اسلام اور حقوق العباد (36) شمس جیلانی

0
121

ہم گذشتہ مضمون میں یہاں تک پہونچے تھے کہ اگر کوئی گھر کا کمانے والا اپنا دن ہنسی خوشی اورمسکراہٹ کے ساتھ شروع کرے تو چاروں طرف سے اس پر اورا س کے گھر پر اللہ سبحانہ کی طرف سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔اب آگے بڑھتے ہیں کہ اس نے ا گر پوری ایمانداری سے کام کرتے ہوئے وقت حلال روزی کمانے میں صرف کیا ہے جو لفظ “احسان“ تقاضہ تھا تو جس منہ میں بھی وہ نوالا جائے گااور جہاں بھی وہ خرچ کریگا سوتے وقت تک نیکیاں سمیٹتا رہے گا۔ چاہے وہ کھاناخود کھایا ہواہلِ خانہ کوکھلایاہویاانہوں نے خود اس میں سے نکال کر کھایاہو، فقیر کو دیا ہو، گھر آئے ہوئے مہمان کو کھلایاہو، مسافر کو مسجد میں جاکر کھلا یا ہو۔ یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو ہے ہی، لیکن جتنا اس میں اللہ سبحانہ تعالیٰ کے ساتھ خلوص زیادہ ہوگا تو سات سو اور چودہ سو گنا تک اور بے حساب بھی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ یہ سارے وعدے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے یاتو خود فرمائے ہیں یا اس کے کی طرف سے اس کے رسول (ص) نے فرمائے ہیں۔ جن کے بارے میں سورہ نمبر 53آیت نمبر 3اور4 میں اللہ سبحنہ تعالیٰ کافرمان ہے کہ“ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں فرماتے، یہ وہی کہتے ہیں جوان کی طرف وحی کیا جاتا ہے“ اس کا دارومدار کمانے اور خرچ کرنے والے کے مال اوراس کی نیت پر ہے اگر مال حلال نہیں ہے تو صفر بھی ہوسکتا ہے اورباعثِ معصیت بھی ہوسکتا ہے کہ کسی متقی یا معصوم کو حرام کمائی کھلادی۔ یہاں شاید چودہ سو گنااجنبی لگے ۔اس کی سند یہ ہے کہ ضرورتمند پر خرچ کرنے پر سات سو گنا اور بے غیرِ حساب تک ثواب مل سکتا ہے اور اگر اس میں صلہ رحمی بھی شامل ہے اورکسی رشتہ دار پر خرچ کر رہے ہیں یعنی جس پر خرچ کر رہے ہیں وہ آپکا قریبی عزیز یارشتہ دار بھی ہے۔ جس میں بیوی کا اپنی آمدنی کو اپنی خوشی سے گھر میں خرچ کرنا بھی شامل ہے تو ثواب دگنا ہے۔ اس کی سند یہ ہے کہ حضور(ص)کی یہ حدیث بہت مشہور ہے؟ حضرت عبدا للہ بن مسعودؓ کی بیگم صاحبہ جن کانام حضرت زینبؓ بنت ابی معاویہ تھا انہوں نے اپنے شوہر کے سامنے اس بات پر تشویش ظاہر کی جو کہ کئی ہنر جانتی تھیں کہ میں کل کے حضور (ص) کے اس خطبہ کوسن کر بہت رنجیدہ ہوئی جس میں کہ حضور (ص) نے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کی بڑی فضیلت بیان فرمائی تھی۔جبکہ میں اپنی ساری آمدنی آ پ اور آپ کی اولاد پر خرچ کردیتی ہوں، میرے پاس کچھ بچتا ہی نہیں ہے جو میں راہِ خد ا میں دوں؟ کیونکہ آپ توکچھ کرتے ہی نہیں ہیں سوائے حضور(ص) سے علم حاصل کرنے اور لوگوں میں علم بانٹنے کے سلسلہ میں بارگاہ نبوت(ص) میں مصروف رہنے کے!حضرت ا بنِ مسعود (ص) بہت ہی متوکل انسان تھے انہوں نے فرمایا کہ آپ کل سے کچھ گھر پرنہ خرچ کریں اور سب خیرات کردیاکریں!
میرا اور میرے بچوں کا اللہ مالک ہے۔ انہوں نے فرمایا نہیں میں اپنے طور پر یہ فیصلہ نہیں کرسکتی جبکہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول (ص)موجود ہیں۔ ایسا کریں کہ آپ حضور(ص) سے معلوم کر کے آئیں۔ انہوں نے فرمایا کہ پھر معلوم کرنے بھی آپ خود ہی جائیں میں نہیں جاتا۔ وہ تشریف لے گئیں اسوقت حضور (ص) حجرہ صدیقہؓ میں آرام فرما رہے تھے۔ یہ مسجد میں انتظار فرمانے لگیں کہ اتنے میں حضرت بلال کسی کام سے باہر تشریف لائے توایک اور انصاری خاتون یہ ہی مسئلہ پوچھنے کے لیے تشریف لے آئیں اور ان سے دونوں نے درخواست کی ہمارے اس سوال کا جواب حضور(ص) سے پوچھ کر ہمیں بتادیں ! وہ اندرتشریف لے گئے اور واپس آکر بتایا کہ حضور(ص) فرماتے ہیں کہ“ اس صورت میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا دہرا ثواب ملے گا ایک تو راہِ اللہ میں خرچ کرنے کا اور دوسراپنوں پر خرچ کرنے کا“ یہ جواب سن کر وہ خوشی خوشی واپس چلی گئیں ۔
جبکہ را ہِ خدا میں خرچ کرنے کاطریقہ کار حضور(ص) نے یہ تعلیم فرمایا ہے کہ“ خرچ کرتے ہوئے یہ دیکھو کہ کون کتنا قریب ہے‘ مثلاً سگا بھائی یا بہن، اگر ضرورت مند ہے تو پہلی ترجیح اسکو ہے۔ یہاں شاید آپ الجھیں کہ پہلے ماں اور باپ ہونا چاہیئے تھے تو ؑ عرض ہے کہ خود پر اپنے بچوں پر اوروالدین پر اپنی پاک کمائی خرچ کرنا تو فرض ہے ۔ بقیہ رشتہ داروں کی کفالت کرنا اولین ترجیح ہے۔ اور رشتوں میں یہ دیکھنا ہے کون کتنا زیادہ ضرورت مند اور پھر کتنا قریب ہے۔ اس کے بعد ہمسائیوں کانمبر آتا ہے۔ تو سب سے پہلے پڑوسی کا حق ہے۔ پھرا س کے بعد والے ہمسایہ کا۔ اور یہ سلسلہ چالیس گھر دور تک پہونچتا ہے چاروں طرف پہونچتا ہے۔ (باقی آئندہ)

SHARE

LEAVE A REPLY