتے رہتے ہیں تو زندہ رہتے ہیں۔ انھیں ایک جگہ روک دینے سے یا باندھ دینے کا مطلب ہے ان کی موت۔ ہمارا طرز زندگی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ آپ لوگ کیوں چاہتے ہیں کہ ہم بدل جائیں؟”

افسر اس کے جذبات کا مکمل ادراک رکھتا تھا۔ ” یہ بھی اور کئی اور دلائل بھی ہم دوستوں نے حکومت کو پیش کئے تھے لیکن حکومت ماننے کو تیار نہیں۔ حتمی فیصلہ ہو چکا ہے اور اب نہیں بدلے گا۔ آپ لوگوں کو یہ فیصلہ قبول کرنا ہو گا۔۔۔اور اس کے مطابق ہی رہنا ہو گا۔” افسر نے اپنی بات کر کے سر جھکا لیا۔

باپ بیٹا کرسیوں سے اٹھے۔ جرنیل نے اپنا چغہ اپنے کندھوں پر سیدھا کیا۔ وہ مڑا۔ اسکی آنکھیں پتھرائی ہوئی کیفیت میں دور کہیں دیکھ رہی تھیں۔ ” یہ کیسے ممکن ہے؟” وہ کسی سے مخاطب نہ تھا۔ بیٹا دو قدم کے فاصلے سے باپ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جیسے کے اس نے تا عمر کیا تھا۔ جرنیل نے ایک بار پھر چغہ اپنے کندھوں پر درست کیا۔۔۔اس کے بیٹے کے دل میں درد کا نہ دیکھا جا سکنے والا خنجر اتر گیا۔ اسے احساس ہو گیا کہ اس کے والد کا وہ چغہ، جو ہمیشہ عظمت اور فخر کی علامت رہا تھا، آج اس کے بوڑھے بدن پر ایک عام سا لباس رہ گیا تھا۔۔۔جو اس کے جذبات کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔
جرنیل نے پوچھا۔” کیا ہم داوا خان کو پیغام بھیج دیں؟ اور ہم اسے کیا بتائیں؟”
بیٹے نے جواب دیا۔ “صرف سچ بتائیں گے! ہم اس کی کیا مدد کرسکتے ہیں۔۔۔یہ بتا کر کہ اب اونٹ مرنے والے ہیں۔۔۔سینکڑوں، ہزاروں اونٹ مرنے والے ہیں۔ ہاں! داوا خان کو حقیقت کا علم ہونا چاہیے!”
وہ خاموشی سے چلتے رہے۔ سوچتے رہے کہ نئی پالیسی کس طرح ان پر اثر انداز ہو گی۔ ان کے لئے سفری دستاویزات اور شناختی کارڈ حاصل کرنا تقریبا ناممکن الحصول تھا۔ ان کے پاس جنم پتریاں نہ تھیں۔۔۔بلکہ کسی قسم کا بھی ثبوت نہ تھا کہ وہ کس سرزمین سے تھے۔ ان کے پاس ہیلتھ سرٹیفکٹ نہ تھے۔ وہ اپنے ہزاروں لاکھوں جانوروں کے کاغذات کیسے بنوائیں گے۔ نئے نظام کا مطلب تھا پاوندوں کے صدیوں پرانے طرز حیات کی یقینی موت۔

نائم خان بولا۔ ” ابا خوش ہو جاو!” زندگی بھر میں یہ پہلا موقع تھا کہ وہ اپنے والد سے اس طرح مخاطب ہوا تھا۔ ” ہم اس ملک کے دارالحکومت جائیں گے اور ان کے بادشاہ سے ملیں گے۔ وہ آپ کی بات ضرور سنے اور سمجھے گا۔” وہ رکا۔ ” ہاں! وہ یقیننا سنے گا۔” نائم خان کی آواز میں الم تھا۔۔۔التجا تھی۔ وہ یک دم تھک جانے والے بوڑھے بدن میں امید کی ایک نئی کرن جگانا چاہتا تھا۔

اس اثنا میں، فورٹ سنڈیمن میں، داوا خان جرنیل کے انتظار میں بیٹھارہا۔ اس کے یہ دن اچھے فائدہ مند گزرے۔ طوراق کا مسلہ حل ہو گیا۔ اس کے سوتیلے باپ نے جہیز کی اچھی خاصی رقم اسے ادا کر دی تھی۔ داوا خان کا پچھلے سال سے مقامی لوگوں پر قرض بھی بنا کسی تکلیف وصول ہو گیا تھا۔ مقامی منڈی میں خشک میوہ جات کی بکری بھی منافع بخش رہی تھی۔اسی دوران مزید تین کڑیاں فورٹ سنڈیمن پہنچ گئیں۔ اب ہر طرف بھیڑ، بکریوں اور اونٹوں کا ایک اژدھام مچ گیا تھا۔ جانوروں کی تعداد بڑھنے سے چراہ گاہیں تیزی سے ختم ہو رہی تھیں۔ داوا خان اب بے قرار ہونا شروع ہو گیا تھا۔ جانوروں کی چرائی پر آپسی جھگڑے ہونے لگ گئے تھے۔

جرنیل کی طرف سے بھیجا گیا پیامبر شام کے وقت فورٹ سنڈیمن پہنچا۔۔۔ایک گرد آلودہ بوڑھا شخص۔ دمے کے شدید مرض میں مبتلا سیٹیاں بجاتا سالخوردہ بڈھا لگ بھگ ویسی ہی زنگ خوردہ بس سے اترا اور بندے داوا خان کو بلانے دوڑ پڑے۔ جب وہ آ گیا تو اس نے جرنیل کا پیغام داوا خان کو جلدی جلدی۔۔۔دمے کے اثر میں۔۔۔تقریبا ہانپتے ہوے سنا دیا۔ اسے کہیں آگے جانا تھا اور بس اس کے انتظار میں ہارن پر ہارن دے رہی تھی۔ جب بس چلی گئی تو سب مرد واپس خیمہ گاہ کی طرف چل پڑے۔ رستے میں طوراق خان نے خاموشی توڑتے ہوے کہا۔ ” داوا خان تم نے محسوس کیا، جرنل خان نے کوئی واضع پیغام نہیں بھیجا کہ ہمیں اب کیا کرنا ہے؟ نہ کوئی واضع نصیحت نہ ہی احکامات۔”

طوراق تم سمجھو۔ اس نے ہر بات، ہر فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ کے مطابق چلنا ہو گا۔”
طوراق بولا۔ ” ایسا آج تک کبھی بھی نہیں ہوا۔ جرنیل ہر فیصلہ خود کیا کرتا تھا۔”
داوا خان نے جواب دیا۔ ” ہاں! مجھے معلوم ہے۔ لیکن اس بار اس نے فیصلہ میں ہمیں آزاد کر دیا ہے۔ او تو ہم مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ سب کو اطلاع کر دو رات کے کھانے کے بعد میٹنگ ہو گی۔”

جب وہ رات کے کھانے کے بعد جمع ہوے تو داوا خان نے جرنیل کا پیغام سب کو سنایا۔ ” میں نے جرنیل کے بھیجے ایک بھی لفظ سے نہ کم سنایا نہ ایک بھی لفظ زیادہ۔ اس کوئی ھدایات بھیجی ہیں نہ کوئی نصیحت۔ اس کی خواہش ہم سب پر واضع ہو جانی چاھئیے کہ اب حتمی فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے۔۔۔اور یہ کوئی آسان فیصلہ نہیں۔ ہم اس قصبے میں زائدالمعیاد رک چکے ہیں۔ یہاں کی گھاس بھی ختم ہونے پر پہنچ گئی ہے۔ ہمیں روانہ ہونا ہی ہے، بھلے آگے جائیں یا واپس افغانستان کی طرف۔ اگر ہم واپس افغانستان جاتے ہیں تو ہمیں بے کار ہی رہنا پڑے گا جب تک کہ پہاڑوں پر برف نہ پگھل جاے۔ سرما کے یہ مہینے ہمارے اور ہمارے جانوروں پر بہت بھاری پڑ جائیں گے۔ ہمیں مزدوری ملنی ہے نہ ہی تجارت اور نہ جانوروں کے لئے چراہ گاہیں یا چارہ۔”

” پھر ہم میں ایسے بھی ہوں گے کہ اب ہم کافی دور نکل آے ہیں اور یہ سفر رائگاں نہیں جانا چاھئیے۔ میدان ہم سے اب تھوڑے ہی دور رہ گئے ہیں۔ ایک بار ہم وہاں پہنچ گئے تو پھر ہم بکھر جائیں گے، تب ہمیں کوئی بھی اکٹھا کرکے واپس نہیں لا سکے گا۔ اب جو ایسا سوچ رہے ہیں، میرا ان کو مشورہ ہے، بہت غور و فکر کر لو۔ اب کے بعد آگے کا ہمارا سفر آسان نہیں ہو گا۔۔۔جیسے کہ ایک کسان اپنے کھیت میں جدھر مرضی بے فکری سے گھومتا پھرے۔۔۔یا آسمان پر عقاب ایک ہی دائرے میں چکر پھیریاں کھاتا پھرے۔ ہم آزاد نہیں گھوم سکیں گے۔ ہم دو طرف اینٹوں کی بنی دیواروں کے بیچ تنگ گلی میں پھنس جائیں گے۔ یا پھر ایک بے قصور بیچارے آدمی کی مانند ھوں گے جسے لوگ رات کے اندھیرے میں چور سمجھ کر پیچھا کریں گے۔۔۔اس کی ایک نہ سنیں۔۔۔اور اسے کسی بند گلی میں گھیر کر مار دیں۔ یہ ہے اب تک کی صورت حال۔ ہمارے اور میدانوں کے درمیان دو قلعے مزید ہیں۔ ان کے پاس واضع احکامات ہونگے کہ وہ ہمیں روکیں۔۔۔اور ان کا کام ہمیں روکنا ہی ہو گا۔ اب تم لوگ کیا کہتے ہو؟”

بلاشبہ ان پاوندوں کے لئے دو مواقع موجود تھے۔ لیکن سب کے لئے پہلا موقع بے کار تھا۔ کہتے ہیں کہ امید کوئی جانور نہیں جو اچانک مر جاے۔۔۔یہ ایک پودے کی طرح اہستہ اہستہ مرجھاتی ہے۔ افغانستان واپس مڑ جانے کے حق میں کوئی آواز بلند نہ ہوئی۔ اگر کسی کو کوئی شک تھا بھی تو اس نے اسے اپنے من میں ہی رکھا۔
اس کے بعد آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
غلام حسین غازی
جاری ہے

SHARE

LEAVE A REPLY